Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۰؍میں سے۷؍ نوجوانوں کو پہلی نوکری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا: ’اِنڈیڈ‘ رپورٹ

Updated: June 05, 2026, 1:01 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں نوجوانوں کیلئے پہلی نوکری حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ تجربے کی شرط اور مواقع کی کمی بتائی جا رہی ہے۔ Indeed کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر جاب سیکرز کو نہ صرف شارٹ لسٹ ہونے میں مشکل پیش آتی ہے بلکہ درخواستوں کے جواب بھی بہت کم ملتے ہیں۔

61 percent of candidates do not receive responses to job applications. Photo: INN
۶۱؍فیصد امیدواروں کو جاب اپلیکیشنز کے جواب نہیں ملتے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان میں نوجوان ملازمت کے متلاشی افراد کو اپنی پہلی نوکری حاصل کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے، اور۱۰؍ میں سے۷؍ افراد کے مطابق آج کے دور میں ورک فورس میں داخل ہونا۳؍ سے۵؍ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ یہ بات’’ Indeed ‘‘کی’’Fresher Hiring Report‘‘میں سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی سطح (entry-level) کی نوکریوں کیلئےتجربے کی بڑھتی ہوئی شرط، انٹرن شپ کے محدود مواقع، اور ملازمت دینے والوں کی توجہ حاصل کرنے میں مشکلات اہم مسائل ہیں۔ ۷۲؍ فیصد افراد نے کہا کہ ابتدائی نوکریوں کیلئے بھی پہلے سے تجربہ مانگا جاتا ہے، جبکہ۶۱؍ فیصد نے بتایا کہ انہیں درخواست دینے کے بعد اکثر کوئی جواب نہیں ملتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۱۴؍ دن بعد معلوم ہوا کہ لڑکی نے نیٹ پیپر کے سبب خود کشی کی تھی

مطالعے کے مطابق، اگرچہ نوجوان امیدوار سیکھنے اور طویل مدتی کر یئر کے بہتر انتخاب کو ترجیح دیتے ہیں لیکن بہت سے افراد ملازمت کے میدان میں داخل ہوتے وقت اپنے اہداف اور ترجیحات کے مطابق نوکری کی بجائے مجبوریوں کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ صرف ۱۴؍ فیصد افراد نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ان کی پہلی نوکری ان کی پسندیدہ ملازمت، کمپنی اور مقام کے مطابق ہوگی، جبکہ۴۳؍ فیصد نے بتایا کہ مالی دباؤ یا مواقع کی کمی ان کے کریئر کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ریزرویشن کی ذیلی درجہ بندی کے خلاف اکولہ میں امبیڈکر وادیوں کا مورچہ

تجربے کا تضاد (Experience Paradox)
رپورٹ میں ایک بڑا مسئلہ یہ سامنے آیا کہ ایسے مواقع کی کمی ہے جو نوجوانوں کو ملازمت کے بازار میں داخل ہونے سے پہلے تجربہ حاصل کرنے میں مدد دے سکیں۔ صرف۲۰؍فیصد افراد کو دورانِ تعلیم معاوضہ والی انٹرن شپ تک رسائی حاصل تھی، جبکہ۱۸؍ فیصد نے بتایا کہ انہیں انٹرن شپ، پروجیکٹس، پلیسمنٹ یا فری لانس مواقع تک کوئی رسائی نہیں تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ تر نوجوانوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ نوکری کیلئے درخواست دینا نہیں بلکہ سلیکشن کے عمل میں نظر آنا ہے۔ تقریباً۴۹؍ فیصد نے بتایا کہ شارٹ لسٹ ہونا ان کا سب سے بڑا چیلنج ہے، جبکہ۶۱؍ فیصد نے کہا کہ انہیں اکثر یا تقریباً کبھی بھی درخواستوں کا جواب نہیں ملتا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ طویل جاب سرچ کے جذباتی اورکریئر پر اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ تقریباً۶۴؍ فیصد افراد نے کہا کہ بار بار درخواستیں اور مسترد ہونا ان کے اعتماد یا حوصلے کو کم کرتا ہے، جبکہ صرف۲۰؍ فیصد نے کہا کہ وہ اس وقت اپنے کریئر کی درست سمت میں جا رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہوٹل آتشزدگی: ایک ہی خاندان کے ۸؍ افراد لقمہ اجل بن گئے

ردعمل اور تبدیلی کی ضرورت
روہن سلویسٹر، جو’’ انڈیڈ‘‘ میں ٹیلنٹ اسٹریٹیجی ایڈوائزر ہیں، نے کہا کہ بہت سے نوجوانوں کیلئے پہلی نوکری اب کالج سےکریئر تک کا سادہ سفر نہیں رہی۔ یہ ایک طویل اور غیر یقینی مرحلہ بن گیا ہے جس میں مسلسل درخواستیں، تاخیر سے جواب اور سمجھوتے کا بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہے۔ ان کے مطابق، وہ ادارے جو نئے امیدواروں کیلئے واضح راستے بناتے ہیں، ان کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں، وہ طویل مدت میں بہتر ٹیلنٹ حاصل کر سکیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK