Inquilab Logo Happiest Places to Work

طویل عمر پانے کا راز؟ ۱۰۰؍ سال کی عمر سے زائد تین بہنیں تحقیق کا حصہ

Updated: June 26, 2026, 9:42 PM IST | Brasillia

برازیل کی تین بہنوں نے زندہ بہن بھائیوں کی سب سے زیادہ مشترکہ عمر کا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر کے سائنس دانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ساؤ پالو یونیورسٹی کا ڈی این اے لونگیوو (DNA Longevo) پروجیکٹ ان بہنوں سمیت ۱۰۰؍ سال سے زائد عمر پار کرنے والے افراد کا مطالعہ کر رہا ہے تاکہ ایسے جینیاتی عوامل کی نشاندہی کی جا سکے جو غیر معمولی طویل عمر، بہتر جسمانی صحت اور ذہنی چستی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برازیل کی تین بہنیں طویل عمر کے راز پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے لیے امید کی نئی کرن بن گئی ہیں، جب انہوں نے زندہ بہن بھائیوں کی سب سے زیادہ مشترکہ عمر کا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔ ساؤ پالو یونیورسٹی کی ممتاز جینیاتی ماہر مایانا زٹز (Mayana Zatz) کی سربراہی میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم DNA Longevo Project کے تحت عمر رسیدگی کے حیاتیاتی اسباب پر تحقیق کر رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان بہنوں کے جینیاتی اور طبی مطالعے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ بعض افراد انتہائی زیادہ عمر میں بھی جسمانی اور ذہنی طور پر کیوں مستحکم رہتے ہیں۔ محققین کے مطابق اس تحقیق کا بنیادی مقصد ایسے حفاظتی جینز (Protective Genes) کی شناخت کرنا ہے جو جسم کو بڑھاپے کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ۱۰۰؍ برس سے زائد اور ۱۱۰؍ برس سے زائد عمر رکھنے والے سپر سینٹینیرینز (Supercentenarians) کا مطالعہ کیا جا رہا ہے اور ان کا موازنہ ایسے افراد سے کیا جا رہا ہے جن میں عمر سے متعلق بیماریاں نسبتاً کم عمری میں پیدا ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ساتھ تنازع کے بعد میلونی تعلقات معمول پر لانے کی خواہشمند

مایانا زٹز نے کہا کہ ’’ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے ہم حفاظتی جینز تلاش کرتے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ ایسے بہت سے جینز موجود ہیں۔ جتنے زیادہ ایسے افراد ہمارے مطالعے میں شامل ہوں گے جو ۱۰۰؍ برس سے زیادہ عمر پاتے ہیں، خصوصاً ایسے خاندان جن میں ایک سے زیادہ صدی پار افراد موجود ہوں، ہماری تحقیق اتنی ہی زیادہ درست اور مؤثر ہوگی۔‘‘ ان تین بہنوں کی شناخت LongeviQuest نامی ادارے نے کی، جو دنیا بھر میں عمر کے ریکارڈ کی تصدیق کرتا ہے اور گنیز ورلڈ ریکارڈز کا شراکت دار بھی ہے۔ تینوں بہنوں کے نام ہیں: 
لیویٹا ڈی ڈیوس نونس (۱۰۹؍ سال)
زورائڈ ڈی ڈیوس موٹا (۱۰۴؍ سال) 
زولینا ڈی ڈیوس نونس (۱۰۳؍ سال)
تینوں کا تعلق برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو سے ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس عمر تک پہنچنے کے بعد جینیاتی عوامل کا کردار ماحولیاتی عوامل کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ LongeviQuest کے چیف ایگزیکٹو بین میئرز نے کہا کہ ’’جب تین بہنیں اس غیر معمولی عمر تک پہنچتی ہیں تو واضح طور پر ایک مضبوط جینیاتی عنصر موجود ہوتا ہے۔ تاہم چونکہ وہ ایک دوسرے کے قریب رہتی ہیں، اس لیے انہیں مضبوط خاندانی اور سماجی تعاون بھی حاصل ہے، جو یقیناً اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘‘ تینوں بہنوں نے اپنی طویل عمر کا راز کسی خفیہ نسخے کے بجائے سادہ اور صحت مند طرزِ زندگی کو قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: شمال مشرقی ساحل کے قریب طاقتور زلزلہ، سونامی کا خطرہ یا کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں

۱۰۳؍ سالہ زولینا نے اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم دریاؤں میں تیراکی کرتے تھے، مچھلیاں پکڑتے تھے۔ ہر چیز تازہ ہوتی تھی، ہمارے پاس ریفریجریٹر بھی نہیں تھا۔‘‘ ۱۰۴؍ سالہ زورائڈ نے کہا کہ ’’بچپن میں ماں کا دودھ انتہائی اہم ہوتا ہے۔‘‘ ہر بہن نے اپنی زندگی میں الگ راستہ اختیار کیا۔ ۱۰۹؍ سالہ لیویٹا نے ابتدا میں دستکاری کے شعبے میں کام کیا، بعد میں ایک ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے وابستہ ہو گئیں۔ زورائڈ نے نرسنگ کو پیشہ بنایا اور ساتھ ہی اپنے پانچ بچوں کی پرورش کی۔ زولینا نے اپنی زندگی اپنے چھ بچوں اور خاندان کی دیکھ بھال کے لیے وقف کر دی۔ لیویٹا نے اپنی زندگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا بچپن اور جوانی بہت اچھی گزری۔ مجھے کسی چیز کی شکایت نہیں۔‘‘
سائنسداں اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کون سے جینیاتی عوامل دل کی صحت، عضلاتی طاقت اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھاپے تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ تحقیق سے وابستہ محقق جواؤ پاؤلو گیلہرم نے کہا کہ ’’ہمارا مقصد ۵۰۰؍ ایسے افراد تک پہنچنا ہے جن کی عمریں ۱۰۰؍ سال سے زائد ہوںتاکہ ہم طویل عمر سے متعلق مزید حتمی سائنسی نتائج اخذ کر سکیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: دو طاقتور زلزلوں نے تباہی مچا دی، ۳۲؍ ہلاکتیں، ۷۰۰؍ سے زائد افراد زخمی

DNA Longevo Project کی اہم پیش رفت
ساؤ پالو یونیورسٹی میں مایانا زٹز کی سربراہی میں جاری DNA Longevo Project اب تک غیر معمولی طویل العمر افراد کا ایک منفرد ڈیٹا بیس تیار کر چکا ہے۔ ۱۰۰؍ سال یا اس سے زائد عمر کے ۱۶۰؍ سے زیادہ افراد (Centenarians) تحقیق کا حصہ بن چکے ہیں۔ ۲۰؍ سپر سینٹینیرینز ( ۱۱۰؍ سال یا اس سے زائد عمر رکھنے والے افراد) کی بھی تصدیق اور شمولیت ہو چکی ہے۔ تحقیقی ٹیم کا مقصد کم از کم ۵۰۰؍ افراد کو تحقیق میں شامل کرنا ہے تاکہ جینیاتی تحفظ فراہم کرنے والے عوامل کے بارے میں زیادہ مضبوط اور حتمی نتائج اخذ کیے جا سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK