کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اولیور بلوم ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جو تقریباً ایک لاکھ ملازمین کی ملازمتوں کو متاثر کر سکتا ہے، جس میں جرمنی میں کئی فیکٹریوں کی بندش اور سرمایہ کاری کے اخراجات میں نمایاں کمی شامل ہے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 10:11 PM IST | New Delhi
کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اولیور بلوم ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جو تقریباً ایک لاکھ ملازمین کی ملازمتوں کو متاثر کر سکتا ہے، جس میں جرمنی میں کئی فیکٹریوں کی بندش اور سرمایہ کاری کے اخراجات میں نمایاں کمی شامل ہے۔
جرمن کار ساز کمپنی فاکس ویگن گروپ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی تنظیم نو کی تیاری کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) اولیور بلوم ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جو تقریباً ایک لاکھ ملازمین کی ملازمتوں کو متاثر کر سکتا ہے، جس میں جرمنی میں کئی فیکٹریوں کی بندش اور سرمایہ کاری کے اخراجات میں نمایاں کمی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:منگلورو میں مداح کے ساتھ شاہ رخ خان کا مزاحیہ جواب دل جیت گیا
منیجر میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ مجوزہ منصوبہ ابھی بورڈ کی منظوری کا منتظر ہے۔ منصوبے کے تحت، اگلے پانچ سالوں میں فاکس ویگن کی سرمایہ کاری میں ۱۵؍ فیصد تک کمی کی جا سکتی ہے، جس سے کمپنی کی کل سرمایہ کاری صرف ۱۳۰؍ بلین یورو تک پہنچ جائے گی۔ تنظیم نو کے حصے کے طور پر، فاکس ویگن اپنے بنیادی مسافر کاروں کے کاروبار اور پرزہ جات کے کاروبار کو علیحدہ، خودمختار اداروں کے طور پر چلانے کے امکانات کو بھی تلاش کر رہا ہے۔ کمپنی کا خیال ہے کہ یہ آپریشن کو آسان بنائے گا اور کارکردگی میں اضافہ کرے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی کو عالمی آٹوموبائل مارکیٹ میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
فاکس ویگن اس وقت دباؤ میں ہے۔ امریکی ٹیرف، چینی الیکٹرک گاڑیوں کی کمپنیوں سے مسابقت میں اضافہ، اور الیکٹرک گاڑیوں میں منتقلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے کمپنی کی مشکلات کو بڑھا دیا ہے۔ کمپنی کے سی ای او اولیور بلوم نے بارہا کہا ہے کہ فاکس ویگن کو اپنے بنیادی آٹوموبائل کاروبار پر زیادہ توجہ دینی چاہیے اور منافع میں اضافے کے لیے اہم تبدیلیاں کرنا چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق گاڑیوں کے موجودہ پروگرامز کی تکمیل کے بعد، کمپنی فاکس ویگن کے ہینوور، زویکاؤ اور ایمڈن کے پلانٹس کے ساتھ ساتھ آڈی کے نیکرسلم پلانٹ میں پیداوار بند کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
نیا منصوبہ تقریباً ۵۰؍ہزارملازمتوں کو کم کرنے کے کمپنی کے پہلے اعلان کردہ منصوبے سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ اگر لاگو ہوتا ہے، تو یہ تجویز فاکس ویگن کی عالمی افرادی قوت کا تقریباً ۱۵؍ فیصد متاثر کرے گی، جسے کمپنی کی تاریخ میں تنظیم نو کے سب سے بڑے اقدامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کیپ ورڈے ورلڈ کپ کے اپنے خوابوں کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم
فاکس ویگن نے رپورٹ میں سامنے آنے والی اندرونی تجاویز پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ تاہم، کمپنی نے تسلیم کیا کہ مسابقتی رہنے کے لیے پورے گروپ میں بڑی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ دریں اثنا، کمپنی کی ورکس کونسل اور جرمنی کی طاقتور لیبر یونین، آئی جی میٹل نے خبردار کیا ہے کہ فیکٹریوں کو بند کرنے یا بڑے پیمانے پر چھٹنی کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ اگر کمپنی اس منصوبے کو آگے بڑھاتی ہے تو اسے مزدور یونینوں کے ساتھ بڑے تنازع کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔