Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ایس آئی آر میں اپنا ووٹ کھویا اب پاسپورٹ سے بھی محروم ہوں‘‘

Updated: June 29, 2026, 11:56 AM IST | Kolkata

مشہور انگریزی اخبار’دی ٹیلی گراف‘ کے سابق ایڈیٹر آر راج گوپال بھی ’ایس آئی آر‘ کے متاثرین میں شامل ہیں جن کا نام ’’منطقی تضاد‘‘ کے نام پر کٹ گیا، ان کی رُوداد ایس آئی آر کی قہر سامانیوں کو بیان کرتی ہے، ان ہی کی زبان میں  پڑھیں۔

R. Rajagopal. Photo: INN
آر راج گوپال۔ تصویر: آئی این این

’’اس سال مارچ میں کولکاتا کے بالی گنج اسمبلی حلقے کی ووٹر  لسٹ سے میرا نام حذف کر دیا گیا۔ بظاہر اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ  ایس آئی آر  کے دوران ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں نہ میرا نام ملا اور نہ ہی میرے آنجہانی والد کا۔ میرے والد جو گاندھیائی نظریات کے حامل ریٹائرڈ پروفیسر تھے  اور گاندھی اسمارک ندھی کی کیرالا اکائی  کے سیکریٹری  رہ چکے تھے، کا  انتقال۲۰۱۶ء میں ہوا۔ آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اتنے ذمہ دار ووٹر کا نام ووٹرلسٹ میں کیسے موجود نہیں تھا۔

مغربی بنگال کے تقریباً۲۷؍لاکھ دیگر شہریوں کی طرح مجھے بھی’’منطقی تضاد‘‘ کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔ میں نے اپنا میٹرک کا سرٹیفکیٹ بھی جمع کرایا  لیکن  نام خارج کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ۔ میری اپیل اب سپریم کورٹ کی ہدایات پر قائم کئے گئے ٹریبونل میں زیر سماعت ہے۔ بہرحال نتیجہ یہ ہوا کہ میں حالیہ  اسمبلی الیکشن میں ووٹ نہیں ڈال سکا۔

یہ بھی پڑھئے: نوآبادیاتی دور کے جیل نظام کا خاتمہ، ریاستی حکومت نے تمام ۱۱۶؍ ذیلی جیلوں کو بند کیا

اس سے بھی زیادہ پریشان کن معاملہ میرے پاسپورٹ کی تجدید کا ہے۔ اس کیلئے میں نے۱۹؍ مارچ۲۶ءکو بایومیٹرک کی تمام کارروائی مکمل کر لی تھی لیکن پولیس ویری فکیشن   میں مجھے اس  لئے کلین چٹ نہیں ملی کہ میرا نام اب  ووٹر  لسٹ میں موجود نہیں ہے۔ میں نے کئی متبادل دستاویزات جمع کرائے، مگر  انہیں ناکافی قرار دیاگیا۔ آج(۲۷؍  جون۲۶ءکو ) بایومیٹرک کی کارروائی مکمل کئے ہوئے مجھے ۱۰۰؍ دن  مکمل ہوگئے ۔ گزشتہ ہفتے کولکاتا کی پاسپورٹ اتھاریٹی نے  مجھے باضابطہ طور پر اطلاع دی کہ  پولیس نے منفی رپورٹ بھیجی ہے کیونکہ میرا نام ووٹر لسٹ سے کٹ  چکا ہے۔ مجھے فوری طور پر علاقائی پاسپورٹ دفتر، کولکاتا، میں حاضر ہونے کو کہا گیا، لیکن جب میں نے ملاقات کا وقت مانگا  کیوں کہ اس کے بغیر دفتر میں داخل ہونا بھی مشکل ہے، تو مجھے۱۷؍ جولائی۲۶ء کی تاریخ دی گئی۔

اس دوران میری بیٹی جو کیلیفورنیا میں صحافی ہے، کی ۱۷؍  اپریل کو سان فرانسسکو میں شادی  ہوگئی اور پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے میں اس  میں شرکت نہیں کر سکا  حالانکہ میرے پاس امریکہ کا ۱۰؍ سال کا ویزا موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’پربھنی میں کبھی کوئی غدار کامیاب نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوسکے گا‘‘

عملی طور پر میں  غیر یقینی صورتحال کا سامنا کررہا ہوں اور آج کل میرا زیادہ تر وقت  دہائیوں پرانے خاندانی ریکارڈ اور دستاویز دوبارہ مجتمع کرنے میں گزر رہا ہے۔میرا ہر دن ووٹنگ کے حق سے متعلق داخل کردہ  اپیل  کی پیش رفت اور  پاسپورٹ کی درخواست کا اسٹیٹس چیک کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ میں  نے اس کالج کو خط لکھا  جہاں  سے میری والدہ نے۱۹۶۵ء میں  تعلیم مکمل کی  اور اس اسکول سے بھی رابطہ کیا جہاں سے انہوں نے۱۹۵۹ء میں تعلیم  حاصل کی تھی  تاکہ کوئی ایسی دستاویز مل جائے  جو ثابت کرے کہ وہ واقعی وہاں موجود تھیں۔ اسکول نے بہت تعاون کیا، لیکن کالج نے نہیں کیا۔ اسی طرح میں کیرالا میں شراب بندی مہم چلانے والے کارکنوں سے بھی رابطہ  میں ہوں کہ شاید کہیں کوئی  دستاویز یا اخبار کی کترن مل جائے  جس  میں   غیر قانونی شراب فروشی اور فرقہ واریت کے خلاف مہم میں میرے والد کی  شرکت کی تصویر یا ذکر ہو۔

  میرا مقصد خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرنا نہیں  ہے۔ میں صرف یہ  بتانا چاہتا ہوںکہ اگر ایک ایسا شخص جس نے پوری زندگی صحافت میں گزاری ہے  اور ایک نسبتاً معروف اخبار کا ایڈیٹر رہا ہے  وہ  اس طرح کی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے تو پھر معاشرے کے واقعی محروم طبقات کن حالات سے گزرتے ہوں گے، اس کا اندازہ ہی  لگایا جا سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK