Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایل پی جی کی پیداوار میں کمی، درآمد بھی آدھی ہو گئی

Updated: April 17, 2026, 4:00 PM IST | Mumbai

گھریلو پیداوار میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں تقریباً ۱۰؍ فیصد تک کمی ، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ۔

A long queue is seen for LPG cylinders in Mumbai. (Photo: PTI)
ممبئی میں ایل پی جی سلنڈر کیلئے طویل قطار نظر آرہی ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اپریل کے مہینے میں ہندوستان کی ’لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس‘( ایل پی جی) کی سپلائی دباؤ میں ہے۔ فروری کے مقابلے میں درآمدات تقریباً آدھی رہ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ گھریلو پیداوار میں بھی پچھلے مہینے کے مقابلے میں تقریباً۱۰؍ فیصد کمی آئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب حالات مزید مشکل ہو گئے ہیں۔ انرجی شپمنٹس میں رکاوٹ آ رہی ہے اور سپلائی کم ہوتی جا رہی ہے۔

ایل پی جی کی درآمد میں کمی

یکم اپریل سے۱۴؍ اپریل کے درمیان ہندوستان نے روزانہ صرف۳۷؍ ہزارٹن ایل پی جی درآمد کی جبکہ فروری میں یہ مقدار روزانہ ۷۳؍ ہزار ٹن تھی۔ اس دوران امریکہ سب سے بڑا سپلائر بن کر سامنے آیا ہے لیکن ہندوستان اب بھی اپنی آدھی سے زیادہ درآمدات کے لئے خلیجی ممالک پر منحصر ہے۔چونکہ دنیا کی زیادہ تر ایل پی جی طویل مدتی معاہدوں کے تحت پہلے سے بک ہوتی ہے اور فوری خریداری کے لئے بہت کم مقدار دستیاب ہوتی ہے، اس لئے ہندوستان کے لئے سپلائی کو تیزی سے بڑھانا مشکل ہو رہا ہے۔ ادھر مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خبروں کے باوجود اس بحران کو کم کرنے میں ابھی تک کوئی خاص مدد نہیں ملی۔

یہ بھی پڑھئے: تھوک مہنگائی ۳۸؍ مہینوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

سپلائی کب تک بحال ہوگی؟

جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہےکہ ہندوستان اپنی ایل پی جی سپلائی کے لئے مغربی ایشیا پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور امریکہ-اسرائیل کی فوجی کارروائی کے جواب میں ایران کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی وجہ سے سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

منی کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:’’متاثر سپلائرز سے موصولہ معلومات کے مطابق سپلائی کی بحالی میں کم از کم۳؍ سال اور شاید اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: انکم ٹیکس محکمہ کے ملازمین کا احتجاج کا انتباہ

افسر نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے درآمدی خطرات اور لاگت کے دباؤ کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ہندوستان اب بھی اپنی کل ایل پی جی کھپت کا تقریباً۶۰؍ فیصد درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے اس سپلائی کا تقریباً۹۰؍ فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا تھا۔۲۴؍ مارچ تک خلیجی ممالک سے ہونے والی درآمدات کا حصہ کم ہو کر۵۵؍ فیصد رہ گیا جو سپلائی میں رکاوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK