Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایل پی جی کی کمی سے کئی بیکریوں کے بند ہونے کی نوبت آگئی

Updated: March 14, 2026, 11:45 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

پاؤ کی قلت کا اندیشہ۔ بہت سے بیکری مالکان نے کہا کہ بلیک میں بھی گیس سلنڈر نہیں مل رہا ہے۔ حکومت کے پاس ایمرجنسی حالات کیلئے کوئی پالیسی نہ ہونے سے برہمی۔

Bakery owners are facing difficulties in making pav and other items due to lack of gas cylinders. Photo: INN
گیس سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے بیکری مالکان کو پاؤ اور دیگر اشیاء بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تصویر: آئی این این

ایران- امریکہ- سرائیل جنگ کا اثر اب ممبئی کے گھروں میں بھی محسوس ہونے لگا ہے۔ ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہونے سے متعدد بیکریاں بند ہوگئی ہیں تو کئی بیکریوں کےبند ہونے کی نوبت آگئی ہے جس سے بڑی تعداد میں پاؤ کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس وقت صرف وہی بیکریاں چل رہی ہیں جن کے پاس کسی طرح گیس سلنڈر کا انتظام ہوگیا ہے یا پھر وہ ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بی ایم سی کی جانب سے کارروائی کا خطرہ مول لے کر لکڑی کی بھٹی چلا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے تمام بیکریوں کو بجلی سے چلنے والے اوون یا پھر گیس سے چلنے والے چولہے استعمال کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے نام پر لکڑی کے چولہوں کا استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ لکڑی کی بھٹی کو بند کرنے کی آخری تاریخ گزر چکی ہے جس کی وجہ سے جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل ہی بی ایم سی نے لکڑی کی بھٹی استعمال کرنے والی تمام بیکریوں کو کام بند کرنے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ اب ایل پی جی گیس سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے بیکریاں بند ہورہی ہیں اور وہی بیکریاں موجودہ حالات میں جاری رہ سکتی ہیں جن میں لکڑی کی بھٹیاں ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر سے قبل’ فیملی میپنگ‘ مکمل کرنا بے حد ضروری

اس تعلق سے بیلارڈ پیئر پر نیو ایڈورڈ بیکری چلانے والے عمیش صدیقی نے اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گیس نہ ملنے کے سبب ان کی بیکری جمعرات سے بند ہوچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ ’ہماری ایک بیکری واشی میں بھی ہے اور وہاں بجلی کا اوون ہے، کل سے ہم وہاں سے تھوڑا پاؤ لا رہے ہیں لیکن یہاں سے مزدور واشی لے جانا اور وہاں سے پاؤ وغیرہ لانا دشوار کام ہے اور مہنگا بھی پڑتا ہے۔ واشی کی بیکری میں وہاں کی ضرورت پورا کرنے کیلئے اشیاء تیار کی جارہی ہیں اس لئے زیادہ تعداد میں وہاں سے بھی پاؤ وغیرہ لایا نہیں جاسکتا۔ اس کے علاوہ بجلی کا اوون مہنگا پڑتا ہے اور اس میں پروڈکشن بھی کم ہوتا ہے اس لئے جو لوگ پھیری والوں کو سستا مال فروخت کرتے ہیں، انہوں نے گیس کو ترجیح دی اور ایسی تمام بڑی بیکریاں یا تو بند ہوگئی ہیں یا پھر جلد بند ہوجائیں گی۔ اگر گیس کا انتظام نہیں ہوا۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے علاقے میں ایک بیکری میں اب بھی لکڑی کی بھٹی موجود ہے اور گیس کی قلت کے سبب اس کے مالک نے بی ایم سی سے بھٹی استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی جو نہیں دی گئی اس لئے انہوں نے کام شروع نہیں  کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: رکن پارلیمان کی مرکزی وزیر برائے ریل سے ملاقات

مدنپورہ میں نیو سٹی لائٹ بیکری کے مالک مرزا غیاث الدین نے کہا کہ ان کی بیکری آج، جمعہ سے بند ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کمرشیل گیس کی اصل قیمت ۱۶۲۰؍ روپے ہے اور ہم نے بلیک میں ۳؍ ہزار روپے تک گیس سلنڈر خریدا ہے لیکن اب بلیک میں بھی سلنڈر نہیں  مل رہا۔ ‘‘ ان کے مطابق ان کی معلومات کے حساب سے قلابہ کی پیراڈائز، مدنپورہ کی انڈین اور ڈونگری کی ایڈمائر بیکریاں بند ہوچکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’موجودہ اور ایمرجنسی حالات کے لئے حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔ پاؤ روزانہ استعمال ہونے والی چیز ہے جس سے بہت سے غریبوں کا پیٹ بھرتا ہے۔ اگر ہمیں محدود گیس بھی دستیاب ہوجائے تو ہم مٹھائی اور دیگر اشیاء چھوڑ کر صرف پاؤ بنائیں کیونکہ دیگر اشیاء کے بغیر کام چل جائے گا لیکن ممبئی میں پاؤ لازمی شئے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK