• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کو حکم نہیں چلانا چاہئے کہ یوکرین کو کیا کرنا چاہئے: بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو

Updated: October 17, 2026, 3:35 PM IST | Minsk

بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے تسلیم کیا کہ روس کے پاس وسیع تر فوجی اور معاشی وسائل ہیں اور وہ طویل عرصے تک لڑائی جاری رکھ سکتا ہے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ جنگ اس کی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ روسی اس بات کو سمجھتے ہیں؛ وہ امن کیلئے تیار ہیں۔ کیف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ”اگر یوکرینیوں نے رواں سال پرامن تصفیے کی کوشش نہ کی تو اگلے سال یہ مزید مشکل ہو جائے گا اور بالآخر یہ ناممکن ہو سکتا ہے۔“

Belarusian President Alexander Lukashenko. Photo: X
بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو۔ تصویر: ایکس

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے جمعہ کے روز بیان دیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ حکم نہیں چلانا چاہئے کہ یوکرین کی قیادت کون کرے، اس فیصلے کا اختیار صرف یوکرینی عوام کے پاس ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں ٹرمپ نے کیف میں قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کے کئی مواقع ضائع کئے ہیں۔ اس تناظر میں صحافیوں نے لوکاشینکو سے سوال کیا تھا کہ کیا یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی موجودگی میں امن ممکن ہے۔ 

سرکاری خبر رساں ایجنسی بیلٹا (Belta) کے مطابق لوکاشینکو نے کہا کہ ”یہ ٹرمپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ فیصلہ یوکرینی عوام کریں گے کہ یوکرین کے صدر کے طور پر کون خدمات انجام دے۔“ انہوں نے نشان دہی کی کہ زیلنسکی نے اس سے قبل صرف ایک مدت کیلئے عہدہ سنبھالنے کا وعدہ کیا تھا اور انہیں اس عہد کا پاس رکھنا چاہیے اور ووٹرز کا سامنا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ”وعدے پورے ہونے چاہئیں۔ اس لحاظ سے ٹرمپ درست ہیں: اگر آپ کوئی وعدہ کرتے ہیں تو آپ کو اسے نبھانا چاہئے۔ لیکن شرائط ڈکٹیٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کےتعلق سے پوچھنے پر ٹرمپ نے کہا،’’ میں کسی پر بھروسہ نہیں کرتا‘‘

ماسکو کے اہم اتحادی لوکاشینکو نے کہا کہ رواں سال یا اگلے سال امن قائم ہو سکتا ہے، کیونکہ ماسکو اور کیف دونوں کا مفاد اس جنگ کے خاتمے میں ہے جو دونوں ممالک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اور یہ امن قائم ہو کر رہے گا۔ اگر رواں سال نہیں تو اگلے سال۔ مجھے اس کا مکمل یقین ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ روس کے پاس وسیع تر فوجی اور معاشی وسائل ہیں اور وہ طویل عرصے تک لڑائی جاری رکھ سکتا ہے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ جنگ اس کی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ روسی اس بات کو سمجھتے ہیں؛ وہ امن کیلئے تیار ہیں۔ کیف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ”اگر یوکرینیوں نے رواں سال پرامن تصفیے کی کوشش نہ کی تو اگلے سال یہ مزید مشکل ہو جائے گا، اور بالآخر یہ ناممکن ہو سکتا ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK