Updated: April 24, 2026, 10:22 PM IST
| Paris
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے غیر رسمی یورپی کونسل اجلاس میں ملاقات کر کے یوکرین کے لیے یورپی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔ یورپی یونین نے ۹۰؍ ارب یورو کے قرض پیکج اور روس کے خلاف ۲۰؍ ویں پابندیوں کی منظوری دی۔ میکرون نے اسے ماسکو کے لیے واضح پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے لیے یورپ کی حمایت کمزور نہیں ہوگی اور دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔
فرانس کے صدرایمانویل میکرون( بائیں) یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی( دائیں)۔ تصویر: ایکس
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کو بتایا کہ انہوں نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے یونانی قبرصی انتظامیہ میں ہونے والے غیر رسمی یورپی کونسل اجلاس کے موقع پر ملاقات کی، جس میں یوکرین کے لیے یورپی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ میکرون نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ زیلنسکی سے دوبارہ ملاقات خوش آئند ہے اور یوکرین کے لیے یورپی قرض کا اجرا ’’بہت مضبوط اشارہ‘‘ ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یورپ اپنی حمایت میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل اور لبنان جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع: ٹرمپ کا اعلان
دوسری جانب یورپی یونین نے یوکرین کے لیے ۹۰؍ بلین یورو (تقریباً ۱۰۵؍ ارب ڈالر) کے بڑے مالی پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت ممکن ہوا جب ہنگری نے اپنی مخالفت واپس لے لی، جس کے بعد تمام رکن ممالک اس پیکج پر متفق ہو گئے۔ اسی اجلاس میں روس کے خلاف پابندیوں کے ۲۰؍ ویں مرحلے کی بھی منظوری دی گئی، جسے میکرون نے ’’روس کو واضح پیغام‘‘ قرار دیا۔ ان پابندیوں کا مقصد روس کی جنگی معیشت کو مزید کمزور کرنا، مالی ذرائع کو محدود کرنا اور یوکرین کے خلاف جاری کارروائیوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل سے معاہدہ معطل کرنے پر یورپی اتحاد میں شدید اختلاف
میکرون نے کہا کہ ملاقات میں دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، روس پر دباؤ بڑھانے اور ’’رضامندی کے اتحاد‘‘ کے تحت جاری مشترکہ اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپ یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا اور اس کی حمایت نہ آج کم ہوگی اور نہ ہی مستقبل میں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس یوکرین جنگ طویل ہوتی جا رہی ہے اور یورپی ممالک پر مالی و دفاعی مدد جاری رکھنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ۹۰؍ ارب یورو کا پیکج نہ صرف یوکرین کی معیشت کو سہارا دے گا بلکہ یورپ کے اس عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ روس کے خلاف اقتصادی اور سفارتی محاذ پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔