’’شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس ‘‘ کی حرکت پر کانگریس پارٹی شدید برہم، ملکارجن کھرگے نے راجیہ سبھا میں معاملہ اٹھایا، مودی حکومت نے انکوائری کا اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 10:12 AM IST | New Delhi
’’شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس ‘‘ کی حرکت پر کانگریس پارٹی شدید برہم، ملکارجن کھرگے نے راجیہ سبھا میں معاملہ اٹھایا، مودی حکومت نے انکوائری کا اعلان کیا۔
ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں گزشتہ ہفتے کانگریس پارٹی کے صدر ملکارجن کھرگے نے پارٹی کی ریلی سے خطاب کیا تھا لیکن اس ریلی کے بعد ’شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس‘ کی جانب سے رام لیلا میدان میں ’شدھی کرن یگیہ‘ کرایا گیا ۔ تنظیم کے اراکین نے کھرگے کو سناتن اور ہندو تنظیموں کا مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس میدان میں رام لیلا کا انعقاد ہوتا ہے، وہاں ایسے شخص کے آنے کے بعد میدان کو پاک کیا جانا ضروری تھا۔ کانگریس کے درج فہرست ذات مورچہ نے اس پورے واقعہ کو دلت مخالف ذہنیت قرار دیتے ہوئے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ شدھی کرن یگیہ بی جے پی سے وابستہ لوگوں نے کرایا ہے۔ پارٹی لیڈران نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کانگریس کی ریلی کے بعد ہی رام لیلا میدان کے ’شدھی کرن‘ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یاد رہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ۸؍اگست کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ہوئی ’وجے شنکھ ناد ریلی‘ کی تھی۔ کھرگے ریلی کر کے واپس دہلی آ گئے لیکن اب رام لیلا میدان میں ’شدھی کرن‘ پوجا کی خبر سرخیوں میں ہے، جس پر کانگریس نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان میں جشن، اسلام آباد میں نصف شب شاندار آتش بازی
کھرگے نے خود معاملہ اٹھایا
اس معاملہ پرجمعرات کو پارلیمنٹ میں بھی ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔راجیہ سبھا کی کارروائی کے دوران ایوان میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ’’میں اپنے درج فہرست ذات (ایس سی) یا دلت ہونے کو ایشو نہیں بناتا، لیکن ’شدھی کرن‘ واقعہ سے میری توہین کی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بڑی تکلیف کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میں نے ہلدوانی میں عوامی خطاب کے دوران رام لیلا میدان میں تقریر کی۔ لاکھوں لوگ وہاں موجود تھے۔ اس وقت میں نے کسی سماج یا کسی مذہب کا نام تک نہیں لیا، وہاں صرف لوگوں کے مسائل بیان کئے لیکن میری تقریر کے بعد کل اُن لوگوں نے پوجا کر کے اس اسٹیج کا شدھی کرن کیا۔‘‘کھرگے کے اس بیان سے بی جے پی لیڈران بھی تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گئے تھے۔
نڈا نے کیا کہا ؟
کھرگے کے اس بیان پر مرکزی وزیر جے پی نڈا نے ایوانِ بالا میں کہا کہ ’’حکومت اس عمل کی مذمت کرتی ہے اور اس کی جانچ کرائی جائے گی۔‘‘انہوں نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی ایسی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی۔ میں آپ کے جذبات کی حمایت کرتا ہوں۔ ہمارے لئے بھی یہ افسوسناک بات ہے۔ براہ کرم بار بار یہ مت کہئے کہ ’ہم نے کیا ہے۔ ہمارا ان لوگوںسے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔‘‘ اس پر کھرگے نے کھڑے ہوکر کہا کہ ’’میں نڈا جی کا نام نہیں لے رہا ہوں۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ معاملہ درج کیا جائے اور جن لوگوں نے ایسا کیا ہے، انہیں گرفتار کیا جائے۔ ہمارا یہی مطالبہ ہے۔‘‘کھرگے نے اس معاملے کو چھواچھوت کا معاملہ قرار دیا اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ:اکالی دَل کے صدر سکھبیرسنگھ بادل پرکرپان سےحملہ، سیکوریٹی اہلکار بھی زخمی
نائب صدر جمہوریہ نےبھی نوٹس لیا
اس معاملہ میں راجیہ سبھا کے چیئرمین اور ملک کے نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھاکرشنن نے بھی سختی سے نوٹس لیا۔ انہوں نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر چھوا چھوت گناہ نہیں ہے تو اس دنیا میں کوئی گناہ نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم سب اس (شدھی کرن واقعہ) کی مذمت کرتے ہیں، چاہے ہماری پارٹی کوئی بھی ہو۔ ہم سب پاک ہیں۔ جن لوگوں نے یہ کیا ہے، انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے ، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔‘‘ اس دوران کھرگے نے مطالبہ کیا کہ ہلدوانی میں جن لوگوں نے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کیا، ان پر چھوا چھوت ایکٹ کے تحت کیس درج ہو اور انھیں گرفتار کرکے جیل بھیجا جائے۔
’’آر ایس ایس کی ذہنیت یہی ہے‘‘
پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی تقریر کے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کرنا بی جے پی-آر ایس ایس کی گری ہوئی ذہنیت کا مظاہرہ ہے۔ وزیر اعظم مودی کو اس کی مذمت کرتے ہوئے معافی مانگنی چا ہئے۔‘‘ پرینکا کے مطابق ہلدوانی میں جو ہوا وہ ملک کو شرمسار کرنے والا ہے۔ اگر بی جے پی کے اصولوں پر یقین رکھنے والے لوگ مذہب کے نام پر ’شدھی کرن‘ کرتے ہیں تو یہ ملک کو برباد کرنے والے لوگ ہیں۔