Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدنپورہ کی دگڑچال کو جبارُل سیٹھ اور آگری پاڑہ جنکشن کو شبیر احمد انصاری سےمنسوب کیا جائے گا

Updated: July 03, 2026, 11:08 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

اے ،بی اور ای وارڈ پربھاگ سمیتی کی میٹنگ میں کارپوریٹر وقارخان اورامرین شہزاد ابراہانی کی پیش کی گئی تجویزکومنظورکرلیا گیا۔

Abdul Jabbar Muhammad Ishaq Sheikh Alias Jabarul Seth Shabbir Ahmed Ansari.Photo:INN
عبدالجبار محمد اسحاق شیخ عرف جبارُل سیٹھ۔ شبیراحمدانصاری
 اے ، بی اور ای وارڈ کی پربھاگ سمیتی کی حالیہ میٹنگ میں مدنپورہ اور آگری پاڑہ کی ۲؍ معرو ف شخصیات مرحوم عبدالجبار محمد اسحاق شیخ عرف جبارُل سیٹھ اور مرحوم شبیر احمد انصاری سے بالترتیب مدنپورہ کی دگڑ چال اور آگری پاڑہ جنکشن کو موسوم کرنے کی تجویز منظو ر کرلی گئی ہے ۔
پربھاگ سمیتی کی میٹنگ کی روداد کے مطابق مدنپورہ کے مولانا آزاد روڈ پر واقع ۲۱۲؍ مجیدیہ بلڈنگ ( دگڑ چال )کو جبارُل سیٹھ مارگ سے منسوب کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے ۔ یہ تجویز وارڈنمبر ۲۱۱؍ کے میونسپل کارپوریٹر وقار خان نے پیش کی تھی جبکہ آگری پاڑہ جنکشن کو شبیر احمد انصاری سے موسوم کرنے کی تجویز وارڈ نمبر ۲۱۲؍ کی کارپوریٹر امرین شہزاد ابراہانی نے پیش کی تھی ۔ 
 
 
جبارُل سیٹھ کاتعلق اُترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے شیخوپور گائوں سے تھا۔ وہ روزگار کی تلاش میں ۱۹۴۵ءمیں ممبئی آئے تھے۔ سب سے پہلے پائیدھونی پر گنے کی شربت کی دکان پر بعدازیں سانکلی اسٹریٹ ،مدنپورہ میں دودھ کی دکان پر نوکری کی تھی ۔اس کےبعد لُوم کاکام شروع کیا اور آخری وقت تک اسی کاروبار سے وابستہ رہے۔ اپنے ساتھ ہم وطنوں کی روزی روٹی کی بھی انہیں بہت فکر تھی۔ انہوں نے اپنے گائوں والوں کیلئے باقاعدہ قیام و طعام کابندوبست کیا تھا۔ جب تک وہ کام پر نہیں لگ جاتے ،ان کی دیکھ بھال اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ معاشی شعبہ کے علاوہ سماجی اور تعلیمی خدمات کا جذبہ بھی رکھتےتھے۔ متعدد سماجی اور تعلیمی اداروں سے منسلک رہے ۔ لوگوں کے تنازع کو حل کرنے  سے انہیں پورے علاقے میں شہرت حاصل تھی۔ ۲۵؍ دسمبر ۲۰۰۷ء کو دگڑ چال   ہی میں ان کا انتقال ہوا ۔ 
 
 
اُردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی ان کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے والد کے نام سے دگڑ چال  منسوب کئے جانےکی تجویز پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ شبیراحمد انصاری (۷۸) نے مسلم پسماندہ طبقے کیلئے جو خدمات پیش کی ہیں ، وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ انہوں نے۱۹۷۸ءمیں آل انڈیا مسلم اوبی سی آرگنائزیشن کی بنیاد ڈالی تھی اور آخری سانس تک اسی مقصد کے تحت سرگرم رہے ۔ کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے سے ۲۲؍مارچ ۲۰۲۶ء کو ان کاانتقال آبائی وطن جالنہ میں ہوا۔ انہوںنے صوبائی اور قومی سطح پر مسلم اوبی سی طبقے کی ترجمانی کی۔ ان کے مسائل کےحل اور حقوق کی لڑائی کیلئے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ان کے بیٹے غفران شبیر انصاری کے مطابق ’’ ان کے انتقال کے بعدبھی ان کے چاہنے والوں نے انہیں یاد رکھاہے ، اس سے خوشی ملتی ہے ۔ میرے والد کے نام سے آگری پاڑہ جنکشن کو منسوب کئے جانے کی تجویز منظور ہوگئی ہے ۔ یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK