Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھوج شالا کو سرسوتی مندر قرار دے دیا، نماز کا حکم منسوخ

Updated: May 15, 2026, 8:02 PM IST | Bhopal

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھوج شالا کو سرسوتی مندر قرار دے دیا، جبکہ اے ایس آئی کا ۲۰۰۳ء کانماز کا حکم منسوخ کردیا، عدالت نے مزید واضح کیا کہ اے ایس آئی کو اس یادگار تعمیر کے تحفظ اور بحالی کا مکمل اختیار رہے گا۔

Interior of Kamal Mullah Mosque. Photo: INN
کمال مولا مسجد کا اندرونی حصہ۔ تصویر: آئی این این

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایک فیصلے میں دھار کے متنازع بھوج شالا کمپلیکس کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے۲۰۰۳ء کے انتظام کو منسوخ کردیا، جس کے تحت مسلمانوں کو اس جگہ نماز پڑھنے کی اجازت تھی۔جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس الوک اوستھی کی ڈویژن بنچ نے فیصلہ سنایا کہ تاریخی دستاویزات، آثار قدیمہ کے شواہد اور ادبی حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کمپلیکس راجا بھوج سے منسلک سرسوتی مندر تھا۔ راجا بھوج کو دھار کو سنسکرت تعلیم کا بڑا مرکز بنانے کا سہرا جاتا ہے۔عدالت نے کہا کہ اس جگہ ہندوؤں کی عبادت کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ تاریخی ادب اس علاقے کو سنسکرت تعلیم کا مرکز ظاہر کرتا ہے، اور ادبی و آثار قدیمہ کے حوالے دیوی سرسوتی کے مندر کے وجود کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غازی آباد: ہندو رکشا دل کے لیڈر پنکی چودھری کا اجتماعی بھوج میں مسلمانوں کو کھانا دینے سے انکار

بعد ازاں عدالت نے اے ایس آئی کے۲۰۰۳ء کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں مسلمانوں کو بھوج شالا میں نماز کی اجازت دی گئی تھی اور ہندوؤں کی عبادت کو محدود کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ مسلمان دھار ضلع میں متبادل زمین کی درخواست دے سکتے ہیں تاکہ مسجد یا نماز کے لیے علیحدہ جگہ تعمیر کی جا سکے۔عدالت نے مزید واضح کیا کہ اے ایس آئی کو اس یادگار کے تحفظ اور بحالی کا مکمل اختیار رہے گا۔ نیز عدالت نے ہندو درخواست گزاروں کی اس درخواست پر بھی نوٹس لیا جس میں لندن کے میوزیم میں رکھے دیوی سرسوتی کے بت کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK