مہاراشٹر حکومت نے اسکولوں سے ۵۰۰؍ میٹر کے دائرے میں ’’ اسٹنگ‘‘ کی فروخت پر پابندی عائد کی، یہ اقدام بچوں میں موجود ہائی کیفین اور شوگر کی سطح اور ان کے صحت پر ممکنہ خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 3:04 PM IST | Mumbai
مہاراشٹر حکومت نے اسکولوں سے ۵۰۰؍ میٹر کے دائرے میں ’’ اسٹنگ‘‘ کی فروخت پر پابندی عائد کی، یہ اقدام بچوں میں موجود ہائی کیفین اور شوگر کی سطح اور ان کے صحت پر ممکنہ خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
مہاراشٹرا کی حکومت نے اسکولوں کے۵۰۰؍ میٹر کے دائرے میں اسٹنگ انرجی ڈرنک اور اسی طرح کے دیگر انرجی ڈرنکس کی فروخت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اقدام بچوں میں موجود ہائی کیفین اور شوگر کی سطح اور ان کے صحت پر ممکنہ خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اعلان مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر نرہاری زیروال نے ریاستی اسمبلی میں کیا، جب انہوں نے بی جے پی کے ایم ایل اے وکرم پاچپوتے کی طرف سے اسکولوں کے قریب انرجی ڈرنکس کی آسان دستیابی پر اٹھائے گئے خدشات کا جواب دیا۔وزیر کے مطابق، حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسکولی احاطے سے۵۰۰؍ میٹر کے اندر کوئی بھی انرجی ڈرنک یا دیگر نشہ آور اشیاء فروخت نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی اور اسکولوں سے بھی کہا جائے گا کہ وہ ایسی مشروبات سے منسلک صحت کے خطرات سے آگاہی مہم چلائیں۔
یہ بھی پڑھئے: شہری حکومت کے غلام نہیں: بامبے ہائی کورٹ، ایس ڈی پی آئی لیڈر کی ضلع بدری پرسوال
یاد رہے کہ یہ معاملہ اس وقت زور پکڑ گیا جب متعدد سیاسی لیڈروں نے تشویش ظاہر کی کہ بچے تیزی سے زیادہ کیفین والے مشروبات کا استعمال کر رہے ہیں جن کی جارحانہ انداز میںتشہیر کی جارہی ہے۔ جبکہ ماہرین صحت کے مطابق، کیفین کی اعلی سطح اور ضرورت سے زیادہ شوگر یہ دونوں عوامل بچوں اور نوعمروں کو منفی طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔ جبکہ اسٹنگ انرجی ڈرنک کی معیاری۲۵۰؍ ملی لیٹر کی بوتل میں تقریباً ،۷۰؍ سے ۷۵؍ملی گرام کیفین، جو ایک معیاری کپ کافی کے تقریباً برابر ہے، ۲۸؍ سے ۳۰؍گرام شوگر تقریباً۷؍ چائے کے چمچہ ۔ تشکیل کے لحاظ سے ۱۰۰؍ سے ۱۲۰؍کیلوریز،اس کا مطلب ہے کہ مشروب کا تقریباً۳۴؍ فیصد حصہ شوگر ہے، جو تجویز کردہ روزانہ شوگر کی حد سےمتجاوز ہے۔ جبکہ ماہرین صحت کے مطابق، اس کا زیادہ استعمال دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اضافہ، نیند میں خلل، بے چینی اور ہائپر ایکٹیویٹی، موٹاپے اور میٹابولک عوارض کا زیادہ خطرہ، اور کم عمری میں ہی کیفین پر انحصار میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ اسمبلی بحث کے دوران، ایم ایل اے وکرم پاچپوتے نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مہاراشٹر ۱۸؍سال سے کم عمر بچوں کو ایسے مشروبات کی فروخت پر پابندی نافذ کرےگا۔ جبکہ دیگر اراکین اسمبلی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نابالغوں کی آسان رسائی کو روکنے کے لیے سخت ضابطے متعارف کرائے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی پرچہ لیک معاملہ: تفتیش کا دائرہ کئی ریاستوں تک پھیل گیا
واضح رہے کہ یہ پیشرفت ان دنوں سامنے آئی ہے جب فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے چھ بڑے مشروبات برانڈز کو مبینہ غلط لیبلنگ اور گمراہ کن پروموشنل دعووں پر نوٹس جاری کیے تھے۔ جن کمپنیوں کو نوٹس موصول ہوئے ان میں ریڈ بل انرجی ڈرنک، سٹنگ انرجی ڈرنک، مانسٹر انرجی، ہیل انرجی، ایڈرینالین رش انرجی ڈرنک اور کیمپا گولڈ بوسٹ شامل ہیں۔ریگولیٹر نے کہا کہ ہندوستانی خوراک کے ضوابط کے تحت فی الحال ’’انرجی ڈرنک‘‘ کے نام سے کوئی سرکاری طور پر مطلع شدہ خوراک کا زمرہ موجود نہیں ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق، کمپنیاں ’’انرجی ڈرنک‘‘، ’’توانائی کی سطح کو بڑھاتا ہے‘‘، ’’جسم اور دماغ کو متحرک کرتا ہے‘‘، ’’توجہ میں اضافہ کرتا ہے‘‘اور ’’کمزوری میں مدد کرتا ہے‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے مصنوعات کی تشہیرکر رہی ہیں۔ تاہم ایف ایس ایس اے آئی نے استدلال کیا کہ یہ دعوے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ،۲۰۰۶ء کے تحت دفعات کی خلاف ورزی ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس نوعیت کے دعوؤں کے استعمال کی بغیر مخصوص منظوری کے عام خوراک کی مصنوعات کے لیے اجازت نہیں ہے ۔