مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس میں ایوان میں بیٹھ کر اپنے موبائل پر رمی (تاش) کھیلنے والے اور کسانو ں کے تعلق سے غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کے سبب تنازع میں گھرے رہنے والے این سی پی خیمے کے وزیر مانک راؤ کوکاٹے سے زراعت کا قلمدان تو چھین لیاگیا لیکن حیرت انگیز طور پر انہیںوزارت کھیل ، یوتھ ویلفیئر کا قلمدان سونپ دیا گیا۔
این سی پی خیمے کے وزیر مانک راؤ کوکاٹے۔ تصویر: آئی این این
اب اسے ستم ظریفی ہی کہیں گے کہ مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس میں ایوان میں بیٹھ کر اپنے موبائل پر رمی (تاش) کھیلنے والے اور کسانو ں کے تعلق سے غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کے سبب تنازع میں گھرے رہنے والے این سی پی خیمے کے وزیر مانک راؤ کوکاٹے سے زراعت کا قلمدان تو چھین لیاگیا لیکن حیرت انگیز طور پر انہیں وزارت کھیل ، یوتھ ویلفیئر کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں انہیں وزارت اقلیتی امور کا قلمدان بھی دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ چہار جانب سے شدید تنقیدوں کے بعد حکومت نے کیا ہے لیکن اب اس پر بھی تنقیدیں ہو رہی ہیں۔ساتھ ہی وزارت زراعت کا قلمدان این سی پی کے ہی دتاتریہ بھرنے کو سونپا گیا ہے جو اس سے قبل وزیر کھیل اور اقلیتی امور تھے۔یعنی حکومت نے دونوں وزراء کے محکمے تبدیل کردئیے ہیں۔اس تبدیلی سے دتاتریہ بھرنے بھی خاصے ناراض نظر آئے۔
یہ بھی پڑھئے: مودی وہی کریں گے جو ٹرمپ کہیں گے: راہل گاندھی
اس ضمن میں وزیر اعلیٰ فرنویس نے کہا کہ ’’مانک راؤ کوکاٹے کے تعلق سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جارہی تھی،اسی لئے دونوں نائب وزرائے اعلیٰ سے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیاگیا ہے۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے اس کیساتھ ہی وارننگ بھی دی کہ اب کوئی نیا تنازع برداشت نہیں کیا جائے گا۔