Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر: قومی شاہراہوں کے ’’رائٹ آف وے‘‘ پر غیرقانونی ہوٹل، ڈھابے ہٹانے کا حکم

Updated: August 11, 2026, 3:09 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر حکومت نے قومی شاہراہوں کے ’’رائٹ آف وے‘‘ میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے تمام شہری بلدیاتی اداروں کو ایسی نئی یا موجودہ تعمیرات ۶۰؍ دن کے اندر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت نے رائٹ آف وے میں نئے ڈھابوں، کھانے پینے کے مراکز اور تجارتی ڈھانچوں کی تعمیر پر فوری پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ خلاف ورزیوں کی نگرانی اور تجاوزات ہٹانے کیلئے ہر متعلقہ ضلع میں ہائی وے سیفٹی ٹاسک فورس بھی تشکیل دی جائے گی۔

Symbolic image: INN
علامتی تصویر: آئی این این

مہاراشٹر حکومت نے قومی شاہراہوں کے ’’رائٹ آف وے‘‘ (ROW) میں موجود تمام غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ریاست کے تمام شہری بلدیاتی اداروں کو نئی یا پہلے سے موجود غیر قانونی تعمیرات ۶۰؍ دنوں کے اندر منہدم کرکے ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت نے ’’رائٹ آف وے‘‘ میں کسی بھی نئے ڈھابے، کھانے پینے کے مرکز یا تجارتی ڈھانچے کی تعمیر پر بھی فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ ’’رائٹ آف وے‘‘ سے مراد حکومت کی جانب سے قومی شاہراہ کیلئے حاصل اور محفوظ کی گئی زمین کی مکمل پٹی ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے یہ ہدایات سپریم کورٹ کی جانب سے ۱۳؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو ’’پھلودی حادثہ بنام نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا‘‘ کے معاملے میں ازخود دائر درخواست پر جاری کیے گئے احکامات کی بنیاد پر جاری کی ہیں۔ ریاست کی تمام میونسپل کارپوریشنوں، میونسپل کونسلوں اور نگر پنچایتوں کو سپریم کورٹ کی ہدایات پر ’’سختی سے عمل‘‘ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی عدالت نے گوتم اور ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات خارج کر دیے

کیا ہیں ہدایات؟

سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق قومی شاہراہ کے ’’رائٹ آف وے‘‘ میں کسی بھی نئے ڈھابے، کھانے پینے کے مرکز یا تجارتی ڈھانچے کی تعمیر یا اسے چلانے پر فوری طور پر پابندی ہوگی۔ ضلع مجسٹریٹس کو تمام نئی یا پہلے سے موجود غیر مجاز تعمیرات کو ۶۰؍ دنوں کے اندر منہدم کرکے ہٹانے کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی محکمہ، اتھارٹی یا مقامی بلدیاتی ادارہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) یا محکمۂ تعمیرات عامہ (PWD) کی پیشگی منظوری کے بغیر ہائی وے سیفٹی زون میں کسی جگہ کیلئے لائسنس، این او سی یا تجارتی منظوری جاری یا اس کی تجدید نہیں کر سکے گا۔ ایسی جگہوں کیلئے پہلے سے جاری تمام لائسنسوں کا بھی ۳۰؍ دنوں کے اندر جائزہ لیا جائے گا۔

ہر ضلع میں ہائی وے سیفٹی ٹاسک فورس بنے گی

جن اضلاع سے قومی شاہراہ گزرتی ہے، وہاں ضلعی ہائی وے سیفٹی ٹاسک فورس بھی تشکیل دی جائے گی۔ ضلع کلکٹر اس ٹاسک فورس کی تشکیل کریں گے، جس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، این ایچ اے آئی یا متعلقہ زمین کی مالک ایجنسی، محکمۂ تعمیرات عامہ اور مقامی بلدیاتی اداروں کے افسران شامل ہوں گے۔ قومی شاہراہوں کے ’’رائٹ آف وے‘‘ سے تجاوزات کو باقاعدگی سے ہٹانے کی ذمہ داری ضلع کلکٹر اور پولیس کمشنر یا سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پر عائد ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: بہار میں مظاہروں کے دوران طلبہ پر پولیس کارروائیوں کا جائزہ لینے والی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ جاری

سپریم کورٹ کے حکم میں کیا کہا گیا؟

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ کسی بھی قومی شاہراہ کے وسطی حصے سے ۴۰؍ میٹر کے اندر رہائشی اور ۷۵؍ میٹر کے اندر تجارتی زمین کے استعمال میں تبدیلی پر ۶۰؍ دنوں کے اندر پابندی عائد کی جائے۔

واضح ہو کہ یہ معاملہ نومبر ۲۰۲۵ء میں راجستھان کے پھلودی ضلع میں پیش آنے والے ایک جان لیوا سڑک حادثے کے بعد سامنے آیا۔ بھارت مالا ہائی وے پر ایک ٹیمپو سڑک کے کنارے کھڑے ٹرک سے ٹکرا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم ۱۵؍ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرک ایک کھانے پینے کے مرکز کے سامنے کھڑا تھا، جبکہ ٹیمپو ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران ٹیمپو سڑک کے کنارے کھڑے ٹرک سے جا ٹکرایا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد مہاراشٹر حکومت نے قومی شاہراہوں کے ’’رائٹ آف وے‘‘ میں غیر مجاز تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کیلئے ریاست کے تمام شہری بلدیاتی اداروں کو یہ احکامات جاری کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK