Updated: August 11, 2026, 4:01 PM IST
| New Delhi
وزیر خزانہ نِرملا سیتا رمن نے پیر کو پارلیمنٹ میں واضح کیا کہ یو پی آئی صارفین کے لیے مفت رہے گا اور یو پی آئی لین دین پر کوئی چارج نہیں دینا ہوگا۔ سیتا رمن ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیم) بل، ۲۰۲۶ء پر راجیہ سبھا میں بحث کا جواب دیتے ہوئے اراکین کے ذریعے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے رہی تھیں۔
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این
وزیر خزانہ نِرملا سیتا رمن نے پیر کو پارلیمنٹ میں واضح کیا کہ یو پی آئی صارفین کے لیے مفت رہے گا اور یو پی آئی لین دین پر کوئی چارج نہیں دینا ہوگا۔ سیتا رمن ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیم) بل، ۲۰۲۶ء پر راجیہ سبھا میں بحث کا جواب دیتے ہوئے اراکین کے ذریعے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے رہی تھیں۔
ان کے جواب کے بعد بل کو ایوان نے اپوزیشن کی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے زبانی ووٹ سے منظور کر کے اسی شکل میں لوک سبھا کو لوٹا دیا۔ لوک سبھا نے اسے پہلے ہی منظور کر دیا تھا۔ اس طرح اس بل پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مہر لگ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "زیادہ تر تاجروں کے لین دین-جن میں عام اور کم مالیت والے لین دین بھی شامل ہیں-آگے بھی مفت رہیں گے۔ اس بل کے کچھ احکام ۵؍ جون کو جاری کیے گئے ٹیکس سے متعلق احکام والے آرڈیننس کی جگہ لیں گے۔ اس کے علاوہ اس میں کچھ دیگر قوانین میں ترمیم کے احکام بھی کیے گئے ہیں۔
سیتا رمن نے بتایا کہ یو پی آئی کی شروعات سے ہی صارفین کے لیے یہ مفت رہا ہے اور آگے بھی ہر ہندوستانی بغیر کسی لین دین کے چارج کے فوری ڈجیٹل ادائیگی کرتا رہے گا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ مرکزی حکومت چھوٹے تاجروں، حکومت کی مالی شمولیت اور یو پی آئی کی ہمہ گیر ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میرے جسم میں ال پچینو، شاہ رخ خان اور مائیکل جیکسن ڈانس کرتے ہیں: روی کشن
انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں اگر کوئی ایم ڈی آر (مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ) نافذ کیا جاتا ہے، تو وہ صرف مقررہ حد سے زیادہ کی محدود کے زمرے کے تاجروں کے لین دین پر ہی نافذ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ اس بل میں حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ مخصوص زمروں کو چارج سے چھوٹ دے سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیم) بل، ۲۰۲۶ء میں پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ، ۲۰۰۷ءکی دفعہ ۱۰؍ اے میں ترمیم کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ یہ ترمیم صرف ایک اختیار دینے والا التزام ہے۔ اس کا مقصد یو پی آئی صارفین پر کوئی ٹیکس یا لین دین کا چارج لگانا نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ترمیم حکومت کو نوٹیفکیشن کے ذریعے ان الیکٹرانک ادائیگی کے طریقوں کو مخصوص کرنے کے قابل بناتی ہے، جنہیں چارج لگائے جانے کے خلاف قانونی تحفظ ملتا رہے گا۔ سیتا رمن نے وزارت خزانہ کی طرف سے پہلے دی گئی اس وضاحت کو دہرایا کہ پارلیمنٹ سے اس بل کے منظور ہونے کے بعد، نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کی صدارت والی یو پی آئی اور سروس آپریشنز کمیٹی اس بات پر غور کرے گی اور فیصلہ کرے گی کہ کوئی ایم ڈی آر نافذ کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ اگر ایم ڈی آر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، تو اس کا دائرہ اور نوعیت بھی یہی کمیٹی طے کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس بل کے بارے میں حکومت یو پی آئی پر چارج لگانے کی بات کو پہلے ہی واضح کر چکی ہے لیکن اپوزیشن کے کچھ لوگ پارلیمنٹ کے باہر جا کر بار بار گمراہی پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ ہی کی زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہتی ہوں کہ چائے والے، پان والے، ریہڑی پٹری والے لوگوں پر ایم ڈی آر چارج نہیں لگے گا۔‘‘ اس سے پہلے بحث کے دوران سنگھ نے ان طبقوں پر ڈجیٹل ادائیگی قبول کرنے کا چارج لگائے جانے کی مبینہ تجویز پر حکومت پر تنقید کی تھی۔
ہندوستان میں یو پی آئی کی حوصلہ افزائی کے ابتدائی مرحلے میں سابق وزیر خزانہ اور کانگریس لیڈر پی چدمبرم کے ذریعے کیے گئے طنز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیتا رمن نے بتایا کہ ہمیں ہندوستان کے ایک سابق وزیر خزانہ اور ان کے ساتھیوں کے ذریعے اس وقت یو پی آئی کا مذاق اڑائے جانے کی بات بھی یاد دلائی گئی، جب اسے شروعات میں پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس کی کامیابی پر ہماری صلاحیت پر سوال اٹھائے تھے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آج یو پی آئی ۱۱؍ ممالک میں دستیاب ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم ادائیگی کا نظام ہمارے پاس ہے۔ صرف جولائی ۲۰۲۶ء میں ہم نے ۲۳۶۶؍ کروڑ یو پی آئی لین دین کیے، جن کی کل مالیت ۹ء۲۹؍ لاکھ کروڑ روپے رہی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں جانتی ہوں کہ کوئی ایم ڈی آر نہیں کی خبر ہمارے کمیونسٹ دوستوں کے لیے من بھاتی دھن جیسی ہے۔ لیکن جب ہم پارلیمنٹ میں جواب دیتے ہیں، تو انہیں باہر جا کر پورے ملک میں جھوٹ نہیں پھیلانا چاہیے"۔
یہ بھی پڑھئے:ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے اہم ملاقات کی
انہوں نے اس بل کے بارے میں مارکس وادی پارٹی کے جان برٹاس کے بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ میں جانتی ہوں کہ ایسا کرنا ان کی عادت رہی ہے اور یہی ایک وجہ ہے کہ وہ پورے ملک میں انتخابی طور پر پوری طرح مسترد کر دیے گئے ہیں۔ آج کسی بھی ریاست میں کمیونسٹ حکومت نہیں ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ یو پی آئی کی شروعات سے ہی صارفین کے لیے یہ مفت رہا ہے اور آگے بھی ہر ہندوستانی بغیر کسی لین دین کے چارج کے فوری ڈیجیٹل ادائیگی کرتا رہے گا۔