مہاراشٹرکے ضلع ناسک میں اسکولی بچوں نے پانی کی خالی بوتل کو علامتی مائیکروفون کی طرز پر پکڑ کرٹوٹی سڑکوں پر ایک ویڈیو بنایا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، یہ ویڈیو سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے شئیر کیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 10:22 PM IST | Nashik
مہاراشٹرکے ضلع ناسک میں اسکولی بچوں نے پانی کی خالی بوتل کو علامتی مائیکروفون کی طرز پر پکڑ کرٹوٹی سڑکوں پر ایک ویڈیو بنایا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، یہ ویڈیو سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے شئیر کیا ہے۔
پانی کی بوتل، ایک علامتی مائیکروفون اور ٹوٹی سڑک، مہاراشٹر کے اسکول کے بچے شہری مسائل کی طرف توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنا ایک راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز اور پیشہ ورانہ مائیکروفونز کو بھول جائیں۔ مہاراشٹر کے اسکول کے بچوں کے لیے، پانی کی بوتل رپورٹنگ کا ایک آلہ بن گئی ہے۔ترمبکیشور کے پگلاواڑی اور گوہیرواڑی کے طلباء نے اپنی مقامی سڑک کی خراب حالت کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے، جس کے لیے انہوں نے پانی کی بوتل کو علامتی مائیکروفون کے طور پر استعمال کیا۔ ویڈیوں میں بچے ٹیلی ویژن رپورٹرکی نقل کرتے نظر آ رہے ہیں، لیکن جن مسائل کو وہ اجاگر کر رہے ہیں وہ سنگین ہیں۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں جو ان کے روزمرہ کے سفر کو متاثر کرتی ہیں۔ان کا یہ اقدام ایسے وقت آیا ہے جب رائے گڑھ کے قصبہ کونڈیواڑے میں دو اسکول کی طالبات نے اپنے علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اسی طرح کے عارضی مائیکروفون کا استعمال کیا تھا۔اب یہ تجربات توجہ حاصل کر رہے ہیں کیونکہ یہ اس کی مثال ہیں کہ بچے شہری مسائل کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کیسے کر رہے ہیں۔
#नाशिक" पानी की बोतल से माइक्रोफोन बनाकर सड़क की खराब हालत के बारे में बताया है। कल ही, रायगढ़ के कोंडीवाडे गांव में दो लड़कियों ने यह एक्सपेरिमेंट सफलतापूर्वक किया, जो अब जेन अल्फा में तेज़ी से जागरूकता बढ़ा रहा है। #gen_alpha pic.twitter.com/hKZeCFlO3c
— sartaj lekhak (@FSartajweb) August 12, 2026
بعد ازاں طلباء کو پانی کی بوتل کو مائیکروفون کی طرح پکڑے دیکھنا پہلے تو مزاحیہ لگ سکتا ہے، لیکن ان کا پیغام ایک بڑا سوال اٹھاتا ہے: اگر بچے اپنی برادریوں میں مسائل کی نشاندہی کر سکتے ہیں، تو پھر یہ مسائل ابھی تک حل کا انتظار کیوں کر رہے ہیں؟ایک ایسی نسل کے لیے جوا سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے ساتھ بڑھ رہی ہے، کسی مسئلے کو دستاویز کرنا اور براہِ راست سامعین تک پہنچانا تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ان بچوں کو ابھی ووٹ کا حق نہیں، لیکن وہ پہلے ہی سیکھ رہے ہیں کہ عوامی خدمات کے ذمہ داروں سے سوال کیسے کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: خستہ حال سڑکوں اور ٹریفک جام کے سبب ۲۰؍ کمپنیاں پونے کو الوداع کہنے کیلئے تیار
تاہم یہ واقعات سیاسی لیڈروں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک وسیع تر پیغام بھی پیش کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب سیاسی گفتگو اکثر ٹرولنگ، فرقہ وارانہ کشیدگی، دھمکیوں اور سیاسی تصادم میں الجھی ہوتی ہے، نوجوان شہرکی سڑکوں، اسکول، حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کی طرف توجہ مبذول کر رہے ہیں۔ ان کے علامتی مائیکروفون پانی کی بوتلوں سے بنے ہو سکتے ہیں، لیکن جو سوالات وہ پوچھ رہے ہیں وہ حقیقی ہیں۔اس ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے بچوں کی تعریف کی اور کہا کہ اس یومِ آزادی پر سیاست دانوں کو ’’اسے بدلنے کا عہد‘‘ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ بچے کہہ رہے ہیں ،کوئی ہماری طرف توجہ نہیں دیتا۔ وہ صرف ایک اچھی سڑک کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ وہ محفوظ طریقے سے اسکول پہنچ سکیں۔‘‘