Inquilab Logo Happiest Places to Work

خستہ حال سڑکوں اور ٹریفک جام کے سبب ۲۰؍ کمپنیاں پونے کو الوداع کہنے کیلئے تیار

Updated: August 12, 2026, 11:42 AM IST | Agency | Pune

۴؍ ہزار نوکریاں خطرے میں۔ صنعتکاروں کا ستارا کے کھنڈالاایم آئی ڈی سی جانے پر غور۔ ان کا کہنا ہے کہ شکایتوں کے باوجود مسائل حل نہیں کئے جارہے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

پونے کے چاکن ایم آئی ڈی سی میں خراب سڑکوں ، ٹریفک جام اور گڑھوں سے پریشان ہوکر ۲۰؍ کمپنیاں ستارا کے کھنڈالا ایم آئی ڈی جانے کی تیاری کررہی ہیں۔ اس سے تقریباً ۴؍ ہزار نوکریاں اور ایک ہزار کروڑ روپے کا کاروبار متاثر ہوسکتا ہے۔ دراصل چاکن ایم آئی ڈی کو ریاست مہاراشٹر کے اہم آٹوموبائل ہب میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں مرسیڈیز بینز، فاکس ویگن، اسکوڈا اور ہنڈئی جیسی بڑی کمپنیوں کے ساتھ سیکڑوں چھوٹی اوردرمیانے درجے کی صنعتیں بھی کام کرتی ہیں۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ خستہ حال سڑکیں ، گڑھے، گھنٹوں ٹریف جام اور لگاتار حادثات کی وجہ سے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے اس لئے تقریباً ۲۰؍ کمپنیاں اب ستارا کے کھنڈالا ایم آئی ڈی سی جانے کی تیاری کررہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا سالانہ کاروبار تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے بتای جارہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:گڈچرولی میں سانپ نے آشرم اسکول کے ہوسٹل میں گھس کر ۶؍ لڑکیوں کو ڈس لیا، ۳؍ بچیوں کی موت

۱۴؍ مہینوں سے شکایت

تقریباً ۲۰؍ کمپنیوں نے مل کر ایک گروپ بنایا ہے۔ یہ گروپ کھنڈالا ایم آئی ڈی سی میں زمین اور دیگر ضروری سہولیات حاصل کرنے کیلئے انتظامیہ سے گفتگو کررہا ہے۔ ’آج تک ‘ کی خبر کے مطابق انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے الگ الگ جگہوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آخرمیں کھنڈالا سب سے مضبوط متبادل بن کر سامنے آیا کیونکہ وہاں ضروری بنیادی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ دشا ایکسپورٹس کے مالک دھننجے شیڈبالے نے بتایا کہ ان کی کمپنی میں تقریباً ۱۴۰؍ لوگ کام کرتے ہیں۔ گزشتہ ۱۹؍ سال سے وہ چاکن میں کروبار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ۱۴؍ مہینوں میں خراب سڑک، ٹریفک جام اور ویسٹ مینجمنٹ جیسے مسائل پر کئی بار افسروں کو خط لکھا گیا لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ چھوٹی صنعت کے ادارے کے صدر شانتنو کلکرنی نے بتایا کہ اس فیصلے پر سات آٹھ مہینے تک گفتگو ہوئی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے پاس بڑے صنعتوں جیسی سہولیات نہیں ہوتیں ۔ ایسے حالات میں روزانہ کی پریشانیاں کام کاج پر سیدھا اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دوسری جگہ جانے پر سنگینی سے غور کیا جارہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امیت شاہ بیان دینے کوتیار، کانگریس کی ۳؍ شرطیں

مقامی رکن اسمبلی کا اعتراف

اس خبر سےمقامی سطح پر بھی فکرمندی بڑھ گئی ہے۔ مقامی رکن اسمبلی باباجی کالے نے اعتراف کیا کہ صنعتوں کے مسائل کا وقت پرازالہ نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمپنیوں کے نمائندوں سے ملیں گے اور ان سے چاکن نہ چھوڑنے کی اپیل کریں گے۔ ساتھ ہی اس پورے معاملے کو وزیراعلیٰ کے سامنے بھی پیش کریں گے تاکہ جلد کوئی راستہ نکالا جاسکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK