سیف پٹھان نےالزام لگایا کہ ممبراٹی ایم سی کا ایک حصہ تو ہے لیکن اس کےساتھ سوتیلا سلوک برتا جاتا ہے۔
ایم آئی ایم کے سیف پٹھان- تصویر:آئی این این
تھانے میونسپل کارپوریشن ( ٹی ایم سی) میں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین( اے آئی ایم آئی ایم ) کے گروپ لیڈر سیف پٹھان نے بجٹ پر ٹی ایم سی کےایوان میں تقریر کرتے ہوئے ممبرا کوسہ کے متعدد بنیادی مسائل کو پیش کیا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ممبراتھانے میونسپل کارپوریشن ( ٹی ایم سی) کا ایک حصہ تو ہے لیکن اس کےساتھ سوتیلا سلوک برتا جاتا ہے۔ ٹی ایم سی نے کل ۹؍ وارڈ کمیٹی میں کہیں بھی نجکاری نہیں کی لیکن ممبرا میں پہلے بجلی سپلائی ، اس کے بعد صاف صفائی کا کام پرائیو یٹ ٹھیکہ دارکےذمہ ڈال گیا اور اس کے بعد تھانے میونسپل کارپوریشن کے ۱۵۰؍ کروڑ روپے کے خطیر فنڈ سے تعمیر کئے گئے حکیم اجمل خان میونسپل اسپتال ( واقع ایم ایم ویلی) کی بھی نجکاری کر دی گئی۔ اس کی وجہ سے مقامی افراد کو علاج کی سہولت میسر نہیں ہو رہی ہے ۔ جب بھی کوئی مریض ایمرجنسی میں وہاں لے جایاجاتا ہے تو اس سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا اس کا آدھار کارڈ ممبرا کا ہے، تب ہی اس کا مفت علاج ہوگا ورنہ فیس ادا کرنی ہوگی۔ شہری انتظامیہ یہ کس طرح کی سہولت ممبرا کے شہریوں کو فراہم کر رہی ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ممبرا میں آبادی کے حساب سے بہت کم پانی سپلائی کیاجارہا ہے جس سے وہاں کے شہریوں کو پانی کا ٹیکس ادا کرنے کے باوجود پانی میسر نہیں۔ اپوزیشن لیڈر سے لے کر مقامی کارپوریٹر اور مکین پینے کے پانی کے لئے متعدد مرتبہ مورچہ نکال چکے ہیںلیکن مسئلہ حل نہیں کیاجارہا ہے۔‘‘
سیف پٹھان نے مزید کئی مسائل پیش کئے جن میں سے چند اس طرح ذیل ہیں:ممبرا کی آبادی تقریباً ۹؍لاکھ کی آبادی ہے، اس اعتبار سے ۱۳۵؍ ایل پی سی ڈی پانی سپلائی ہونا چاہئے لیکن صرف ۸۲؍ ایل پی سی ڈی ملتا ہے۔
-۱۰۰؍ تا ۱۵۰؍ کروڑ روپے کی سڑک تعمیر کی گئی ، پھر پائپ لائن اور کیبل کیلئے توڑی گئی ، پہلے سے مناسب ڈکٹنگ سسٹم کیوں نہیں؟یہ ترقی ہے یا پیسہ باربارخر چ کرنے کا نظام؟۱۵۰؍ کروڑ روپے کا میونسپل اسپتال پرائیویٹ کے ہاتھ میں، نہ ڈاکٹر، نہ ادویات، نہ ایمبولینس ، غریب آدمی جائے تو جائے کہاں؟ ٹی ایم سی ممبرا کو فوراً مفت ایمبولینس سروس دے۔ٹی ایم سی سکول کے۲؍ ہزار سے زیادہ طلبہ ایک سال سے اسکول سے بہار، مرمت کے نام پر کروڑ کا کرپشن؟ پرائیویٹ اسکولوں کی من مانی فیس ،ذمے دار کون؟-تقریباً ۱۰؍ لاکھ کی آبادی، بچوں کے کھیلنے کے لیے ایک بھی میدان نہیں!۵؍ ریزرویشن پلاٹس کی تفصیلات دی گئی ،فوراً یہاں گراؤنڈ ڈیولپ کیا جائے!انہوں نے کہا کہ یہ صرف تقریر نہیں بلکہ ممبرا کے حق کی لڑائی کا آغاز ہے۔