• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان پھاٹا جنکشن پر فلائی اوور کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ بالآخر دور

Updated: September 23, 2026, 11:00 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

ریاستی حکومت نے فلائی اوور کے لئے درکار جنگلاتی زمین کی منتقلی کو حتمی منظوری دے دی۔

Shil Phata Road, where a flyover is planned at the extremely busy Kalyan Phata Junction. Photo: INN
شیل پھاٹاروڈ جہاں کے مصروف ترین کلیان پھاٹاجنکشن پرفلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ تصویر: آئی این این

شیل پھاٹا روڈ پر واقع مصروف ترین کلیان پھاٹا جنکشن پر مجوزہ فلائی اوور کی تعمیر کی راہ میں حائل سب سے بڑی اور طویل عرصے سے درپیش رکاوٹ بالآخر دور ہو گئی ہے۔ریاستی حکومت نے فلائی اوور  کیلئے درکار جنگلاتی زمین کی منتقلی کو حتمی منظوری دے دی ہے جس سے برسوں سے ٹریفک جام کے سنگین مسئلہ سے نجات ملنے کی قوی امید ہے۔حکومت کے ذرائع کے مطابق فلائی اوور کی تعمیر کیلئے    درکار۰ء۵۴۹۶؍ ہیکٹر جنگلاتی اراضی کو باضابطہ طور پر ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ( ایم ایم آر ڈی اے) کے سپرد کرنے کا سرکاری حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: موسلادھار بارش سے کئی سڑکیں زیر آب، ٹریفک متاثر

قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے علاقائی دفتر نے پہلے ہی اس کی منظوری دے دی تھی۔ ٹینڈر کا عمل مکمل ہونے کے باوجود جنگلاتی اراضی کا کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے کام رکا ہوا تھا۔ تاہم حکومت کے نوٹیفکیشن کے بعد اب تعمیراتی کام کے آغاز کی تمام رکاوٹیں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔کلیان پھاٹا جنکشن طویل عرصے سے کلیان، ڈومبیولی، الہاس نگر، امبرناتھ اور بدلاپور سے آنے جانے والی گاڑیوں کیلئے بدترین ٹریفک جام کا مرکز بنا ہوا ہے ۔دفتری اوقات میں مسافروں کو گھنٹوں جام میں پھنسے رہنا پڑتا ہے۔اس فلائی اوور کی تعمیر سے نوی ممبئی، مہاپے اور تھانے کے درمیان روزانہ آمد و رفت کرنے والے ہزاروں ملازمین اور مسافروں کے وقت اور ایندھن کی بڑی بچت ہوگی اور سفر انتہائی ہموار ہو جائے گا۔ایم ایم آر ڈی اے کے مطابق ​مجوزہ کلیان پھاٹا فلائی اوور کی کل لمبائی ۲۳۹۴ ؍ میٹر جبکہ چوڑائی ۲۰۔۲۴ میٹر ہوگی۔مستقبل کی سفری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار نے اس فلائی اوور کو مجوزہ میٹرو لائن-۱۴ کے ساتھ مربوط کرنے کی تکنیکی تجویز بھی پیش کی ہے۔جس پر مثبت انداز میں غور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK