سائنسدانوں کا سنسنی خیز انکشاف، اس نقصان کے باعث عالمی سمندر وں کی سطح میں ۳؍ سینٹی میٹر سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 1:45 PM IST | Agency | New Delhi
سائنسدانوں کا سنسنی خیز انکشاف، اس نقصان کے باعث عالمی سمندر وں کی سطح میں ۳؍ سینٹی میٹر سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے چونکانے والے اعداد و شمار پیش کئے ہیں۔۱۹۷۹ء سے لے کر۲۰۲۳ء تک گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کی برف کی چادروں سے مجموعی طور پر تقریباً۱۲ء۵؍ ٹریلین یعنی۱۲؍ لاکھ کروڑ ٹن برف کم ہو گئی ہے۔ یہ اتنی برف ہے کہ اگر اسے امریکہ کے پورے براعظم پر پھیلا دیا جائے تو۵؍ فٹ دبیز تہہ بن جائے گی۔ اس نقصان کے باعث عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں۳ء۱؍ سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ تحقیق ’سائنٹفک ڈیٹا‘ جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کی مصنفہ انیس اوتوساکا کے مطابق یہ اعداد و شمار۲۷؍ سیٹیلائٹ مشینوں کے ڈیٹا سے سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ سائنسداں۱۹۹۰ء کی دہائی سے ہی ڈیٹا دیکھ رہے تھے۔ اب ناسا اور یورپی اسپیس ایجنسی کے پرانے سیٹیلائٹس کے اعداد و شمار کو شامل کر کے ریکارڈ۱۹۷۰ء کی دہائی تک بڑھایا گیا ہے۔ گرین لینڈ کے لیے ۱۹۷۲ء اور انٹارکٹیکا کے لیے۱۹۷۹ء سے اعداد و شمار دستیاب ہیں۔ اس سے نصف صدی کے دوران ہونے والی تبدیلی واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ۸۴؍ فیصد برف کا نقصان سطح پر گرم ہوا سے پگھلنے کے باعث نہیں بلکہ نیچے اور کناروں سے گرم سمندری پانی کے کٹاؤ کی وجہ سے ہوا ہے۔ گلیشیر تیزی سے بہہ کر سمندر میں گر رہے ہیں۔ صرف۱۶؍ فیصد نقصان سطح کے پگھلنے کی وجہ سے ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ڈیوس کپ: ہندوستان کے سامنے جنوبی کوریا کا چیلنج
اس اسٹڈی کےشریک مصنف اینڈریو شیفرڈ نے خبردار کیا کہ یہ سمندر کی سطح میں اضافے کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ اس کے باعث مزید۶۰؍ سے۹۰؍ لاکھ افراد ساحلی سیلاب کے خطرہ میں آ گئے ہیں۔ تقریباً۶۰؍ فیصد نقصان گرین لینڈ اور۴۰؍ فیصد انٹارکٹیکا سے ہوا ہے۔ گرین لینڈ چھوٹا ہونے کے باوجود زیادہ برف کھو رہا ہے۔۱۹۸۰ء کی دہائی میں گرین لیڈ سالانہ تقریباً۶۰؍ ارب ٹن برف کھوتا تھا۔۲۰۱۰ء کی دہائی میں یہ بڑھ کر ۲۶۴؍ ارب ٹن ہوگیا۔انٹارکٹیکا میں بھی نقصان۴؍ گنا تیز ہوگیا ہے۔ جیکب شون گلیشیر جیسے مقامات پر برف اب روزانہ۵۰؍ میٹر تک پیچھے ہٹ رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پگھلی ہوئی برف کے باعث سمندر کی سطح میں۳ء۱؍ سینٹی میٹر کا اضافہ معمولی لگ سکتا ہے، لیکن ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ۲۰؍ سے۳۰؍ لاکھ افراد سال میں کم از کم ایک بار سیلاب کا سامنا کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پگھلی ہوئی برف تقریباً۳؍ ’کوآڈریلین گیلن‘ پانی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے ساحلی شہروں، جزیروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور ان کی زندگی بہت زیادہ مشکل ہو جائے گی۔