• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وکھرولی قبرستان کیلئے ایس وارڈ کے سامنےعلامتی جنازہ رکھ کر زبردست احتجاج

Updated: September 18, 2026, 2:18 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Vikhroli

مجوزہ قبرستان کمیٹی کے اراکین نےکہا: اس کے ذریعے بی ایم سی افسران کو جگایا اور انہیں۲؍ماہ قبل کیا گیا وعدہ یاد دلایا گیا۔ متنبہ کیا کہ اگر اب بھی نہ جاگے اور۳۰؍ ستمبر تک مسئلہ حل نہ کیا گیا تو گاندھی جینتی پرحقیقی میت ایس وارڈ لائی جائے گی۔

A protest is being held by placing a symbolic funeral bier in front of the S-Ward office to demand a graveyard. Photo: Inquilab
قبرستان کیلئے ایس وارڈ آفس کے سامنے علامتی جنازہ رکھ کر احتجاج کیا جارہا ہے۔ تصویر: انقلاب

یہاں قبرستان کے لئے مسلسل ٹال مٹول کا رویہ اپنانے اور وعدےپر۲؍ ماہ بعد بھی عمل درآمد نہ کرنے پر ’ایس وارڈ‘ کے سامنے علامتی جنازہ رکھ نعرے لگاتے ہوئے زبردست احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین کے جارحانہ رخ کو دیکھتے ہوئے پہلے تو بہانہ بناکر وارڈ آفیسر کے دفتر سے کہا گیا کہ وارڈ  آفیسرمیڈم دفتر میں نہیں ہیں، دو دن بعد ملیں گی مگر مظاہرین کسی صورت ماننے کو تیار نہیںتھے جس کے نتیجے میںمجبوراً انہیں سامنے آکر مظاہرین سے گفتگو کرنی پڑی۔ بدھ ۱۶؍ ستمبر کے دن ہونے والی اس میٹنگ میں ایک مرتبہ پھر یہ وعدہ کیا گیا کہ ۳۰؍ستمبر تک جوائنٹ میٹنگ لے کر قبرستان کے مسئلے کو حل کردیا جائے گا۔ 

یادر ہے کہ مقامی مسلمانوں کے لئے قبرستان نہ ہونے سے میت کی تدفین سنگین مسئلہ ہے، انہیں میت گھاٹکوپر لے جانی پڑتی ہے۔ ۵۰؍ سال سے زائد عرصے سے کئی طرح سے کوشش کے باوجود اب تک اس کا حل نہیں نکل سکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:حکومت سے ۸؍ ہزار تجربہ کار کمپیوٹر ٹیچروں کی باقاعدہ تقرری کامطالبہ

’’ہم نے طے کیا تھا کہ جواب لے کرجائیں گے‘‘

احتجاج اورمیٹنگ کے تعلق سے برادرس فاؤنڈیشن کے ذمہ دار اور وکھرولی قبرستان کیلئے پیش پیش رہنے والے واجد قریشی نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ’’اس سے قبل جولائی کے شروع میں احتجاج کرنے پر ایس وارڈ کی وارڈ آفیسرسمر ن شبانہ سلیم سید نے یقین دلایا تھا کہ ہمیں ۲؍ماہ کا وقت دیجئے، ہم تمام ضابطوں کی تکمیل کرنےکے بعد قبرستان کی تعمیر شروع کر دیں گے۔ وعدے کے مطابق بدھ کو جب ہم لوگ ایس وارڈ پہنچے تو ہمیں بتایا گیا کہ وارڈ آفیسر نہیں ہیںمگر ہم لوگوں نے بھی طے کیا تھا کہ آج بغیرجواب لئے نہیں جائیں گے، چنانچہ ہم سب ایس وارڈ کے گیٹ پر ہی   دھرنے پر بیٹھ گئےاورعلامتی جنازہ بھی لے جایا گیا۔ اس کااثر یہ ہوا کہ میٹنگ کرکے ۳۰؍ ستمبر تک مسئلہ حل کرنے کا یقین دلایا گیا۔‘‘

اس سے قبل ۸؍ جولائی کو احتجاج کیا گیا تھا

اس سے قبل ۸؍جولائی کو وکھرولی قبرستان کے لئے کوشاں رہنے والوں نے یووا بھیم سینا کے ذمہ دار ولاس ارجن مانے کے ہمراہ بھی احتجاج کیا تھا اورپولیس اسٹیشن کے گیٹ اور ایس وارڈ میں دھرنا دیا تھا۔ اس دھرنے کے ۲؍ دن بعد قبرستان کے لئے ریزرو پلاٹ پربی ایم سی کی جانب سے بورڈ آویزاں کردیا گیا تھا مگر اس پرقبرستان نہیں لکھا گیا تھا۔

مشترکہ میٹنگ میںکون کون ہوگا؟

مشترکہ میٹنگ ڈپٹی میونسپل کمشنربرائے صحت عامہ ( ڈی ایم سی پی ایچ )کے ساتھ ہوگی۔ اس میں وارڈ آفیسر، ہیلتھ آفیسر، مینٹیننس ڈپارٹمنٹ اور مجوزہ وکھرولی قبرستان کمیٹی کے اراکین شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے:ویرار علی باغ کوریڈور سے متاثر کسانوں کے معاوضے میں یکسانیت کا مطالبہ

’’مزید انتظارنہیں کیا جائے گا‘‘

اگرمشترکہ میٹنگ میں مسئلے کا حل نہ نکلا اور قبرستان کی تعمیر شروع نہ کی گئی تو مظاہرین نےیہ بھی واضح کردیا ہے کہ ہم سب ۲؍اکتوبرکو گاندھی جینتی کے موقع پر حقیقی معنوں میں میت ایس وارڈ آفس کے سامنے رکھیں گے اور وارڈ آفیسر  اور دیگر افسران سے یہ پوچھیں گے کہ اس میت کو ایس وارڈ میں دفنایا جائے یا جہاں آپ لوگ جگہ بتائیں، وہاں دفن کیا جائے۔‘‘مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ ٹال مٹول کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو قبرستان کی زمین الاٹ کرنے کے باوجود اس کی تعمیر نہ کی جائے اور اس طرح گویا سانپ سیڑھی کا کھیل جاری رہے مگر اب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے، مزیدانتظار نہیںکیا جائے گا۔‘‘

علامتی جنازہ لے کر احتجاج کرنے اور وارڈ آفیسر سے میٹنگ کرنے والوں میں عبدالرحمٰن انصاری، واجد قریشی، عبدالرحمٰن تمبولی، شمیم عرف چنٹو شیخ، ثناء قریشی، جمیل شیخ، سردار شیخ ، شفیق بوباڈے، اخلاق قریشی، محمدفاروق، ابراہیم شیخ ، رفیق شیخ ، انصار شیخ، رضوان ملک، عمران ملک اور عادل شیخ وغیرہ شامل تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK