• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عینک سازی بھی، تدریسی خدمات بھی اور تراویح کا اہتمام بھی

Updated: February 26, 2026, 12:03 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

حافظ مولانا ساجد محمدپالنپوری تکمیل حفظ کے بعد سے ۱۶؍ سال سے تراویح پڑھارہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بھی رمضان کی برکت ہے کہ لاکھوں حفاظ کا حفظ روشن ہے۔

Hafiz Maulana Sajid Muhammad Palanpuri Is Busy Reciting.Photo:INN
حافظ مولانا ساجد محمدپالنپوری تلاوت میں مصروف۔ تصویر:آئی این این
 عینک سازی ، تدریسی خدمات اور تراویح پڑھانے کا اہتمام۔ حافظ مولانا ساجد محمد ورالیا پالنپوری۱۶؍ برس سے تراویح پڑھارہے ہیں۔انہوں نے ۱۳؍ سال کی عمر میں پالن پور کے جامعہ خلیلیہ خلیل آباد ماہی میں حافظ محمد یعقوب کے پاس حفظ مکمل کیاتھا ۔ اس کے بعد جامعہ قاسمیہ رتن پور گجرات میں داخلہ لیا اور عالمیت کی۔
۳۲؍ سالہ حافظ ساجد نے پہلی تراویح اپنے گاؤں بادر گڑھ کی مسجد میں پڑھائی۔ اس کے بعد اجمیر نصیرآباد میں، جے پور سامود میں، ممبئی آنے کے بعد مسجد عمر میں، زمزم ہوٹل میں اور اس وقت مدرسہ ومسجد حیات العلوم (مالونی) میں پڑھارہے ہیں۔حافظ ساجد کے مطابق  لاک ڈاؤن کے بعد ایسا لگا تھا کہ تراویح پڑھانا مشکل ہوگا، ہمت جواب دینے لگی تھی، ذہن پر خوف کی کیفیت تھی مگر قرآن کی برکت سے تائید غیبی شامل رہی ، محنت کی اور اب آسانی سے تراویح پڑھارہے ہیں۔ بلوغت سے قبل حافظ ہوگئے تھے اور تراویح پڑھانے کا موقع نہیں ملا تھا، اس دوران بھی غفلت ہوئی تھی مگر بعد میں تلاوت اور قرآن کریم سنانے کا معمول بن گیا۔
حافظ ساجد نے حفظ کے دوران کا ایک دلچسپ مگر سبق آموز واقعہ سنایا۔ ان کے  استاد حافظ یعقوب کے استاد قاری محمد اسماعیل صاحب جامعہ ہٰذا تشریف لائے۔ انہوں نے کچھ سوالات کئے اور جامعہ خلیلیہ کے ساتھ علاقے کی مناسبت سے ’ماہی‘ بھی لگا ہے تو فرمایا بتاؤ ’’ماہی ‘‘قرآن میں کہا آیا ہے۔حافظ ساجد نے جواب دیا پہلے پارے میں پاؤ پارہ اور نصف کے درمیان ، تو بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیں۔
حافظ ساجد کا کہنا ہےکہ قاری صاحب کے اس انداز سے محسوس ہوا کہ بڑے اساتذہ کس طرح باتوںباتوں امتحان لے لیتے ہیں۔حافظ ساجد کے والد کاشت کار تھے ۔ ان کی خواہش تھی کہ بیٹا حافظ عالم بنے۔ مگر مشیت ایزدی کوکچھ اورمنظور تھا۔ والد کا اُس وقت انتقال ہوگیا جب حافظ ساجد محض ۵؍ سال کے تھے۔ بچپن کے ایام کسمپرسی میں گزرے لیکن والدہ نے اپنے شوہر کی خواہش کو پیش نظر رکھا اور دینی علوم کے حصول کے لئے راہ ہموار کی، اس طرح والدین کی قربانی اور ان کی خواہش کو باری تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔
 
 
عینک سازی کا ہنر سیکھنے کے تعلق سے تفصیل بتانے سے قبل حافظ ساجد نے دوران گفتگو ایک اہم جملہ کہا ۔ ان کے مطابق رمضان کی برکت سے کتنے حفاظ کا حفظ باقی اورحافظہ روشن ہے۔ اس کی وضاحت طلب کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ رمضان میں تراویح کا اہتمام کرنے کے سبب حفاظ خصوصی تیاری کرتے ہیں، دن رات محنت کرتے ہیں اور انہیں یہ فکر ہوتی ہے کہ ممتحن نے تو چند مقامات سے پڑھواکر نمبر دیا تھا، یہاں تو گویا تیس پاروں کا پورے ماہ امتحان دینا ہے۔ اس فکر کی برکت سے قرآن تازہ ہوجاتا ہے اور جس طرح سبق میں پڑھا تھا تقریبا ًاسی انداز میں یاددہانی ہوجاتی ہے۔ اس لئے اگر رمضان نہ ہوتا تو بہت سے حفاظ محنت نہ کرتےاور تلاوت پرمداومت نہ ہوتی ، اس طرح وہ خداوند قدوس کی عطا کردہ عظیم دولت سے محروم ہوجاتے اور قرآن جس طرح یاد رہنا چاہئے نہ رہتا۔
 
 
عینک سازی کے ہنر کے تعلق سے حافظ ساجد کا کہنا تھا کہ ممبئی بغرض معاش آنے کےبعد یہ خیال گزرا کہ تدریسی خدمات توجاری رہیں گی اگرفاضل اوقات میںکوئی ہنرسیکھ لیا جائے توخود کفیل بننے میں مزید مدد ملے گی۔ بس اسی غرض سے عینک سازی سیکھی ۔اس لائن کےان کے استاذویلکم آئی کیئر کے مالک حافظ شمشیر صاحب ہیں۔یہ بھی حسنِ اتفاق ہے کہ دکان کے مالک ،کام کرنےوالے اُن کے بھانجے حافظ توقیر اورخود حافظ ساجد، تینوں تراویح سنارہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK