Updated: March 28, 2026, 3:54 PM IST
| Kuala Lumpur
ملائیشیا کے کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کم از کم آٹھ اسرائیلیوںکو حراست میں لیا گیا، جس سے سفارتی اور سفری خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق کچھ مسافر چیٹ بوٹس کے مشورے پر سفر کر رہے تھے، جس نے انہیں غلط سیکوریٹی اندازہ دیا۔ کئی افراد کو ۴۸؍ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا اور بعد میں دیگر ممالک ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے الزام لگایا کہ کارروائی صرف قومیت کی بنیاد پر کی گئی، جبکہ یہ معاملہ ۷؍ اکتوبر کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جڑا ہوا بتایا جا رہا ہے۔
ملائیشیا میں ایک نیا سفارتی اور سیکوریٹی تنازع سامنے آیا ہے جہاں اسرائیل کے کم از کم آٹھ شہریوں کو کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا، جب وہ یا تو ملک میں داخل ہو رہے تھے یا ٹرانزٹ میں تھے۔ ملائیشیا اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث، ایسے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم حالیہ واقعات نے خاصی توجہ حاصل کی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ کچھ مسافروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سفر سے قبل چیٹ بوٹس سے مشورہ لیا تھا، جنہوں نے راستے کو محفوظ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی کانگریس میں بغاوت، ایران جنگ پر واک آؤٹ
رپورٹس کے مطابق، ایک کیس میں چار اسرائیلی شہری، جن میں دو خواتین شامل تھیں، فلپائن جا رہے تھے، لیکن انہیں روک لیا گیا، جس کے بعد وہ واپس تھائی لینڈ چلے گئے۔ دیگر مسافروں کو تقریباً ۴۸؍ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاںکمبوڈیا جیسے ممالک میں ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بعض افراد کی رہائی سنگاپور میں اسرائیلی حکام کی مداخلت کے بعد ممکن ہوئی، جو اس معاملے کی سفارتی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسرائیلی سفیر الیاہو ویرید ہازان نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاریاں ’’صرف قومیت کی بنیاد پر‘‘ کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا، ’’جب زندگیاں داؤ پر لگی ہوں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ سفارتی ذرائع کے مطابق ۷؍ اکتوبر کے بعد سے ملائیشیا میں اسرائیلی شہریوں کے خلاف سختی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جسے بعض حلقے وسیع تر جغرافیائی کشیدگی سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر سفری رہنمائی، سفارتی تعلقات اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کو بھی واضح کرتی ہے، جہاں ایک غلط ڈجیٹل مشورہ سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔