• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملائیشیا: اسرائیل جانے والے مزید تین کنٹینر ضبط، پابندیوں پر سختی کا اشارہ

Updated: September 16, 2026, 8:02 PM IST | kuala lumpur

ملائیشیا نے اسرائیل جانے والے تین مزید کنٹینرز کو ملک کی سب سے بڑی بندرگاہوں میں سے ایک پر روک لیا ہے، بلومبرگ نے پیر کو معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا۔ یہ اقدام اسرائیل جانے والی ترسیلات کی بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا اشارہ ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

 بلومبرگ نے پیر کو معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا ملائیشیا نے اسرائیل جانے والے تین مزید کنٹینرز کو ملک کی سب سے بڑی بندرگاہوں میں سے ایک پر روک لیا ہے،ذرائع کے مطابق، تینوں کنٹینرز کو۱۹؍ اگست کو تنجنگ پیلیپاس بندرگاہ پر روکا گیا اور حکام کی جانب سے ان کے مواد کی تحقیقات کے دوران وہیں موجود رہے۔ واضح رہے کہ یہ بندرگاہ ملائیشیا کی سب سے مصروف اور اسٹریٹجک بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو آبنائے ملاکا کے قریب واقع ہے اور عالمی تجارتی راستوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔تازہ ترین ضبطی اس وقت سامنے آئی ہے جب دو ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل۷؍ اگست کو ملائیشیائی حکام نے اسی بندرگاہ تنجنگ پیلیپاس پر اسرائیل کو مشتبہ برآمدات کے الزام میں ایک اور کنٹینر کو روکا تھا۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، پہلی کھیپ فلپائن سے شروع ہوئی تھی اور اس میں ہتھیار ہونے کا شبہ تھا کیونکہ یہ اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے نام پر بھیجی جا رہی تھی۔ ایلبٹ سسٹمز اسرائیل کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو ڈرون، نگرانی کے نظام اور گولہ بارود تیار کرتی ہے۔اس ابتدائی ضبطی کے بعد وزیر اعظم انور ابراہیم نے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملائیشیا اپنی سرزمین کو ایسی تجارت کے لیے ٹرانزٹ روٹ بننے کی اجازت نہیں دے گا جو اسرائیل کی حمایت کر سکے۔ انور ابراہیم کے مطابق، ملائیشیا نے دسمبر۲۰۲۳ء سے اسرائیلی بحری جہازوں اور اسرائیل کو سامان لے جانے والے بحری جہازوں کے اپنی بندرگاہوں کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ پابندی غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں عائد کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ غزہ میں بچوں کے قتل پر اب مزید خاموش نہیں رہے گا: فرسٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ

واضح رہے کہ کوالالمپور کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور وہ بارہا اسرائیل سے متعلق تجارت اور شپنگ پر پابندیاں سخت کرتا رہا ہے۔ مزید برآں ملائیشیا فلسطینی کاز کا دیرینہ حامی رہا ہے اور بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کے اقدامات کی سخت مذمت کرتا رہا ہے۔حالیہ کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشیا اپنی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کر رہا ہے اور کسی بھی ایسی شپمنٹ کو روکنے کے لیے تیار ہے جو پابندیوں کی خلاف ورزی کرے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کنٹینرز بندرگاہ پر ہی رہیں گے اور اگر غیر قانونی مواد پایا گیا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK