ایمنیسٹی انٹرنیشنل ملائیشیا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ۱۴۷۵؍ روہنگیا پناہ گزینوں کی میانمار واپسی فوری روکی جائے ، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ رخائن ریاست میں حالات اب بھی غیر محفوظ ہیں۔
EPAPER
Updated: September 01, 2026, 10:03 PM IST | kuala lumpur
ایمنیسٹی انٹرنیشنل ملائیشیا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ۱۴۷۵؍ روہنگیا پناہ گزینوں کی میانمار واپسی فوری روکی جائے ، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ رخائن ریاست میں حالات اب بھی غیر محفوظ ہیں۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل ملائیشیا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ۱۴۷۵؍ روہنگیا پناہ گزینوں کی میانمار واپسی فوری روکی جائے ، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ رخائن ریاست میں حالات اب بھی غیر محفوظ ہیں۔یہ واپسی میانمار کے حکام کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت کی جا رہی ہے، جس کے تحت ۵۰۰۰؍پناہ گزینوں کو واپس بھیجا جانا ہے، اور اس کا آغاز۲۹؍ ستمبر کو ۱۴۷۸؍افراد (جن میں اکثریت روہنگیا کی ہے) سے ہوگا۔ یہ منصوبہ میانمار میں جاری تنازع اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل ملائیشیا کی ترجمان دیویا شیشن بالکرشنن نے کہا کی ’’میانمار کی صورتحال بنیادی طور پر غیر محفوظ ہے، اور میانمار اور ملائیشیا کے حکام کی جانب سے کوئی بھی یقین دہانی اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’عدمِ واپسی‘‘ کا اصول، جو لوگوں کو ایسی جگہوں پر واپس بھیجنے سے منع کرتا ہے جہاں انہیں ظلم و ستم یا سنگین نقصان کا سامنا ہو،ناقابلِ مذاکرات ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے تعلق سے خبر پر ٹرمپ کی دھمکی آئین کی خلاف ورزی: امریکی وفاقی عدالت
ایمنیسٹی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی حالیہ جائزوں کا حوالہ دیا، جس نے۲۵؍ اگست کو کہا تھا کہ میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال ’’نئی پست ترین سطح‘پر پہنچ گئی ہے، جس میں رخائن ریاست میں روہنگیا کے خلاف بدترین زیادتیاں بھی شامل ہیں۔میانمار میں روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق کی صورتحال‘‘ کے عنوان سے رپورٹ میں روہنگیا کو ہر فریق کی جانب سے منظم امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والا قرار دیا گیا، جس میں کسی کو سزا نہیں ملتی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ میانمار کی فوج، رخائن ریاست پر اپنا کنٹرول آراکان آرمی کے ہاتھوں کھونے کے بعد، تیزی سے فضائی حملوں پر انحصار کر رہی ہے، جن میں شہری علاقے بھی شامل ہیں۔
فوج نے تقریباً ایک لاکھ افراد کو جبری بھرتی کیا ہے، جن میں سے بہت سے روہنگیا ہیں، اور مبینہ طور پر کچھ کو شراب پینے پر مجبور کیا گیا، آرام سے محروم رکھا گیا اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ نے آراکان آرمی پر بھی الزام لگایا کہ اس نے روہنگیا کی زمینیں ضبط کیں، لوگوں کو حراستی مراکز بنانے پر مجبور کیا اور سرحدی گزرگاہوں پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ مبینہ طور پر روہنگیا قیدیوں نے حراست میں دوران مار پیٹ، تشدد اور دیگر زیادتیوں کا ذکر کیا۔ترجمان شیشن نے کہا کہ ’’ملائیشیا بیک وقت یہ نہیں کہہ سکتا کہ میانمار بحران کا شکار ہے اور پھر پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی تیاری کرے۔نہوں نے نوٹ کیا کہ "ملائیشیا نے برسوں میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر آواز اٹھائی ہے، لیکن اب اس موقف کی ساکھ اس کے اپنے اقدامات سے دھوکہ کھا رہی ہے۔
مزید برآں ایمنیسٹی نے ملائیشیا کے پناہ گزین رجسٹریشن دستاویز (DPP) کے گرد شفافیت کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اور خبردار کیا کہ پناہ گزینوں کے تحفظ، حراست اور ممکنہ واپسی سے متعلق فیصلے، جو مناسب نگرانی کے بغیر کیے جائیں، خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ادارے نے ملائیشیا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی واپسی روکے جو پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کو ظلم و ستم یا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دوچار کر سکتی ہیں، اپنے پناہ گزینوں کے انتظامی نظام کی آزادانہ نگرانی کو مضبوط کرے، اور اپنی پالیسی کو تحفظ اور حقوق پر مبنی حل کی جانب موڑے۔امنیسٹی نے ملائیشیا سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ آسیان کے اندر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے میانمار کے بحران سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے احتساب اور پائیدار حل کو فروغ دے، اور۱۹۵۱ء کے پناہ گزینوں کے کنونشن اور اس کے۱۹۶۷ء کے پروٹوکول کی توثیق کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: کولمبیا یونیورسٹی: سابق اسرائیلی فوجی کی ’فلسطین حامی‘ بھیس میں مہم، شدید ردعمل
واضح رہے کہ روہنگیا میانمار کی راخائن ریاست سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی مسلم نسلی اقلیت ہے جس نے کئی دہائیوں تک امتیازی سلوک کا سامنا کیا ہے اور اسے شہریت سے محروم رکھا گیا ہے، جس سے یہ دنیا کی سب سے بڑی بے وطن آبادی میں سے ایک بن گئی ہے۔ میانمار میںمظالم سے بچنے کیلئے دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا نے مختلف ممالک میں پناہ لی ہے، تاہم ۹؍ سال بے وطنی میں گزارنے کے بعد انہیں دوبارہ میانمار بھیجنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔