Updated: January 21, 2026, 10:03 PM IST
| Kolkata
مغربی بنگال کے مالدا ضلع میں ایک مسلم شخص ایس آئی آر کی سماعت میں شرکت کیلئے اپنے دادا کی قبر کی مٹی لے کر پہنچا، اس کا کہنا ہے کہ بار بار طلب ہونے اور ثبوت کے نئے مطالبات نے اس کے خاندان کو انتہائی مشکل میں ڈال دیا ہے، ساتھ ہی اس نے ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔
مغربی بنگال کے مالدا ضلع میں ایک واقعہ نے تہلکہ مچا دیا ہے جہاں ایک مسلم نوجوان نے اپنے دادا کی قبر کی مٹی ایک پیکٹ میں بھر کر اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) سماعت مرکز پر پہنچا دی۔ سالک نامی اس شخص کا کہنا تھا کہ بار بار طلب ہونے اور ثبوت کے نئے مطالبات نے ان کے خاندان کو انتہائی مشکل میں ڈال دیا ہے۔
ہریش چندر پور بلاک ۱ ؍کے واری دولت پور گاؤں کے رہنے والے سالک نے بتایا کہ تمام دستاویزات جمع کرانے کے باوجود ان کے خاندان کے ہر فرد کو بار بار طلب کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے بعد میں ان کے دادا کے نام سے زمین کے ریکارڈ طلب کیے جو خاندان کے پاس موجود نہیں ہیں۔ سالک نے کہا، ’’الیکشن کمیشن ہمیں بار بار تنگ کر رہا ہے۔ ہم نے اپنے تمام کاغذات دکھا دیے ہیں، پھر بھی ہمیں دوسری سماعت کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ وہ ہمیں طلب کرتے ہیں لیکن کچھ سمجھاتے نہیں۔ مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میرا نام ووٹر لسٹ میں ہے؟‘‘قبر کی مٹی کا پیکٹ تھامتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں اپنے دادا کی قبر کی مٹی لے کر آیا ہوں۔ انہیں اس کا ٹیسٹ کرا لینا چاہیے۔ تب انہیں پتہ چل جائے گا کہ میرے دادا ہندوستانی تھے یا بنگلہ دیشی۔ اب تک سب کچھ مماثل تھا، اچانک وہ کہتے ہیں کہ نام مماثل نہیں ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مسلم شخص پرفائرنگ کرنے والے افسران پر ایف آئی آر کا حکم دینے والے سنبھل جج کا تبادلہ
سالک نے بتایا کہ سماعت مرکز پر روزانہ لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ حاملہ خواتین، بزرگ اور بہنیں گھنٹوں کھڑی رہتی ہیں۔ ہر کوئی پریشان ہے۔ پہلے کبھی اس قسم کا خوف نہیں تھا۔اس واقعے پر چانچل الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر اور سب ڈویژنل آفیسررتھک ہزارا کا مختصر ردعمل تھا۔ کمیشن کے رہنما خطوط کے مطابق کام ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں سے دوسری سماعت کے لیے حاضر ہونے کو کہا جا رہا ہے۔ اس بارے میں میرے پاس کچھ اور کہنے کو نہیں ہے۔تاہم اس واقعے نے ضلع میں سیاسی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ بی جے پی لیڈروںنے کسی بھی بد انتظامی سے انکار کرتے ہوئے اسے ترنمول کانگریس کاشعبدہ قرار دیا۔بی جے پی نارتھ مالدا آرگنائزیشنل کمیٹی کے رکن کشور کیدیہ نے کہا، ’’یہ ایجنسی آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے اور اسے کام کرنے دیا جانا چاہیے۔ ہر شخص سے غلطیاں ہوتی ہیں اور انہیں دور کرنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔ ڈرامہ بازی غلط ہے۔ ترنمول کانگریس لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے اور انتشار پھیلا رہی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ان کے بیانات کی وجہ سے ہی اس شخص نے قبر کی مٹی لائی ہے۔ یہ بے امنی پھیلانے کی ایک سازش ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اترپردیش: لکھنؤ میں کشمیر میوہ فروش کے ساتھ زیادتی، پاکستانی کہہ کر ہراساں کیا
جبکہ ترنمول کانگریس لیڈروں نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ہندوستانی مسلمانوں کی اس خوف کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ جاری عمل کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ضلعی جنرل سکریٹری ضیاء الرحمان نے کہا، ’’یہ واقعہ عام لوگوں میں پھیلے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ ایس آئی آر کے نام پر بہت سے خاندانوں میں خوف پیداکیا جا رہاہے ۔ اسی لیے اس نوجوان نے یہ قدم اٹھایا کہ وہ ہندوستانی ہے۔انہوں نے مزید کہا، ’’الیکشن کمیشن بی جے پی کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ اس واقعے کو جعلی کہنا لوگوں کے تکالیف کی توہین ہے۔‘‘
تاہم جب مالدا میں سماعتیں جاری ہیں، تو گاؤں گاؤں میں ایک خاموش سوال گونج رہا ہے کہ وہ خاندان جن کے پاس دہائیوں پرانے دستاویزات ہیں، ان سے بار بار یہ ثابت کرنے کیوں کہا جا رہا ہے کہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں؟