اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں کشمیر میوہ فروش کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ، جہاں اسے پاکستانی کہہ کر ہراساں کیا گیا، اگرچہ یہ ویڈیو دس دن پرانی بتائی جا رہی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس نے وسیع پیمانے توجہ حاصل کی ہے۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 9:05 PM IST | Luckhnow
اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں کشمیر میوہ فروش کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ، جہاں اسے پاکستانی کہہ کر ہراساں کیا گیا، اگرچہ یہ ویڈیو دس دن پرانی بتائی جا رہی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس نے وسیع پیمانے توجہ حاصل کی ہے۔
یوپی کے دارالحکومت لکھنؤ میں کشمیری خشک میوہ فروش تاجروں کے ساتھ ہراسانی کی ایک ویڈیو نے غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ واقعہ اولڈ جیل روڈ پرعالم باغ پولیس تھانہ حدود میں پیش آیا، جہاں کشمیر سے تعلق رکھنے والے تاجر کئی سالوں سے سڑک کنارے اسٹال لگاتے چلے آ رہے ہیں۔وائرل ہونے والی کلپ میں کچھ شرپسندوں کو کشمیری تاجروں کو روکتے، گالیاں دیتے اور انہیں ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاجروں کو پاکستانی کہہ کر پکارا جا رہا ہے اور انہیں دھمکایا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ ویڈیو دس دن پرانی بتائی جا رہی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس نے وسیع پیمانے پر توجہ حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوئیڈا سڑک حادثہ: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دردناک موت کا انکشاف، جوابدہی کا مطالبہ
متاثر وحید احمد ملک، جو جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے رہائشی ہیں، نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیل بیان کی۔ملک نے کہا، "میں ہر روز کی طرح صبح کام پر آیا۔ کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے کہ تم یہاں تب تک فروخت نہیں کر سکتے جب تک ہمارے مذہبی نعرے نہیں لگاتے۔‘‘ملک کے مطابق انہوں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی، ’’میں نے ان سے کہا، `ہم ہندوستانی ہیں ،آپ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟ اس کے بعد انہوں نے مجھے پاکستانی کہہ کر گالیاں دینا شروع کر دیں۔‘‘ملک کے مطابق انہیں دھمکیاں دی جاری رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی ہراسانی نئی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا،’’ کئی بار یہ شرپسند بغیر ادائیگی کے ہمارے خشک میوے لے جاتے ہیں اور اگر ہم احتجاج کریں تو دھمکی دیتے ہیں۔‘‘انہوں نے پولیس کے جانب دارانہ رویے کا بھی ذکر کیا۔ ملک نے الزام لگایا،’’جب میں پہلے شکایت کی تو پولیس نے مجھے کہا کہ میں خود لاپرواہی کر رہا ہوں۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ ہم صرف محنت کر کے اپنی روزی کمانا چاہتے ہیں۔‘‘دریں اثناء دیگر کشمیری تاجروں کا کہنا تھا کہ وہ برسوں سے اولڈ جیل روڈ پر اسی جگہ خشک میوے فروخت کرتے آ رہے ہیں بغیر کسی پریشانی کے۔ ایک تاجر نے کہا، ’’ہم یہاں ہر موسم میں آتے ہیں۔ ہم کسی کا نقصان نہیں کرتے۔ ہم صرف اپنا سامان بیچتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مسلم اکثریتی کشن گنج میں تعینات ہندو خاتون ٹیچر کا تجربہ: خوف سے محبت تک کا سفر
بعد ازاں عالم باغ علاقے کے ایک پولیس افسر نے کہا کہ حکام کو ویڈیو کے بارے میں آگاہی ہے۔ افسر نے کہا، ’’کلپ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر باقاعدہ شکایت درج کرائی جاتی ہے تو حقائق کی تصدیق کے بعد کارروائی کی جائے گی۔‘‘ تاہم حقوق کی تنظیموں اور مقامی رہائشیوں کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات لکھنؤ جیسے بڑے شہروں میں بھی مسلمانوں میں خوف کو گہرا کرہے ہیں۔ ایک مقامی رہائشی نے کہا،’’ہندوستانی شہریوں کو پاکستانی کہنا اور انہیں مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کرنا ناقابل قبول ہے۔ لوگوں کو بغیر خوف کے کام کرنے دیا جانا چاہیے۔‘‘اس واقعے کے بعد کئی لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ ایسی دھمکیوں کا خاتمہ کب ہوگا اور اقلیتیں ایمانداری سے روزی کمانے کے دوران خود کو محفوظ کب محسوس کریں گی۔