Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالدیپ: ۳؍ غوطہ خروں نے سمندر کی گہرائی میں فلسطینی پرچم لہرایا

Updated: August 20, 2026, 10:13 PM IST | Agency | Male

مالدیپ کے معروف غوطہ خوری مرکز فُوواہ مُلا (Fuvahmulah) میں تین عرب غوطہ خوروں نے سمندر کی گہرائی میں فلسطینی پرچم لہرا کر فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ یہ منفرد واقعہ جولائی ۲۰۲۶ء میں ایک خصوصی شارک سیفٹی ٹریننگ سیشن کے دوران پیش آیا، جب مراکش سے تعلق رکھنے والے محمد الادریسی، لبنان کی کرسٹا اور مصر کے مصطفیٰ نے پانی کے اندر فلسطینی پرچم کھولا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کا ایک منفرد منظر مالدیپ کے سمندر میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب تین عرب غوطہ خوروں نے پانی کی گہرائی میں فلسطینی پرچم لہرا یا۔ مراکش، لبنان اور مصر سے تعلق رکھنے والے تینوں افراد نے یہ اقدام جولائی ۲۰۲۶ء میں فُوواہ مُلا کے ساحل کے قریب ایک خصوصی شارک سیفٹی ٹریننگ سیشن کے دوران کیا۔ سمندر کی سطح سے بہت نیچے، جہاں عام طور پر غوطہ خور سمندری حیات اور مرجانی چٹانوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، تینوں نے فلسطینی پرچم کو کھولا اور کچھ دیر اسے اپنے ساتھ لہراتے رہے۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے، کیونکہ فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک ایسے مقام کا انتخاب کیا گیا جہاں ان تینوں کی مشترکہ دلچسپی یعنی غوطہ خوری اور سمندر موجود تھا۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: ۳۵؍ سال بعد پہلی بار صدارتی انتخابات کے لیے رائےدہی، کس کی فتح ہوگی؟

اس اقدام میں مراکش سے تعلق رکھنے والے محمد الادریسی، لبنان کی کرسٹا اور مصری نژاد بلجین مصطفیٰ شریک تھے۔ محمد الادریسی نے اس اقدام کو محض ایک مظاہرے کے بجائے اپنے شوق کے ذریعے فلسطین کے لیے آواز اٹھانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یکجہتی کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں‘‘ اور انسان اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو بھی کسی انسانی مسئلے کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق یہ اقدام پہلے سے کسی بڑے منصوبے کے تحت نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایک اچانک مگر معنی خیز عمل تھا، جس میں غوطہ خوری اور سمندر سے ان کی مشترکہ محبت کو فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے جذبے کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔


الادریسی نے کہا کہ ’’ایک لبنانی، ایک مصری اور ایک مراکشی، سمندر کے اندر ایک ساتھ فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے، یہی اپنے آپ میں پیغام تھا۔‘‘ ان کے مطابق ان کا مقصد کسی سیاسی سرگرمی کے بجائے انسانیت، یکجہتی اور فلسطینی عوام کی حمایت کا اظہار کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی ایسی چیز کو استعمال کرنا چاہتے تھے جس سے وہ خود محبت کرتے ہیں اور جس میں وہ مہارت رکھتے ہیں، تاکہ فلسطین کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے پیغام کو ایک مختلف انداز میں سامنے لایا جاسکے۔
یہ مظاہرہ کسی عام تفریحی غوطہ خوری کے دوران نہیں بلکہ ایک مخصوص شارک سیفٹی ٹریننگ سیشن کے دوران کیا گیا۔ مالدیپ اپنی سمندری حیات اور مختلف اقسام کی شارکس کے لیے عالمی سطح پر معروف ہے اور فُوواہ مُلا خاص طور پر شارک ڈائیونگ کے لیے غوطہ خوروں کی توجہ کا مرکز ہے۔ تربیتی سیشن کا بنیادی مقصد سمندر میں شارکس کے ساتھ محفوظ انداز میں غوطہ خوری سے متعلق مہارتوں کو بہتر بنانا تھا۔ تاہم اسی موقع پر تینوں عرب غوطہ خوروں نے اپنے فلسطینی پرچم کے ذریعے اس تربیتی سرگرمی کو ایک وسیع انسانی پیغام سے بھی جوڑ دیا۔ پانی کے اندر پرچم کھولنے کے لیے غوطہ خوروں کو سمندری حالات، گہرائی اور اپنی نقل و حرکت پر قابو رکھنا ضروری تھا۔ اس طرح یہ اقدام ان کی غوطہ خوری کی مہارت اور فلسطین کے ساتھ جذباتی وابستگی، دونوں کو ایک ہی منظر میں لے آیا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ میں ۱۰۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ اثاثوں والے ۵۷؍ انتہائی امیر عہدیدار

اس واقعے کی خاص بات صرف زیرِ آب فلسطینی پرچم نہیں بلکہ اس میں شریک افراد کا تعلق بھی ہے۔ مراکش، لبنان اور مصر، تین مختلف عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے غوطہ خور ایک ہی پرچم کے ساتھ سمندر کی تہہ میں ایک جگہ جمع ہوئے۔ محمد الادریسی نے اسی پہلو کو اپنے پیغام کا بنیادی حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق تین مختلف عرب ملکوں کے شہریوں کا ایک ساتھ فلسطینی پرچم اٹھانا اس بات کی علامت تھا کہ فلسطین کے لیے ہمدردی اور حمایت سرحدوں تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کا ’’اپنے انداز میں اظہارِ یکجہتی، انسانیت اور فلسطینی عوام کی حمایت‘‘ تھا۔
عام طور پر غوطہ خوروں کی تصاویر سمندری حیات، مرجانی چٹانوں اور زیرِ آب مناظر کے باعث توجہ حاصل کرتی ہیں، لیکن اس مرتبہ فُوواہ مُلا کے پانیوں سے سامنے آنے والی تصویر کا مرکز ایک فلسطینی پرچم بن گیا۔ تینوں غوطہ خوروں نے اپنے ذاتی شوق کو ایک ایسے مسئلے سے جوڑا جس نے عالمی سطح پر شدید سیاسی اور انسانی ردعمل پیدا کیا ہے۔ ان کے نزدیک پیغام یہ تھا کہ کسی انسانی بحران پر آواز اٹھانے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر شخص ایک ہی طریقہ اختیار کرے؛ اپنی مہارت، پیشے یا پسندیدہ سرگرمی کو بھی آگاہی کے وسیلے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ سمندر کی خاموش گہرائی میں لہراتا فلسطینی پرچم اسی سوچ کی علامت بن کر سامنے آیا، کہ اظہارِ یکجہتی صرف سڑکوں، جلسوں یا احتجاجی نعروں تک محدود نہیں، بلکہ کبھی کبھی وہ سمندر کی تہہ میں بھی اپنا راستہ بنا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK