Inquilab Logo Happiest Places to Work

رانی باغ چڑیا گھر میں صبح کی چہل قدمی پر پابندی

Updated: July 28, 2026, 2:07 PM IST | Saadat Khan | Byculla

سینٹرل زو اتھاریٹی کی ہدایت کاحوالہ دےکر نئے پاس جاری کرنے اور پرانے پاس کی تجدیدسے انکار۔ شہریوںمیں شدیدناراضگی ۔ احتجاج کا انتباہ۔

A notice regarding morning walks is displayed at Rani Bagh Zoo. (Photo: Inquilab)
رانی باغ چڑیاگھر پر صبح کی چہل قدمی سے متعلق نوٹس آویزاں ہے۔(تصویر: انقلاب)

یہاں کے قدیم  رانی باغ چڑیاگھر (ویرماتا جیجا بائی بھوسلے بوٹنیکل گارڈن)  انتظامیہ نے سینٹرل زو اتھاریٹی کے قوانین کا حوالہ دے کرصبح کی چہل قدمی پرپابندی عائد کردی ہے  جس سے ان شہریوں خاص طورپربزرگوں کوپریشانی کا سامناکرنا پڑے گا۔ رانی باغ میں برسوں سے  مارننگ واک کی سہولت پر اچانک پابندی عائد کرنے سے علی الصباح چہل قدمی کیلئے آنے والے سیکڑوں افراد میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ انتظامیہ نے نئے پاس جاری کرنے اور پرانے پاس کی تجدید سے بھی انکار کردیا ہے ۔

  اس پابندی سے عمر رسیدہ افراد کے علاوہ دیگر شہریوں میں بےچینی پائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے اس فیصلے کو واپس نہ لینے پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ چڑیاگھر کے سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہےکہ مرکزی حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے چہل قدمی کے علاقے کو محدود کردیا گیا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان: موٹرسائیکل سے گر کر ۳؍ سالہ بچہ شدید زخمی

انتظامیہ کی جانب سے رانی باغ کے داخلی دروازوں پر اس تعلق سے نوٹس لگایا گیا ہے جس پر صبح کی سیر کیلئے آنے والے شہریوں کو مرکزی سڑک کے داخلی دروازے (آؤٹ گیٹ) سے ہی داخلے کی اجازت دی گئی ہے ۔ کسی دوسرے گیٹ سے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔صبح کی سیر کیلئے آنے والے تمام شہریوں کو مطلع کیاگیا ہے کہ انہیں مرکزی دروازے (ٹرپل آرچ) سے چڑیا گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ شہریوں کو عارضی طور پر داخلی پلازہ (چڑیا گھر کے ٹکٹ کاؤنٹر اور ڈاکٹر بھاؤ داجی لاڈ میوزیم) کے سامنے والے علاقے   ہی میںگھومنے پھرنے کی اجازت ہوگی ۔ علاوہ ازیں کوئی نیا مارننگ واک پاس جاری نہیں کیا جائے گا اور پاس کی تجدید بھی نہیں کی جائے گی۔ سینٹرل زو اتھاریٹی کی ہدایات کے مطابق چڑیا گھر کا ماسٹر پلان تیار کرتے وقت اس فیصلے پر غور کیا گیا ہے ۔دفعہ ۷؍ (اے ، ۲؍) کے قانون ۲؍ (ایچ ) کے مطابق چڑیا گھر کے احاطے میں صبح یا شام کی سیر منع ہے ۔ فی الحال جس حصے میں اجات ہے ، وہاں صبح ۶؍سے ۸؍بجے تک چہل قدمی کی جاسکتی ہے۔ ممبران کو ہر روز پاس لانا لازمی ہے ۔

انتظامیہ کی اس من مانی کارروائی سے مقامی افراد اور بزرگ شہریوں میں  شدید ناراضگی پائی  جارہی ہے اور انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر یہ غیر منصفانہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو وہ  رانی باغ  چڑیاگھر کے گیٹ پر سخت احتجاج کریں گے۔ گھڑپ دیو اور رانی باغ پربھات پھیری گروپ کے سربراہ اشوک بھیکے نےاس بارے میں براہ راست سوال کیاہےکہ ’’رانی باغ چڑیا گھر انتظامیہ کئی برسوں سے جاری مارننگ واک کو اچانک بند کر کے کس کی حمایت کر رہاہے؟ اس تعلق سے کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں ہواہےتو پھر مارننگ واک کرنےوالوں سے یہ ناانصافی کیوں کی جا رہی ہے۔‘‘

مرکزی حکومت کی’ فٹ انڈیا‘ مہم کا حوالہ دیتے ہوئے مہاراشٹر نونرمان سینا ( ایم این ایس) کے لیڈر سنجے نائک ،سماجی کارکن دنیش کولٹے اور پربھات پھیری گروپ نے رانی باغ گارڈن کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سنجے ترپاٹھی سے ملاقات کی اور ان سے فیصلہ واپس لینے کی درخواست کی لیکن انتظامیہ کے مبہم جوابات سے شہریوںمیں بےچینی پائی جا رہی ہے ۔ اس لئے انہوں نے اب  وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس اور میئر ریتو تاؤڑے سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بزرگ شہریوں نے یہ فیصلے واپس نہ لینے پر احتجاج کا انتباہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ملک کو درپیش چیلنجز پر سنجیدہ غور و فکر

اس بارے میں رانی باغ کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سنجے ترپاٹھی سے استفسار کرنے پر انہوں نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ’’ پہلی بات تو یہ ہےکہ چہل قدمی کی سہولت بند نہیں کی گئی ہے ،اسے رانی باغ کے پلازہ والے علاقے تک محدود کیا گیا ہے ، وہ بھی سینٹر ل زو اتھاریٹی کی ہدایت پر ۔ نئی ایڈوائزری کے مطابق صبح کی سیر کیلئے آنے والے شہریوں کو اب ٹرپل آرچ کے مرکزی دروازے سے چڑیا گھر میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ان کی رسائی صرف پلازہ تک محدود رہے گی ، اس سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حالانکہ ایک زمانے سے شہریوں کومذکورہ سہولت حاصل تھی لیکن اب سینٹر ل زو اتھاریٹی کی پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ہم سینٹرل زوواتھاریٹی کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں ۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK