میونسپل دستے نے صبح کے وقت کارروائی کرتے ہوئےسبزی فروشوں کے ذریعے بنایا گیا شیڈ توڑ دیا۔ روڈ پر سامان نہ رکھنےاور بیریکیڈ کے اندرہی کاروبار کرنے کی سختی سے ہدایت
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 10:00 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
میونسپل دستے نے صبح کے وقت کارروائی کرتے ہوئےسبزی فروشوں کے ذریعے بنایا گیا شیڈ توڑ دیا۔ روڈ پر سامان نہ رکھنےاور بیریکیڈ کے اندرہی کاروبار کرنے کی سختی سے ہدایت
یہاں گیٹ نمبر ۷؍میں سبزی مارکیٹ میںمنگل کی صبح انہدامی کارروائی سے افراتفری مچ گئی۔ شیڈ اور تال پتری سے گھیرا گیا حصہ توڑدیا گیا ۔واضح رہے کہ سبزی والوں کے راستہ پر قبضہ کرنے اور روڈ پر سامان رکھنے سے ٹریفک جام کے ساتھ عام شہریوں کا پیدل چلنا بھی محال رہتا ہے۔ خاص طور پر اسکول جانے اور چھٹی کے وقت توحالت اوربھی خراب رہتی ہے ۔ یادر ہے کہ یہیں چند سال قبل اسی طرح ٹریفک کے سبب امام حافظ ہدایت اللہ کی اہلیہ بس کی زد میں آکر فوت ہوگئی تھیں۔اس کے علاوہ متعددمرتبہ بی ایم سی کی جانب سے کارروائی کی گئی مگر ایک دو دن معاملہ غنیمت رہتا ہے پھر سبزی فروش پرانے ڈھرّے پرآجاتے ہیں۔ اسی طرح کی کارروائی پیر کے دن لگون روڈ (کچا روڈ ) پربھی کی گئی تھی۔
مقامی لوگوں کا کارروائی پراطمینان کااظہار
سبزی مارکیٹ کے قریب رہنے والے موہن یادو نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’ جب بھی بی ایم سی کی جانب سے کارروائی کی جاتی ہے تووقتی طور پرٹریفک نظام بھی درست ہوجاتا ہے اوریہی شہید عبدالحمید روڈ عام دنوں کے مقابلے کافی کشادہ نظر آنےلگتا ہے۔ بی ایم سی کی جانب سے کارروائی کرنے کے بعد ایک دو دون معاملہ ٹھیک رہتا ہے پھر پہلے کی طرح سبزی فروش قبضہ جما لیتے ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے کہ مستقل نگرانی رکھی جائے تب ہی یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔‘‘
اسی علاقے میںرہنے والے عبداللہ خان نے بتایا کہ ’’ جس وقت بی ایم سی کی جانب سے کارروائی کی جارہی تھی اس وقت عجب منظر تھا ، کوئی سبزی فروش اپنی سبزی بچا رہا تھا توکوئی ٹوکری لے کربھاگ رہا تھا ۔ ‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ اگر سبزی فروش اپنی حد میںرہیں یعنی فٹ پاتھ کا جوحصہ بیریکیڈ کیا گیاہے ،اس کے اندر کاروبار کریں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ، ان کی روزی روٹی چلے گی اور ٹریفک جام بھی نہیں ہوگا مگر وہ روڈ پرقبضہ جماکر وہیں سبزی ترکاری بیچتے ہیںجس سے راہ گیروں کاچلنا دشوار ہوجاتا ہے۔‘‘
ایک سبزی فروش نے نام نہ ظاہرکرنے کی شرط پربتایا کہ ’’ دراصل کئی سبزی والے متعینہ جگہ کی پابندی کرتے ہوئے اپنا کاروبارکرتے ہیںمگر کچھ روڈپرکاروبارشروع کردیتے ہیں ،ان کو دیکھ کر دیگر سبزی فروش بھی روڈ پرسبزیاں رکھ دیتے ہیںجس سے واقعی روڈ تنگ ہوجاتا ہے اورراستہ چلنے والوں کوکافی پریشانی ہوتی ہے ۔ اگرسبزی فروش ایسا نہ کریںتوشاید بی ایم سی کی جانب سے کارروائی نہ کی جائے اورنہ ہی عا م آدمی شکایت کرے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:پرینکا چوپڑا ہاروڈر یونیورسٹی کے ۲۳؍ ویں انڈیا کانفرنس سے خطاب کریں گی
مقامی کارپوریٹرنےکیا کہا؟
وارڈ نمبر۴۸؍ کے مقامی کارپوریٹر رفیق شیخ نےبی ایم سی کی کارروائی پر کہا کہ ’’ ہاں ،منگل کو سبزی والوں کو ہٹایا گیا ہے۔ سبزی فروشوں کوخود اس کاخیال رکھنا چاہئے کہ راہ گیروں کوراستہ چلنے میں دشواری نہ ہو اورٹریفک جام نہ ہو تاکہ کسی کو شکایت کاموقع نہ ملے اورنہ ہی بی ایم سی کو انہدامی کارروائی کرنی پڑے۔‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’’مچھلی مارکیٹ کافی وقت سے بند ہے،اس کابی ایم سی افسران کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے تاکہ اگر ممکن ہو تو آنے والے وقتوں میں لائسنس یافتہ سبزی فروشوں کووہاں منتقل کردیا جائے ۔ اس سے روڈ پرکاروبارکرنے اور ٹریفک جام کا مسئلہ حل ہوجائے گامگر اس کیلئے ابھی انتظار کرنا ہوگا۔ خود سبزی فروشوں کو اس کا خیال رکھنا ہوگا کہ ان کی وجہ سے عام راہ گیروں کو کوئی پریشانی نہ ہو ۔‘‘