Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: ایس ٹی ڈپو بدحال، خستہ حال عمارت میں ہزاروں مسافروں کی زندگی داؤ پر

Updated: May 08, 2026, 11:24 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

پینے کے پانی، صاف صفائی، سیکوریٹی اور آرام گاہ جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان، ملازمین بھی اذیت ناک حالات میں کام کرنے پر مجبور، سیکوریٹی کا ناقص انتظام، آوارہ کتوں کی بھر مار۔

Passengers are seen outside the dilapidated building of the dilapidated ST depot in Bhiwandi. (Photo: Inquilab)
بھیونڈی کے بدحال ایس ٹی ڈپو کی خستہ عمارت کے باہر مسافر نظر آرہےہیں۔ (تصویر: انقلاب)

صنعتی شہر بھیونڈی کا مرکزی ایس ٹی ڈپو اس وقت شدید بدانتظامی، خستہ حالی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے۔ روزانہ ہزاروں مسافروں کو مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے جوڑنے والا یہ اہم بس اڈہ آج خود مسائل کا مرکز بن چکا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے برسوں قبل عمارت کو ’مخدوش ‘ قرار دیئے جانے کے باوجود اسی عمارت سے مسافروں اور ملازمین کی جان خطرے میں ڈال کر کام کاج جاری رکھا گیا ہے۔

یہ بس اڈہ  ممبئی، تھانے ،کلیان، وسئی، بوریولی ،شاہ پور  ، واڑہ اور متعدد علاقوں کے مسافروں کے لئے سفر کا اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ روزانہ تقریباً ۱۰؍ سے۱۲؍ ہزار جبکہ ماہانہ ساڑھے۳؍ لاکھ تک مسافر یہاں سے سفر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بنیادی سہولتوں کی حالت نہایت افسوسناک ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نوی ممبئی: ۳؍ فلائی اوور کی تعمیر کی تجویز منظور

 پینے کے پانی اور کینٹین کی سہولت بند 

بس اڈے پر مسافروں کے لئے پینے کے صاف پانی کا کوئی مستقل انتظام موجود نہیں ہے۔ کئی دنوں سے کینٹین بند پڑی ہے جس کے باعث دور دراز علاقوں سے آنے والے مسافروں، مزدوروں اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک سماجی ادارے کی جانب سے فراہم کردہ پانی کی سہولت بھی دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب بند ہوچکی ہے۔

 صفائی کا ناقص نظام اور بیت الخلاء کی خستہ حالت 

ڈپو کے بیشتر حصوں میں گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ ٹوٹی ہوئی بینچیں، گرد آلود فرش اور بدبو سے بھرے بیت الخلاء مسافروں کے لئے مستقل پریشانی بنے ہوئے ہیں۔ بیت الخلاء میں پانی کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ صفائی کے نام پر صرف کلورین پاؤڈر ڈال کر رسمی کارروائی کی جاتی ہے۔ ہاتھ دھونے کے نلکوں پر میل اور پھپھوندی جمی ہوئی ہے جس سے صحت عامہ کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سروے شدہ ہاکرس کو ۵؍ ہفتوں میں ’کیو آر کوڈ‘ والا شناختی کارڈ جاری کرنے کا حکم

 سیکوریٹی کا فقدان، آوارہ کتوں کی بھرمار

بس اڈے میں سیکوریٹی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے سبب جیب تراشی کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آوارہ کتوں کی بڑی تعداد مسافروں خصوصاً خواتین، بزرگوں اور بچوں کے لئے خوف اور خطرے کا باعث بنی ہوئی ہے۔

 ملازمین غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور 

ایس ٹی ڈپو میں خدمات انجام دینے والے ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ لمبے روٹس سے آنے والے ملازمین کے لئے آرام گاہ کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ انہیں ٹوٹی فرش، گرد آلود ہال اور گندگی سے بھرے کمروں میں آرام کرنا پڑتا ہے۔ نہانے کے لئے پانی کی قلت اور گندے بیت الخلاء ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ حال ہی میں عمارت کا پلاسٹر ایک ملازم کے کندھے پر گرنے کا واقعہ بھی پیش آیا جس نے عمارت کی خطرناک حالت کو مزید بے نقاب کردیا ہے۔ اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔

 پرانی بسیں اور سی این جی نظام سے نئی مشکلات 

ڈپو میں موجود بیشتر بسیں پرانی اور خستہ حال ہیں جو اکثر راستے میں خراب ہوجاتی ہیں۔ اس سے مسافروں کے ساتھ ساتھ عملہ کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل بسوں کو سی این جی میں تبدیل کئے جانے کے بعد ڈرائیوروں کو شدید گرمی برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔ ملازمین کے مطابق انجن سے نکلنے والی حرارت کے باعث ڈرائیوروں کے پیر تک جھلسنے لگتے ہیں۔

ملازمین کا الزام ہے کہ مسائل اٹھانے والوں پر افسران کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا ہے جس کے باعث بیشتر ملازمین خاموش رہنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مانسون سے قبل رَن وے کی دیکھ بھال کیلئے ایئر پورٹ آج ۶؍ گھنٹے بند رہے گا

شہریوں اور مسافروں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھیونڈی ایس ٹی ڈپو کی خستہ حالت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نئی عمارت، صاف پانی، صفائی، سیکوریٹی اور ملازمین کے لئے بنیادی سہولتوں کا مستقل انتظام کیا جائے تاکہ روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں افراد کو راحت مل سکے۔

ایس ٹی ڈپو کی بدحالی سے متعلق  ڈپو منیجر سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہوسکتا۔ ڈپو کے لینڈ لائن نمبر پر فون کیا گیا لیکن کسی نے بھی ریسیو نہیں کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK