Inquilab Logo Happiest Places to Work

مانخورد : زبردست انہدامی کارروائی۔ سیکڑوں جھوپڑے توڑدیئے گئے

Updated: April 09, 2026, 1:04 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

پریشان حال مکین کھلے آسمان کے نیچے رہنےپرمجبور ۔ محکمہ محصول کی جانب سے ۴۸؍گھنٹے کا نوٹس دیا گیاتھا۔

Residents Searching For Their Belongings In The Rubble After The Demolition Of Huts In Annabhau Sathe Nagar. Photo:INN
انا بھاؤ ساٹھے نگر میںجھوپڑوں کے ا نہدام کے بعد مکین ملبے میں اپنا سامان تلاش کرتے ہوئے۔تصویر:آئی این این
 یہاں  انابھاؤ ساٹھے نگر (ڈبہ کمپنی سے متصل) میں سیکڑوں جھوپڑوں کو توڑنے کیلئےبدھ کو ضلع کلکٹر کے حکم پرکارروائی کی گئی۔مانخورد سروے نمبر ۱۳۸؍ پر بنائے گئے ان جھوپڑوں کو توڑنے کے سبب بہت سے خاندان بے گھر ہوگئے اور مکین کھلے آسمان کے نیچے پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
 
 
زبردست پولیس بندوبست کے دوران  بدھ کو جس وقت کارروائی شروع کی گئی ،مکین حسرت ویاس کی تصویر بنے دکھائی دیئے۔ بڑی محنت سے بنائے گئے ان کے جھوپڑوں کو نہ صرف توڑ  دیا گیا بلکہ پترا اور دیگر سامان بھی ملبے کے ڈھیرمیں تبدیل کردیا گیا۔ اس وقت امتحانات کا سلسلہ بھی جاری ہے،ایسے میںیہاں رہنے والے طلبہ کو مزیدپریشانی ہورہی ہے۔ اس زمین پرتقریباً ڈیڑھ ہزار جھوپڑے تھے۔ یہاں کی گئی انہدامی کارروائی سے قبل ۲؍اپریل کو مہاراشٹر لینڈ ریوینیو ایکٹ ۱۹۶۶ ءکی دفعہ ۵۰؍کے تحت نوٹس دیا گیا تھا اورمکینوں کومحض ۴۸؍ گھنٹے کے اندر زمین خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
 
 
مکینوں کاالزام ہے کہ انہیںاپنا سامان نکالنے کی بھی مہلت نہیںدی گئی۔ وہ برسوں سے یہاں مقیم ہیں، اب آخر وہ کہاں جائیں اورکون ان کی فریاد سنے گا؟ ان متاثرین کے حق میںآوازبلند کرنے والے راشٹریہ مزدور پارٹی آف انڈیا( آر ڈبلیو پی آئی) کے ذمہ دار ببن ٹھوکے نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئےکہاکہ ’’ یہ کھلی زیادتی ہے اور اس کا مقصد ممبئی کی تمام جھوپڑپٹیوں کوخالی کرواکر قیمتی زمینیںاڈانی اورامبانی کو سونپنا ہے۔ ‘ ‘انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’سپریم کورٹ کی واضح ہدایت ہے کہ کوئی بھی زمین خالی کرانے سےقبل مکینوں کو۱۵؍دن قبل نوٹس دیا جائے اورمکینوں کوسماعت کے ساتھ وجہ بتانے کا بھی پورا موقع دیاجائے مگریہاں ان ہدایات کوبھی طاق پر رکھ دیا گیا اور غریبوں کے سرسے چھت چھین لی گئی۔ اتنی بڑی تعداد میں مکین کہاں  جائیں گے اورکون انہیں پناہ دے گا ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ ’’انہدامی کارروائی کے لئے ۱۰؍مارچ کو بھی نوٹس دیا گیا تھا مگر آر ڈبلیو پی آئی کی سربراہی میں ضلع کلکٹر کے دفتر کے سامنے ۵۰۰؍ سے زائد مکینوں اورکارکنان کے ہمراہ احتجاج کیا گیا تھا ،اس کےبعد کارروائی ملتوی کردی گئی تھی ۔ اس وقت یہ یقین بھی دلایا گیا تھا کہ انہدام نہیں کیاجائے گا مگر اچانک سیکڑوں جھوپڑوں کو۸؍اپریل کو تہس نہس کردیا گیا ۔یہ انتظامیہ کی کھلی زیادتی اور ظلم ہے ۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK