برسوں سے تدفین کیلئے مقامی مسلمانوں کو پریشانی کاسامنا۔مقامی افراد کا کہنا ہےکہ قبرستان کا کام مکمل ہونے کےباوجود تاخیر کیوں؟ جامعہ قادریہ اشرفیہ ایجوکیشنل اینڈ چیریٹبل ٹرسٹ کو نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ سماجی خدمت گار نے مزید تاخیر ہونے پرخود میت دفن کرنے کابی ایم سی کوانتباہ دیا،ان کےمطابق ہم نے وارڈ آفیسر سے کہاہےکہ مزیدتاخیر برداشت نہیں کی جائےگی۔
جوہو کپاس واڑی قبرستا ن میں صاف صفائی کی جارہی ہے۔ (تصویر: انقلاب)
جوہو کے کپاس واڑی(لنک روڈ) قبرستان میں تدفین کا عمل جلد شروع کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ برسوں قبل زمین الاٹ کی گئی تھی مگر اب تک سنی قبرستان کا کام پورانہیں ہوسکا تھا جس کی وجہ سے تدفین نہیں شروع کی جاسکی ہے۔ اس کے برخلاف اس سے متصل قطعہ اراضی پرشیعہ اور خوجہ قبرستانوں میں کافی عرصہ قبل سے میت دفن کی جارہی ہے۔
تاخیر کی وجہ سے مقامی مسلمانوں کو میت کی تدفین کے لئے شواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان کوارلایا دیگر قبرستان میت لے جانی پڑتی ہے ۔ کپاس واڑی قبرستان میں تدفین کا عمل شروع کئے جانے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اب ۲۰؍ سے کم طلبہ والے اسکولوں کو بند نہیں کیا جائے گا، حکومت کا نیا فیصلہ
ہم خودمیت دفناکرنا شروع کردیں گے
سماجی خدمت گار اوراس قبرستا ن کے تعلق سے صدائے احتجاج بلند کرنےوالوں میں شامل محمد پٹیل نے بی ایم سی کے ویسٹ وارڈ کے وارڈ آفیسر چاکر پانی الائی کو میسیج بھیج کر یہ انتباہ دیا ہےکہ اگر ایک ہفتے میں یہاں میت کی تدفین نہ شروع کی گئی تو ہم لوگ خود دفن کرنا شروع کردیں گے۔‘‘
انہوں نے انقلاب کویہ بھی بتایا کہ ’’ یہ زمین ولاس راؤ دیشمکھ کے دور ِاقتدار میں ریزرو کی گئی تھی اور شیعہ،خوجہ اورسنّی قبرستان کے ساتھ عیسائیوں کے لئے بھی جگہ مختص کی گئی تھی ، سنّی قبرستان کے علاوہ دیگرقبرستانوں میں کافی عرصے سے میت کی تدفین شروع کی جاچکی ہے مگر سنّی قبرستان میںکسی نہ کسی وجہ سےیہ مسئلہ معلّق رہا۔اب جبکہ قبرستان بنایا جاچکا ہے، بلاوجہ تاخیر کی جارہی ہے۔اسی لئے اب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے ،ہم نے وارڈ آفیسر کو انتباہ دیا ہےکہ مزیدتاخیر برداشت نہیں کی جائےگی، قبرستان بن چکا ہے توپھرکیوں تاخیر کی جارہی ہے اور کس کاانتظار کیا جارہا ہے؟‘‘ محمد پٹیل نے مزید کہا کہ ’’کچھ ہی وقت کے بعد بارش شروع ہوجائے گی اس وقت یہ بہانہ بنایا جائے گا کہ اب بارش کے سبب تدفین میںدشواری ہوگی ،کیا اسی طرح مقامی مسلمان سہولت کےباوجود مشقت برداشت کرتے رہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر حکومت کا نوٹس:اولا، اوبر اور ریپیڈو کی بائیک ٹیکسی ایپس ہٹانے کا حکم
تاخیر کی مختلف وجوہات رہیں
سابق کارپوریٹر اور کانگریس کے نائب صدر محسن حیدر جو اس قبرستان کے کام میں پیش پیش ہیں، نےبتایاکہ ’’ اب کام پورا ہوگیا ہے، برائے نام کوئی کام اورصاف صفائی باقی ہوگی، میت کی تدفین تو آج سے ہی شروع کی جاسکتی ہے۔‘‘ انہوں نےتاخیر کی ۵؍ وجوہات بتائیں۔ اول یہ کہ بی ایم سی کی غفلت ، دوسر ے قطع اراضی کی صحیح نشاندہی نہ ہونا، تیسرے یہ زمین ڈمپنگ گراؤنڈ تھی اسےہموارکرنے میں کافی وقت لگا،چوتھے نگرانی طے کرنے میں کارپوریشن کو وقت لگا اورپانچویں قبرستان سے متصل آبادی کے بھی کچھ مسائل تھے ۔ ‘‘
مزیدتاخیر نہ کرنے کی ٹرسٹ کی یقین دہانی
جامعہ قادریہ اشرفیہ ایجوکیشنل اینڈ چیریٹبل ٹرسٹ کے سربراہ مولاناسید معین الدین اشرف عرف معین میاں نےکہا کہ’’ قبرستان کے تعلق سے خصوصاً صفدر کرمالی مرحوم کا بڑا رول رہاہے۔ اب جبکہ قبرستان کا کام تقریباًمکمل ہوچکا ہے تدفین کیلئے مزیدتاخیر نہیں کی جائے گی ۔ ‘‘معین میاں نے محسن حیدر کی کوشش کو بھی سراہا کہ’’ انہوں نے تعمیر میں اہم کردار نبھایا۔ یہ قبرستان اس اندازمیں بنایا گیا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ جگہ قبروں کیلئے استعمال ہو۔ مزید تاخیر کئے بغیر جلد ہی یہاں تدفین کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔‘‘