Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھا ریزرویشن: منوج جرنگے کی آزاد میدان میں غیر معینہ بھوک ہڑتال کا آغاز

Updated: August 30, 2025, 2:24 PM IST | Mumbai

مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کو منوانے کیلئے مراٹھا لیڈر منوج جرنگے نے آزاد میدان میں بھوک ہڑتال کا آغاز کر دیا،اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن اس بار ہم انصاف کے بغیر ممبئی نہیں چھوڑیں گے۔

Manoj Jirga is on a hunger strike at Azad Maidan. Photo: INN
آزاد میدان میں منوج جرنگے بھوک ہڑتال پربیٹھے ہیں۔ تصویر: آئی این این

مراٹھا ریزرویشن کارکن منوج جرنگے نے جمعہ۲۹؍ اگست ۲۰۲۵ء کو ممبئی کے آزاد میدان میں اپنی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا، جس میں انہوں نے مہاراشٹر حکومت پر مراٹھا کوٹے کے معاملے پر عدم تعاون کا الزام لگایا۔ہزاروں حامیوں کے ساتھ صبح تقریباًپونے دس بجے احتجاجی مقام پر پہنچنے پر منوج جرنگے نے اعلان کیا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے، جب تک کہ ریاست مراٹھا برادری کو اس کا حق نہ دے۔ انہوں نے کہا، ’’میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن اس بار ہم انصاف کے بغیر ممبئی نہیں چھوڑیں گے۔ وہ مجھے گولی مار سکتے ہیں یا جیل میں ڈال سکتے ہیں، لیکن میں ممبئی اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ ہمارے مطالبے سنے اور پورے نہ کیے جائیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اب گولی ماردو لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے : منوج جرنگے

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی عدم توجہی کے سبب ممبئی میں اپنی تحریک تیز کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ان کے ہزاروں حامی ٹرکوں سے ممبئی آئے ہیں، اور وہ اپنے قیام کے انتظامات جیسے بستر، کپڑے، کھانا پکانے کے برتنوں سے مکمل طور پر لیس ہیں۔انہوں نے انتظامیہ سے احتجاج کی اجازت کے لیے اپیل کی ہے، انہوں نے کہا، ’’اگر حکومت نے انکار کر دیا تو ہم عدالتوں سے راحت مانگیں گے۔‘‘ ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے، منوج جرنگے نے اپنے حامیوں سے پرامن رہنے اور ایسےاقدامات سے پرہیز کرنے کی اپیل کی جو مراٹھا برادری کی شبیہہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، "پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور ممبئی والوں کو تکلیف نہ دیں۔ پتھراؤ، آتش زنی یا ایسی کسی بھی چیز میں ملوث نہ ہوں جو ہمارے مقصد کو بدنام کر سکے۔ ہماری لڑائی پرامن رہنی چاہیے۔‘‘انہوں نے شرکاء کو ہدایت کی کہ وہ رات بھر واشی میں رہیں اور صرف دن کے وقت آزاد میدان میں احتجاج میں شامل ہوں۔
واضح رہے کہ ممبئی پولیس نے۲۹؍ اگست کو صبح ۹؍ بجے سے شام۶؍ بجے تک پرامن احتجاج کی محدود اجازت دی ہے۔ شام۶؍ بجے کے بعد، مظاہرین کو مقام خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکام نے شرکاء کی تعداد۵۰۰۰؍ تک محدود رکھی ہے۔ متوقع ہجوم کو سنبھالنے کے لیے، آزاد میدان، سی ایس ایم ٹی، اور ملحقہ علاقوں کے ارد گرد۱۵۰۰؍ سے زیادہ ممبئی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔پولیس اہلکاروں کا تخمینہ ہے کہ دن کے وقت تقریباً۴۰؍ ہزار حامی ممبئی میں آ سکتے ہیں۔ جنوبی ممبئی کے بی پی ٹی علاقے میں دو پہیوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے پارکنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ بڑی گاڑیوں پر اہم علاقوں میں اگلے احکام تک پابندی لگا دی گئی ہے۔جمعہ کی صبح مسافروں کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مراٹھا مظاہرین آزاد میدان جا رہے تھے۔ کئی اہم سڑکیں، خاص طور پر وہ جو چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس (سی ایس ایم ٹی) کی طرف جاتی ہیں، بھاری ٹریفک جام کا شکار تھیں۔بی ایس ٹی بس خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔

یہ بھی پڑھئے: آج ووٹر ادھیکا ر یاترا میں سدا رمیا کی شرکت

منوج جرنگے اپنے مطالبے پرقائم ہیں کہ تمام مراٹھوں کو کنبی کے طور پر درجہ بندی کیا جائے، جو کہ ایک زرعی ذات ہے جسے دیگر پسماندہ ذات کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس شمولیت سے مراٹھا برادری سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں۱۰؍ فیصد ریزرویشن کے اہل ہو جائے گی۔اس تحریک نے مہاراشٹر میں سیاسی کشمکش کوتیز کر دیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان نے شراد پوار، ادھو ٹھاکرے، اور کانگریس پر الزام لگایا کہ انہوں نے اقتدار میں اپنے دور میں مراٹھا برادری کی مطالبے کو نظر انداز کر کے ’’ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔‘‘
منوج جرنگے کا حالیہ مارچ منگل کو جالنا ضلع کے انتر والی ساراتی گاؤں سے شروع ہوا، جو ممبئی سے ۴۰۰؍کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔ سینکڑوں گاڑیوں اور ہزاروں حامیوں کے ساتھ  ان کے کا قافلہ ممبئی میں داخل ہونے سے پہلے واشی میں زبردست استقبال کیا گیا۔جالنا پولیس نے پہلے منوج جرنگے کے جلوس کو ۴۰؍ سخت ہدایات کے تحت اجازت دی تھی، جس میں نظم و نسق کے مسائل ، ٹریفک نظام میں رکاوٹ نہ ڈالنا، اور اشتعال انگیز نعرے لگانے سے پرہیز کرنا شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK