Inquilab Logo Happiest Places to Work

مارک زکربرگ نے ہندوستانی حکومت سے معافی مانگ لی

Updated: August 05, 2026, 7:05 PM IST | Mumbai

میٹا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرمارک زکربرگ نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد(سی ایس اے ایم) (CSAM) ، ڈیپ فیک مواد اور پلیٹ فارم پر پیش آنے والی بعض آپریشنل خامیوں کے معاملے پرہندوستانی حکومت سے معذرت کا اظہار کیا ہے۔

Mark Zuckerberg.Photo:INN
مارک زکربرگ۔ تصویر:آئی این این

میٹا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرمارک زکربرگ نے  بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد(سی ایس اے ایم) (CSAM) ،  ڈیپ فیک مواد اور پلیٹ فارم پر پیش آنے والی بعض آپریشنل خامیوں کے معاملے پرہندوستانی حکومت سے معذرت کا اظہار کیا ہے۔ یہ معافی میٹا کے اعلیٰ حکام اور ہندوستانی سرکاری عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے دوران سامنے آئی۔  

یہ بھی پڑھئے:مودی حکومت کا کھیلوں میں ترقی کا دعویٰ، اعداد و شمار کچھ اور ہی تصویر پیش کرتے ہیں


سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومت نے میٹا کو واضح کیا کہ کمپنی صرف ایک غیر جانبدار ثالث (Intermediary) نہیں ہے کیونکہ اس کے الگورتھمز یہ طے کرتے ہیں کہ کون سا مواد کن صارفین تک پہنچے گا۔ اسی بنیاد پر حکومت نے کمپنی پر مقامی قوانین کی مکمل پابندی کی ضرورت پر زور دیا۔  ذرائع کے مطابق، میٹا نے اعتراف کیا کہ پلیٹ فارم پر بعض حساس نوعیت کے مواد کی تشہیر اور پھیلاؤ کے حوالے سے خامیاں رہیں، جن پر کمپنی نے افسوس کا اظہار کیا اور مستقبل میں نگرانی اور حفاظتی نظام مزید مضبوط بنانے کا یقین دلایا۔ 
یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب حال ہی میں  حکومت نے انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد (CSAM) کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے میٹا سے وضاحت طلب کی تھی۔ حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت دی تھی کہ وہ غیر قانونی اور نقصان دہ مواد کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھئے:’’آدی پُروش‘‘ توقعات پر پوری نہیں اتری، اسے تسلیم کرنے میں کوئی شرم نہیں: منوج منتشر

 
دوسری جانب، پارلیمانی کمیٹی نے بھی فیس بک پر وزیر اعظم  نریندر مودی کی ایک پوسٹ عارضی طور پر بلاک ہونے کے واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور میٹا سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ کمپنی نے اس واقعہ کو ایک  آپریشنل خرابی  قرار دیا تھا۔ ہندوستانی حکومت نے ایک بار پھر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خبردار کیا ہے کہ انہیں آئی ٹی ایکٹ اور متعلقہ ضوابط پر مکمل عمل کرنا ہوگا، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK