Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی سطح پر اب ۱۰ فیصد سمندری علاقے محفوظ، لیکن ۲۰۳۰ء کیلئے طے کردہ ہدف سے ہنوز کافی دور

Updated: April 29, 2026, 7:02 PM IST | New York

ماہرین کے مطابق، محفوظ سمندری علاقے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صحت مند سمندری ماحولیاتی نظام، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے اور ذخیرہ کرنے میں مدد کرتے ہیں جس سے کرہِ ارض کے ماحول میں اس کی موجودگی کم ہوتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ ماحولیاتی پروگرام کے ورلڈ کنزرویشن مانیٹرنگ سینٹر اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کی مشترکہ تحقیق کے مطابق، دنیا کے ۱۰ فیصد سے زیادہ سمندری علاقوں کو اب باضابطہ طور پر محفوظ علاقے قرار دے دیا گیا ہے، جو عالمی تحفظ کی کوششوں میں اہم سنگِ میل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر محفوظ سمندری علاقوں کی شرح اب ۰۱ء۱۰ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اس شرح نے دو ہندسوں کے عدد کو عبور کیا ہے۔ یہ پیش رفت گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً ۵۰ لاکھ مربع کلومیٹر کے محفوظ سمندری علاقوں کی توسیع کے بعد ہوئی ہے جو ۲۰۲۴ء میں ریکارڈ کردہ ۶ء۸ فیصد سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور ایران کا تعطل کا شکار تنازع سرد جنگ جیسے مرحلے میں داخل: رپورٹ

ہدف کی تکمیل مقررہ وقت سے کئی سال پیچھے

واضح رہے کہ یہ سنگِ میل اصل منصوبہ بندی سے چھ سال تاخیر سے حاصل ہوا ہے۔ ”ایچی حیاتیاتی تنوع اہداف“ (Aichi Biodiversity Targets) کے تحت، عالمی برادری نے ۲۰۲۰ء تک ۱۰ فیصد سمندری علاقے کو محفوظ بنانے کا عہد کیا تھا۔ یہ ہدف اب اپریل ۲۰۲۶ء میں حاصل ہوا ہے۔ اس تاخیر کے باوجود، حالیہ برسوں میں خاص طور پر قومی حدود کے اندر واقع سمندری پانیوں میں تیز رفتار پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ تحفظ کی کوششیں زیادہ تر ان علاقوں پر مرکوز رہی ہیں جو قومی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جہاں حکومتوں کو سمندری تحفظ کے زون نامزد کرنے کا زیادہ اختیار حاصل ہوتا ہے۔

۲۰۳۰ء کا ہدف بڑے پیمانے پر توسیع کا متقاضی

اب توجہ ”کنمنگ-مانٹریال گلوبل بائیو ڈائیورسٹی فریم ورک“ کے تحت مقرر کردہ مزید پرجوش ہدف کی طرف منتقل ہوگئی ہے، جس میں ۲۰۳۰ء تک دنیا کے ۳۰ فیصد سمندروں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یو این ای پی-ڈبلیو سی ایم سی (UNEP-WCMC) کے ڈائریکٹر نیویل ایش کے مطابق، اس ہدف تک پہنچنے کیلئے مزید اتنے رقبے کو محفوظ بنانا ہوگا جو تقریباً بحرِ ہند کے رقبہ کے برابر ہو۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ موجودہ پیش رفت ۲۰۳۰ء کے ہدف کا ’ایک تہائی‘ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: صومالیہ: غذائی قلت کے شکار بچے ایران جنگ سے شدید متاثر

ایش نے اس بات پر زور دیا کہ محض رقبے میں اضافہ کافی نہیں ہے۔ محفوظ علاقے حیاتیاتی تنوع سے بھرپور خطوں میں ہونے چاہئیں، ان کا انتظام بہتر ہونا چاہئے اور انہیں ماحولیاتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہونا چاہئیں۔ یہ اب بھی ایک چیلنج ہے، خاص طور پر سمندری ماحول میں جہاں ان اقدامات کی تاثیر کے بارے میں ڈیٹا محدود ہے۔ اس وقت قومی سمندری حدود کا ۲ء۲۳ فیصد حصہ محفوظ ہے، لیکن بین الاقوامی سمندروں (جو قومی حدود سے باہر ہیں) کا صرف ۷ء۱ فیصد حصہ تحفظ کے دائرے میں آتا ہے۔

آب و ہوا اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں کردار

ماہرین نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ محفوظ سمندری علاقے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صحت مند سمندری ماحولیاتی نظام، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے اور ذخیرہ کرنے میں مدد کرتے ہیں جس سے کرہِ ارض کے ماحول میں اس کی موجودگی کم ہوتی ہے۔ ساحلی ماحولیاتی نظام، جیسے مونگے کی چٹانیں اور مینگرووز، قدرتی رکاوٹوں کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، جو ساحلی آبادیوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے شدید موسمی واقعات سے بچاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK