اقلیتی برادری کے طلبہ کیلئے قائم کردہ اقلیتی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ(مارٹی )کی رجسٹریشن کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 12:25 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
اقلیتی برادری کے طلبہ کیلئے قائم کردہ اقلیتی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ(مارٹی )کی رجسٹریشن کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اقلیتی برادری کے طلبہ کیلئے قائم کردہ اقلیتی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ(مارٹی )کی رجسٹریشن کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ حکومت نے ادارے کے چیئرپرسن، وائس چیئرپرسن اور بورڈ آف ڈائریکٹرس کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔نائب وزیر اعلیٰ اور اقلیتی بہبود کی وزیر سونیتر پوار کو ادارہ کی چیئرپرسن اور ریاست کی وزیر مملکت مادھوری میسال کو وائس چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ سماجی انصاف، او بی سی بہبود اور اقلیتی ترقیاتی شعبے کے سیکریٹریز کو ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے بھیونڈی(ایسٹ) کے رکن اسمبلی رئیس شیخ، جو طویل عرصے سے اس معاملے پر مسلسل جدوجہد کر رہے تھے، انہوں نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادارہ کے ساتھ جاری امتیاز کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان : ٹھیکیداروں کا میونسپل کارپوریشن کےہیڈکوارٹر کے باہراحتجاج
رکن اسملی رئیس شیخ نے بتایا کہ سال۲۰۲۴ء میں اقلیتی برادری کیلئے مارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا، لیکن کمپنی ایکٹ کے تحت اس کی رجسٹریشن تعطل کا شکار تھا۔ مسلسل پیروی کے بعد اقلیتی بہبود محکمہ نے کارروائی کرتے ہوئے بورڈ کا اعلان کیا۔رئیس شیخ نے نشان دہی کی کہ حکومت بارٹی،سارتھی اورمہاجیوتی جیسے اداروں کو سالانہ ۳۰۰؍کروڑ روپے کے فنڈز دیتی ہے، جبکہ مارٹی کے قیام کے وقت صرف ۶؍کروڑ روپے دیئے گئے تھے۔گزشتہ ڈیڑھ سال سے مارٹی کی پیشرفت نہ ہونے اور تربیتی کلاسیس شروع نہ ہونے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔رئیس شیخ نے نائب وزیراعلیٰ و اقلیتی ترقی کی وزیر سونیتر پوار سے اپیل کی کہ مارٹی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ختم کیا جائے اور دیگر اداروں کے برابر فنڈز دیئے جائیں تاکہ اقلیتی طلبہ کو بھی مقابلہ جاتی امتحانات اور ہنر مندی کی تربیت حاصل ہو سکے۔ یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے مارٹی کے ذریعے اقلیتی سماج سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیم اور ریسرچ کے شعبے میں سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔