Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیز گیند بازمحمد سمیع کو کھیل پر توجہ دینے کا مشورہ

Updated: August 11, 2026, 1:00 PM IST | Agency | New Delhi

ٹیم انڈیا کے سابق کھلاڑی ظہیر خان نے صلاح دی کہ سمیع کو ان باتوں پر توجہ دینی چاہئے جو ان کے قابو میں ہے اور خود کو ٹیم کیلئے دستیاب رکھنا چاہئے۔

Indian fast bowler Mohammed Shami is busy working on improving his performance. Picture: INN
ہندوستان کے تیز گیندباز محمد سمیع اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان کے تجربہ کار تیز گیند باز محمد سمیع کے لئے ٹیم انڈیا میں واپسی کی راہ فی الحال آسان نظر نہیں آ رہی ہے۔ سلیکشن کمیٹی کے موجودہ منصوبوں میں اس تجربہ کار تیز گیند باز کا نام نمایاں طور پر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ایسے میں ہندوستان کے سابق لیجنڈری تیز گیند باز ظہیر خان نے سمیع کو ایک اہم مشورہ دیا ہے۔ظہیر خان کا کہنا ہے کہ سمیع کو ٹیم کے فیصلوں کے بجائے ان چیزوں پر توجہ دینی چاہیے جو ان کے قابو میں ہیں۔ظہیر خان نے کہا کہ اگر سمیع مسلسل میچ کھیل رہے ہیں اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو انہیں خود کو دستیاب رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز کی سوچ الگ ہو سکتی ہے لیکن کھلاڑی کیلئے سب سے ضروری یہ ہے کہ وہ اپنی سطح پر تعاون کرنے کی کوشش جاری رکھے۔

یہ بھی پڑھئے: ویبھَو سوریہ ونشی کی توجہ ریڈ بال کرکٹ پر مرکوز

ظہیر نےمزید کہا کہ ’’یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ کس طرح آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ میچ کھیل رہے ہیں اور اچھا مظاہرہ کر رہے ہیں تو آپ دستیاب رہتے ہیں۔ میں چیزوں کو اسی طرح دیکھتا ہوں۔ ٹیم کی سوچ الگ ہے، لیکن آپ کی سوچ بھی اہم ہے۔ اگر آپ تعاون کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کا فیصلہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کا تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ کھلاڑی کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ ٹیم کےلئے کس طرح تعاون کر سکتا ہے۔ ظہیر کے مطابق محمد سمیع کو وہی کرنا چاہیے جو وہ فی الحال کر رہے ہیں،میچ کھیلنا اور عمدہ کارکردگی  کا مظاہرہ کرنا اور فٹ رہنا۔

یہ بھی پڑھئے: سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ۵؍ ہندوستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی پرسبھی کی نظریں

واضح رہے کہ ہندوستان نے ۲۰۲۷ء ون ڈے ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ٹیم میں تیز گیند بازی کے متبادل کے تعلق سے بھی لگاتار  بحث ہو رہی ہے۔ جسپریت بمراہ کی فٹنس اور لگاتار سیریز میں ان کی دستیابی نہ ہونے کی صورتحال نے ٹیم مینجمنٹ کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔ اس کے باوجود محمد سمیع کی ٹیم انڈیا میں واپسی ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ سلیکشن کمیٹی لگاتار نئے متبادل آزما رہی ہے اور سمیع کے لئے قومی ٹیم میں جگہ بنانا ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔اس موقع پر ظہیر خان  سے کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے تعلق سے بھی  سوال کیا گیا۔ جسپریت بمراہ کے علاوہ واشنگٹن سندر، بی سائی سدرشن، روہت شرما اور ہاردک پانڈیا جیسے کھلاڑی بھی الگ الگ وقت پر فٹنس سے جڑی پریشانیوں سے دوچار ہو چکے ہیں۔ ظہیر نے کہا کہ چوٹ لگنا یا زخمی ہونا کھیل کا حصہ ہیں اور ہر کھلاڑی کے کریئر میں ایسا دور آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورک لوڈ مینجمنٹ اہم ہے لیکن کھلاڑیوں کو حالات اور واقعات کے وقت کو بھی سمجھنا ہوگا۔

سابق ہندوستانی تیز گیند باز ظہیر خان نے کہا کہ اگر کوئی تیز گیند باز زخمی ہوتا ہے یا مشکل دور سے گزرتا ہے تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے قابو میں  رہنے والی چیزوں کو صحیح طریقے سے سنبھالے۔ ظہیر نے کہا کہ جب تک کسی پریشانی کی اصل وجہ کا پتہ نہیں چلتا، تب تک آگے بڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں کھلاڑیوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے قابو میں موجود چیزوں پر دھیان دیں اور اپنی طرف سے پوری تیاری جاری رکھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK