• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی ۹۴۲؍ چیک پوسٹ فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کررہی ہیں: اقوام متحدہ

Updated: September 27, 2026, 4:00 PM IST | New York

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی۹۴۲؍ چیک پوسٹیں اور رکاوٹیں فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کر رہی ہیں،کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن اور اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق چیک پوسٹوں، گیٹوں اور سڑک بندشوں کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطینی کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس نیٹ ورک کی چیک پوسٹوں، بندش کے مقامات اور دیگر رکاوٹوں کی تعداد۹۴۲؍ تک پہنچ گئی ہے۔مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی چیک پوسٹوں، گیٹوں اور رکاوٹوں کا ایک وسیع نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے، جو فلسطینیوں کی شہروں، قصبوں اور گاؤں کے درمیان نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے اور برادریوں کو ایک دوسرے اور ان کی زرعی زمینوں سے الگ کرتا ہے۔اس نظام میں۸۲۴؍ مستقل چیک پوسٹیں اور بندش کے مقامات کے ساتھ۱۱۸؍ خطی رکاوٹیں شامل ہیں، جن میں مٹی کے ٹیلے، خندقیں اور سڑک بندشیں شامل ہیں، جو مجموعی طور پر ۱۰۷؍ اعشاریہ ۷؍کلومیٹرپر پھیلی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی رکن کانگریس کا اسرائیل سے فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو رہا کرنے کا مطالبہ

الخلیل سرفہرست
الخلیل گورنریٹ میں مستقل چیک پوسٹوں اور بندش کے مقامات کی سب سے زیادہ تعداد۲۲۱؍ ہے، اس کے بعد رام اللہ اور البیرہ میں۱۶۰؍، نابلس میں۱۲۰؍، بیت لحم میں۷۸؍، یروشلم میں ۶۲؍، قلقیلیہ میں۴۱؍ اور سلفیت میں ۴۰؍ ہیں۔یریحو اور وادی اردن میں۲۷؍ چیک پوسٹیں اور بندش کے مقامات ہیں، جبکہ جنین اور طولکرم میں ہر ایک میں۲۶؍ اور طوباس میں۲۳؍ ہیں۔گزشتہ دو ماہ میں۱۳؍ نئی مستقل چیک پوسٹیں اور گیٹ شامل کیے گئے، جن میں جنین گورنریٹ میں۱۰؍ شامل ہیں، جس سے وہاں مستقل بندش کے مقامات کی تعداد۱۶؍ سے بڑھ کر۲۶؍ ہو گئی۔ جبکہ جنین میں نئے مقامات میں الجلمہ، عرّانہ، صنعتی زون، دیر ابو ضعیف، جنین شہر کا داخلی راستہ، قباطیہ، ام التوت، عرب امریکن یونیورسٹی کے ارد گرد کا علاقہ اور زبابدہ جنکشن سمیت دیگر مقامات پر گیٹ اور چیک پوسٹیں شامل ہیں۔رام اللہ کے مغرب میں الجریوت روڈ پر بھی ایک نیا گیٹ نصب کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ گورنریٹ کے مغرب اور شمال مغرب میں دیہی سڑکوں پر گیٹ لگائے گئے، جس سے رہائشیوں کی گاؤں اور آس پاس کے علاقوں کے درمیان نقل و حرکت مزید محدود ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی نے غزہ کے خاندانوں کے ساتھ زیتون کا پودا لگایا

بندش کا نیٹ ورک
واضح رہے کہ یہ نظام صرف چیک پوسٹوں اور مستقل رکاوٹوں تک محدود نہیں، بلکہ اس میں قصبوں اور گاؤں کے داخلی راستوں اور زرعی سڑکوں کو بند کرنے والے لوہے کے گیٹ، مٹی کے ٹیلے، خندقیں اور سڑک بندشیں بھی شامل ہیں جو بڑے اور ثانوی راستوں کو کاٹ دیتی ہیں۔یہ نیٹ ورک اسرائیلی افواج کو شہروں، قصبوں، کام کی جگہوں، زرعی زمینوں اور خدماتی مراکز کے درمیان فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ایک ہی گیٹ کی بندش رہائشیوں کو بہت طویل متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے یا گاؤں اور علاقوں کو گھنٹوں یا دنوں تک ان کے گرد و نواح سے الگ کر سکتی ہے۔جیسے جیسے رکاوٹوں کا نیٹ ورک پھیلا ہے، مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت الگ الگ راستوں اور علاقوں میں تقسیم ہو گئی ہے جو چھوٹے علاقوں کی طرح ہیں، اور پڑوسی برادریوں کے درمیان سفر مخصوص گیٹوں اور چیک پوسٹوں کے کھلنے اور بند ہونے پر منحصر ہو گیا ہے۔
صرف اسرائیلی افواج ہی رکاوٹیں نہیں لگا رہیں۔
کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن نے ایسے واقعات دستاویز کیے ہیں جن میں اسرائیلی قابضین نے فلسطینی سڑکوں اور زمینوں پر گیٹ نصب کیے، جن میں وادی حماد میں کفر نعمہ کی زمین پر ایک گیٹ اور ام صفا کے مشرق میں ایک فلسطینی خاندان کے گھر جانے والی سڑک پر ایک اور گیٹ شامل ہے، جس سے اس خاندان کی اس علاقے تک رسائی محدود ہو گئی۔
مسلسل اضافہ
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نظام دو دہائیوں سے زیادہ عرصے قبل شروع ہونے والے نیٹ ورک کی توسیع ہے۔۲۰۰۳ء میں مغربی کنارے میں تقریباً۷۵۷؍ رکاوٹیں ریکارڈ کی گئیں، جن میں۴۶۴؍ مٹی کے ٹیلے شامل تھے۔۲۰۰۸؍ میں یہ تعداد۶۳۰؍ اور۲۰۱۸ءمیں  ۷۰۵؍تھی۔جبکہ او سی ایچ اے نے مارچ۲۰۲۴ء میں۷۹۳؍ رکاوٹیں درج کیں، اس سے قبل یہ تعداد دسمبر۲۰۲۵ء میں۹۲۵؍ تک پہنچ گئی اور تازہ اعداد و شمار میں۹۴۲؍ ہو گئی۔او سی ایچ اے کے ۲۰۲۵ءکے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت رکاوٹوں میں ۸۹؍چیک پوسٹیں شامل تھیں جو چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں،۲۱۸؍ جزوی چیک پوسٹیں،۲۳۲؍ سڑک گیٹ،۱۱۴؍ خطی بندشیں،۱۶۷؍ مٹی کے ٹیلے اور۱۰۵؍ سڑک بندشیں شامل تھیں۔
بعد ازاں اعداد و شمار عارضی مٹی کی رکاوٹوں سے زیادہ مستقل گیٹوں اور چیک پوسٹوں کی طرف بتدریج منتقلی کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے اسرائیلی افواج کی فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول کی صلاحیت بڑھ رہی ہے۔یہ پابندیاں فلسطینیوں کی زرعی زمینوں اور ذریعہ معاش تک رسائی کے ساتھ ساتھ طلبہ، مریضوں اور مزدوروں کی اسکولوں، اسپتالوں اور کام کی جگہوں تک پہنچنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں، جو بندش کے مقام، دورانیے اور نوعیت پر منحصر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۸۳؍ فیصد کنیڈین ٹرمپ کے کنیڈا پر عائد ٹیرف کو غلط سمجھتے ہیں: سروے

تاہم جیسے جیسے چیک پوسٹوں اور گیٹوں کا نیٹ ورک پھیلتا ہے، فوجی پابندیاں فلسطینی سڑک کے نیٹ ورک سے زیادہ سے زیادہ متصادم ہو رہی ہیں، جس سے جغرافیائی طور پر قریبی برادریوں کے درمیان سفر کا فاصلہ بڑھ رہا ہے اور ان کی علاحدگی گہری ہو رہی ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رکاوٹیں آزادانہ طور پر کام نہیں کرتیں بلکہ چیک پوسٹوں، گیٹوں اور بندشوں کے باہم جڑے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو ایک علاقے کو دوسرے سے الگ کرنے یا دو قصبوں کے درمیان براہ راست راستے کو کئی کنٹرول پوائنٹس سے گزرنے والے طویل سفر میں تبدیل کرنے کے مقصد سے قائم کی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK