Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملئے حافظ مفتی ثناء اللہ قاسمی سے جنہیں ان کی والدہ نے حفظ کروایا

Updated: March 19, 2026, 9:10 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مولانا تدریسی خدمات اور معاشی سرگرمی کے ساتھ۳۴؍برس سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پانچوں بیٹوں کو حفظ کرایا۔ ان کے پانچ بھائی حافظ ، عالم اور مفتی ہیں ۔والدہ جو خود حافظہ ہیں ، گھریلو ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ بچوں کو حفظ کرانے کا اہتمام کرتی تھیں۔

Hafiz Muhammad Sanaullah Qasmi Is Busy Reciting The Holy Quran.Photo:INN
حافظ محمد ثناء اللہ قاسمی قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف ہیں- تصویر:آئی این این
حافظ محمد ثناء اللہ قاسمی (۴۸) ۱۹۹۳ء سے تراویح پڑھارہے ہیں۔ امسال مالونی میں ایک مکتب میں ۱۳؍ روزہ تراویح پڑھائی۔ انہوں نے حفظ مکمل کرنے کے بعد ابتدائی چار سال تک صحن گاؤں ضلع پورنیہ بہار  ، اس کے بعد بَن منکھی پورنیہ میں تین سال، پورنیہ شہر میں تین سال اورپھر حیدرآباد سمیت دیگر مقامات پرتراویح پڑھائی جبکہ ۲۰۰۸ء سے مالونی میں پڑھارہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ رمضان المبارک میں بہار سے ممبئی معاشی سرگرمی کے لئے سفر کرنے کے باوجود آج تک تراویح پڑھانے کا معمول نہیں چھوٹا۔ آپ نے حفظ قرآن گھر میں اپنی والدہ سے کیا، والدہ بھی حافظہ ہیں۔ 
حافظ ثناء اللہ سے والدہ کے طریقۂ درس کے تعلق سےاستفسار کرنے پر انہوں نے جو بتایا اس سے اَسلاف کی یاد تازہ ہوگئی اور اندازہ ہوا کہ عظیم مائیں ایسی ہوتی ہیں۔ ان کی والدہ گھر کا کام کرتی رہتی تھیں اور انہیں اور ان کے دیگر بھائیوں کو حفظ بھی کراتی رہتی تھیں۔ وہ کھانا پکانے کے دوران چولہے کے قریب چوکی پر حافظ ثناء اللہ اوران کے بھائیوں کوبٹھا دیتیں اور کھانا پکاتے ہوئے آیات قرآنی بتاتی رہتیں، جہاں غلطی ہوتی اسے درست کراتیں اور آگے سبق دیتیں۔ اسی طرح دن رات کے دیگر معمولات کے دوران تعلیم جاری رکھتیں۔ انہوں نے اور دیگر چار بھائیوں نے والدہ کے پاس ڈھائی تا تین سال کے عرصے میں حفظ مکمل کیا ہے۔ اس اثناء میں جب ان کے والد صاحب باہر تدریسی خدمات انجام دینے کے دوران ہفتے کی چھٹی یا دیگر مواقع پر آتے تو وہ بھی سنتے تھے۔ اس طرح ان کا گھر اولین درسگاہ تھی اور معلمہ ان کی والدہ محترمہ ہیں۔ آج بھی وہ پوتے پوتیوں اور محلے کی عورتوں کی تعلیم وتربیت میں مصروف رہتی ہیں۔
حافظ ثناء اللہ کے نانا مولانا سلطان قاسمی اپنے علاقے کے جید عالم تھے جبکہ والد مولانا بلال احمد قاسمی عمر کی ۸۰؍ سے زائد بہاریں دیکھ چکے ہیں اور مولانا قمر الزماں الہٰ آبادی کے خلیفہ ومجاز ہیں۔ وہ بھی ۱۹۷۲ءسے تراویح پڑھارہے ہیں اور اب تک یہ معمول برقرار ہے، امسال بھی اپنے گاؤں کی مسجد میں تراویح  پڑھائی۔ مولانا بلال صاحب ایسے عاشق قرآن ہیں کہ اس پیرانہ سالی میں بھی دیگر مشاغل کے ساتھ یومیہ ایک منزل تلاوت کا بلاناغہ معمول ہے۔
 
 
مولانا حافظ ثناء اللہ نے دارالعلوم دیوبند سے ۲۰۰۲ء میں فراغت حاصل کی اور افتاء اور قضا امارت شرعیہ پٹنہ سے کیا۔ اس کے بعد معہد الشریعہ لکھنؤ میں چار سال تک تدریسی خدمات انجام دیں،پھر جامعہ خلفائے راشدین پورنیہ (بہار) میں جو ندوۃ العلماء سے ملحق ہے اور یہاں عربی ہفتم تک تعلیم دی جاتی ہے میں کئی برس سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔جامعہ میں ہدایہ ، مشکوۃ شریف اور ترجمہ قرآن وغیرہ اہم اسباق آپ سے متعلق ہیں۔ حافظ ثناء اللہ کا علمی اور روحانی خانوادہ ہے ۔ آپ کے پانچ بھائی حافظ ، عالم اور مفتی ہیں۔ یہ سبھی مختلف مقامات پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ننیہالی اور دادیہالی رشتہ داروں میں حفاظ ،علماء اور مفتیان کرام کی تعداد ۷۱؍سے زائد ہے۔
 
 
حافظ ثناء اللہ قاسمی کے مطابق جب تک تراویح نہ پڑھائی جائے اطمینان نہیں ہوتا، کسی چیز کے چھوٹ جانے کا شدید قلق رہتا ہے اور قرآن کی یادداشت کے تعلق سے بے چینی رہتی ہے۔حفظ قرآن کے بعد ۳۴؍ برس میں تراویح پڑھانے کا ناغہ نہیں ہوا۔ انہوں نے نمائندہ انقلاب سے دوران گفتگو معروف عالم دین مولانا عاقل حسامی (حیدرآباد ) کا ایک قول جو دلچسپ ہونے کے ساتھ تمام حفاظ کے لئے سبق آموز بھی ہے، دہرایا کہ جو حافظ ایک سال تراویح نہ پڑھائے وہ آدھا حافظ اور جو دو سال تراویح نہ پڑھائے وہ خدا حافظ۔ اس سے تمام حفاظ کو سبق لینے اور تراویح سنانے کے لئے اہتمام کی ضرورت ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK