مدنپورہ کےوائی ایم سی اے علاقے میں مقیم محمد حسنین ابن زوہیب کالوا کم عمر سہی مگر ایسا ستارہ ہے جس نےجمناسٹک کے لیول ایک سے لیول تین میں مختلف زمروں میں ہونے والے مقابلہ میں محض ۸ سال کی عمر میں ۸؍ مقابلوں میں حصہ لیا اور کل ۲۱؍ میڈل اپنے نام کئے۔ ان میں ۱۱؍ گولڈ میڈل شامل ہیں۔
گولڈن بوائے محمد حسنین اپنے ۲۱؍تمغوں کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این
محمد حسنین کا جواب نہیں۔ اس نے محض ۸ ؍ سال کی عمر دو سال میں مقامی ، ریاستی، نیشنل اور انٹر نیشنل سطح پر جمناسٹک کے الگ الگ زمروں میں ہونے والے ۸؍ مقابلوں میں حصہ لے کر ایک دونہیں بلکہ کل ۲۱؍ میڈل ،کئی سرٹیفکیٹ اور خطابات اپنے نام کئے ہیں ۔حسنین نے دو برسو ںمیں ملک اور بیرون ملک میں ہونے والےجمناسٹک کے لیول ون سے لے کر لیول ۳؍ تک کے زمروں میں حصہ لے کراب تک کل ۱۱؍ گولڈ میڈل اپنے نام کئے ۔ اب حسنین، مدنپورہ کی کھیل کود کی دنیا سے وابستہ ننھے ستاروں کے گولڈن بوائے بن چکے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مارچ ۲۰۰۶ء میں ماٹونگا اسپورٹس پارک آف انڈیا اکیڈمی کے زیر سرپرستی ہندوستان کی جانب سے محمد حسنین نے بینکاک (تھائی لینڈ انڈر ۱۰؍) میں ہونے والے جمناسٹک کے لیول ۲ ؍ کے مقابلوں، جس میں مختلف ممالک کے۴۰؍ سے زائد بچوں نے حصہ لیا تھا ، مدنپورہ کی شہرت بڑھائی۔ اس نے ۶؍ الگ الگ زمروں میں اپنے جمناسٹک کے کرتب و کمالات دکھائے اور نہ صرف سب کو حیرت زدہ کر دیا بلکہ اپنے گروپ میں سرفہرست رہتے ہوئے ۶؍ گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔ایسی اُڑان، ایسی اُٹھان کم کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امیتابھ بچن نے ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کی میزبانی کودل توڑ دینے والا تجربہ قراردیا
۹؍ سالہ لٹل چیمپئن مدنپورہ نزد اگری پاڑہ کے دستگیر ہاؤس میں رہتا ہے اور کرافورڈ مارکیٹ کے قریب واقع سینٹ زیویئرس انگلش ہائی اسکول میں چوتھی جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ وہ نہ صرف کھیل کود میں نمایاں رہا بلکہ اسکول کی پڑھائی لکھائی میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ ’پوت کے پاؤں پالنے‘ میں نظر آجاتے ہیں۔ حسنین کے والد زوہیب کالوا نے اپنی بیٹے کی صلاحیتوں کو بآسانی پہچان لیا تھا چنانچہ ان صلاحیتو ںکو مزید نکھارنے اور ملکی و عالمی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں حصہ لینے اور کامیاب ہونے کا خواب دیکھتے ہوئے اسے ماٹونگا کی اکیڈمی میں داخل کرایا تھا۔
مدنپورہ میں جمناسٹک کھیلوں میں گولڈن بوائے کا خطاب پانے والے محمد حسنین کا خواب ہے کہ وہ جمناسٹک کے تمام ۷؍ لیولس میںنہ صرف مہارت حاصل کرے بلکہ ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایشین گیمز اور اولمپک مقابلوں میں بھی حصہ لےاوراپنی بہترین صلاحیتوں سے اپنے والدین اور ملک کا نام روشن کرے۔ حال ہی میں ۱۰؍ اگست ۲۰۲۶ء کو حیدر آباد تلنگانہ میں آل انڈیا نیشنل چیمپئن شپ لیول ۳؍ کے الگ الگ زمروں میں ہونے والے مقابلوں میں بھی حسنین نے حصہ لیا اور ایک گولڈ ، ۲؍ سلور اور ۲؍ کانسے کے تمغے جیتے۔ حسنین نے۵؍ سال کی عمر میں، اکتوبر ۲۰۲۴ء میں لیول ون سے اپنے جمناسٹک کریئرکا آغاز کرتے ہوئے ماہم میں اسکول کی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں حصہ لیا تھا جہاں اسے پہلی بار صرف سرٹیفکیٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا تھا ۔ تاہم دسمبر ۲۰۲۴ء میں ہونے والے مقابلے میں اسنے لیول ون میں پہلا گولڈ میڈل جیتا۔ اس کے بعد لٹل چیمپئن نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ اپریل ۲۰۲۵ء میں ریاستی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں ایک سلور، جولائی ۲۰۲۵ء میں حیدر آباد میں ۲؍ گولڈ،۳؍ سلور ایک کانسہ، دسمبر ۲۰۲۵ء میں ایک گولڈ، جنوری ۲۰۲۶ء میں ایک کانسہ کا تمغہ ، مارچ ۲۰۲۶ء میں بینکاک تھائی لینڈ میں ۶؍ گولڈ اور آخر میں اگست ۲۰۲۶ء میں حیدر آباد میں ایک گولڈ، دو سلور اور ایک کانسہ کا تمغہ جیت کر مدنپورہ کا نام روشن کیا ہے ۔ حسنین کے اس کارنامہ کو سراہاتے ہوئے مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتو ں نے بھی اس کی حوصلہ افزائیاور پزیرائی کی ہے۔