بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا نے بھائندر کی زمین کا قبضہ چھوڑا، تعمیراتی منظوری سرینڈر اور پولیس شکایت بھی واپس لے لی۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 11:22 AM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Bhayander
بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا نے بھائندر کی زمین کا قبضہ چھوڑا، تعمیراتی منظوری سرینڈر اور پولیس شکایت بھی واپس لے لی۔
وزیراعظم نریندر مودی کے اسکولی دور کے دوست، میرا روڈ کے رہائشی ۸۱؍ سالہ اصغر علی ووہرہ کو بالآخر ۱۵ ؍سال کی طویل جدوجہد کے بعد ان کی غصب شدہ زمین کا قبضہ واپس مل گیا ہے۔ بی جے پی کے مقامی رکنِ اسمبلی نریندر مہتا نے متنازع پلاٹ پر اپنا دعویٰ چھوڑتے ہوئے تمام تعمیراتی اجازت نامے ’سرینڈر‘ کرنے اور ووہرا کے خلاف درج کرائی گئی پولیس شکایت واپس لینے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم مودی سے مداخلت کی اپیل کا اثر
معلوم ہوکہ اصغر علی ووہرا نے گجرات کے وڈنگر واقع بی این اسکول میں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے گزشتہ ۸؍ستمبر کو نئی دہلی میں وزیراعظم سے ملاقات کی تھی اور زمین پر ناجائز قبضے کی تفصیلی روداد سناتے ہوئے ان سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ اسی ملاقات کا اثر ہے کہ اعلیٰ سطح سے مثبت اشارہ ملتے ہی ریاست کا انتظامیہ متحرک ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے:اسکول والے گائوں میں قیام نہ کرنے پر ایک ہزار سے زائد اساتذہ کو نوٹس
منترالیہ میں میٹنگ اور فیصلہ منگل کے روز
منترالیہ میں وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری شریکر پردیشی کی صدارت میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں اصغر علی ووہرا، نریندر مہتا، میرا بھائندر میونسپل کمشنر رادھا بنود شرما اور محکمہ شہری منصوبہ بندی کے پرشوتم شندے موجود تھے۔ میٹنگ میں نریندر مہتا نے ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ کو مکتوب سونپ کر رسمی طور پر زمین کا قبضہ چھوڑنے اور وہاں تعمیرات کی منظوری منسوخ کرنے کی درخواست کی۔
نریندر مہتا نے صفائی دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے یہ زمین ۲۰۱۹ء میں مرون فرنانڈس نامی شخص سے خریدی تھی۔ علاوہ ازیں، پولیس کمشنر کو لکھے خط میں ندریدر مہتا نے اصغر علی ووہرا کے خلاف درج اپنی شکایت بھی باہمی سمجھوتے کی بنیاد پر واپس لے لی ہے۔
۱۹۸۹ء میں خریدی تھی زمین
اصغر علی ووہرا کے مطابق انہوں نے ۱۹۸۹ء میں بھائندر مشرق کے نوگھر علاقے میں ۲۸۱۰ ؍مربع میٹر کا پلاٹ خریدا تھا، تاہم ۲۰۱۱ میں سویم بلڈرس اور نریندر مہتا کی کمپنی سیون الیون کنسٹرکشنز نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ ووہرا گزشتہ ۱۵؍ سال سے انصاف کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ رہے تھے۔ بلاخر وزیراعظم مودی سے ملاقات کے بعد اس دیرینہ مسئلے کا منصفانہ حل نکل آیا۔