رسول اکرمؐ کی دنیا میں تشریف آوری عیسوی کلنڈر کے حساب سے ۵۷۱؍ عیسوی میں ۲۰؍ اپریل کو ہوئی۔ اسی مناسبت سے چندبرس سے رضا اکیڈمی کی جانب سے عامۃ المسلمین سےاپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس مبارک موقع کو عالمی یومِ درودپاک کے طور پرمنائیں۔
عالمی یوم درود پر منعقدہ ایک اجلاس میں علمائے کرام اوردیگر نظر آرہےہیں ۔ تصویر:آئی این این
رسول اکرمؐ کی دنیا میں تشریف آوری عیسوی کلنڈر کے حساب سے ۵۷۱؍ عیسوی میں ۲۰؍ اپریل کو ہوئی۔ اسی مناسبت سے چندبرس سے رضا اکیڈمی کی جانب سے عامۃ المسلمین سےاپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس مبارک موقع کو عالمی یومِ درودپاک کے طور پرمنائیں۔ اسی حساب سےجہاں کثرت سے درودپاک کا اہتمام کیا گیا وہیں پیر کی شب میں مساجد میں اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں علماء نے درود پاک کی اہمیت پرروشنی ڈالی اور کثرت سے اہتمام کرنے کی تلقین کی ۔
سنّی بلال مسجد میں مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاںنے دعا کرانے کے ساتھ درود پاک کے فضائل بیان کئے اور حاضرین سے کہا کہ’’ یہ مبارک عمل دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔‘‘ مفتی محمدسلمان ازہری نے اپنے خطاب میںکہا کہ’’ درود پاک وہ عمل ہے جو نہ صرف دلوں کو سکون بخشتا ہے بلکہ انسان کی زندگی میں برکت اور کامیابی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ ‘‘مفتی صاحب نے مسلمانوں کو آپؐ کی مبارک تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی اوریہ بھی کہاکہ نبی کریم ؐکی محبت اور آپ ؐکی سنتوں پر عمل ہی میں دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔‘‘
اجلاس میں رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری، مولانا محمود عالم رشیدی، مولانا خلیل الرحمن نوری اور دیگر نے شرکت کی۔