اجاڑنے سے قبل بسانے کیلئے ضلع کلکٹر سے باندرہ میں ان کے دفتر میں متاثرین اوراے پی سی آر کی جانب سے ایک وفد نے گزشتہ دنوں ملاقات کی اورمیمورنڈم دیا۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 3:21 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
اجاڑنے سے قبل بسانے کیلئے ضلع کلکٹر سے باندرہ میں ان کے دفتر میں متاثرین اوراے پی سی آر کی جانب سے ایک وفد نے گزشتہ دنوں ملاقات کی اورمیمورنڈم دیا۔
اجاڑنے سے قبل بسانے کیلئے ضلع کلکٹر سے باندرہ میں ان کے دفتر میں متاثرین اوراے پی سی آر کی جانب سے ایک وفد نے گزشتہ دنوں ملاقات کی اورمیمورنڈم دیا۔ یہ ملاقات کرلا تا مانخورد ریلوے لائن سے متصل ۳۷۰۰؍ جھوپڑوں کو توڑنے کے معاملے میں کی گئی ۔اس تعلق سے سینٹرل ریلوے نے ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو نوٹس دیتے ہوئے مکینوں کو ۳۰؍ دن کے اندر اپنے مکانات خالی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مکینوں نے مطالبہ کیا ہےکہ انہدامی کارروائی سے قبل بامبے ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کیا جائےجس میںعدالت نے سروے کرنے، متاثرہ مکینوں کی تفصیلات درج کرنے اور جھوپڑوں کو توڑنے سے قبل قانونی ضابطوں کی تکمیل کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: واڈیا اسپتال میں شہر کا پہلا پیڈیاٹرک ہارٹ ٹرانسپلانٹ کامیاب
اس ضمن میںاے پی سی آر کی جانب سے متاثر ہونے والوں کی رہنمائی اوران کی قانونی مدد کیلئے تعاون کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرین پرمشتمل وفد میں اے پی سی آر کی جانب سے ایڈوکیٹ حمزہ مرزا اورمقامی مکینوں ضیاء الدین منیرالدین شیخ ، رام اوتار، کفایت اللہ ، عبدالرازق شیخ ،امتیاز شیخ ،نایاب اور عزیز خان وغیرہ نے شرکت کی۔ اس موقع پریہ یقین دہانی کروائی گئی کہ مذکورہ اسوسی ایشن کی جانب سے آخری مرحلے تک بلا تفریق مذہب ہر ممکن تعاون اورقانونی مدد کویقینی بنایا جائے گا تاکہ ایک بھی متاثرہ خاندان اپنے جائز حق سے محروم نہ رہے۔
واضح ہو کہ سینٹرل ریلوے کی جانب سے مکینوں کو جاری کردہ نوٹس میں رٹ پٹیشن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہےکہ کرلا سے ٹرامبے ریل لائن کے دونوں جانب واقع سبھی جھوپڑا واسیوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس نوٹس کے جاری ہونے یعنی ۱۵؍ اکتوبر سے ۳۰؍ دن کے اندر اپنا مکان خالی کردیں۔ اس کے بعد یہ انتباہ دیا گیا ہے کہ ریلوے انتظامیہ کو طاقت کے بَل پر جگہ خالی کرانے کا حکم ہے۔