Inquilab Logo Happiest Places to Work

خفیہ فلم بندی تنازع کے بعد میٹا اسمارٹ گلاسیز کیلئے ’کِل سوئچ‘ پر غور

Updated: August 26, 2026, 9:04 PM IST | San Francisco

میٹا اپنے متنازع اسمارٹ گلاسیز میں پرائیویسی کے خدشات کم کرنے کیلئے ایک ’کِل سوئچ‘ متعارف کرانے پر کام کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ نئے پیٹنٹ میں ایسے ہارڈویئر پرائیویسی نظام کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جو گلاسیز کے کیمروں یا دیگر سینسرز کو ہارڈویئر کی سطح پر بند کرسکے گا، جس کے بعد سافٹ ویئر یا ہیکنگ کے ذریعے انہیں دوبارہ فعال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اطلاعات کے مطابق میٹا اپنے متنازع اسمارٹ گلاسیز کیلئے ایک ’’کِل سوئچ‘‘ تیار کرنے پر کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ کمپنی نے پہلی مرتبہ ۲۰۲۱ء میں رے بین (Ray-Ban) کے اشتراک سے یہ اسمارٹ گلاسیز متعارف کرائے تھے۔ ان چشموں کے سامنے کی جانب ایک کیمرہ نصب ہے، جس کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بنانا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد سے ان چشموں کے کئی نئے ورژن بھی متعارف کرائے جا چکے ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ان اسمارٹ گلاسیز کو مسلسل تنقید اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ ان کی مدد سے لوگوں کو ان کی اجازت یا حتیٰ کہ علم کے بغیر فلمانا آسان ہوجاتا ہے۔ اس حوالے سے پیدا ہونے والی شدید ناراضی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان چشموں کو غیر رسمی طور پر ’’پرورٹ گلاسیز‘‘ یعنی بدمعاش لوگوں کے چشمے بھی کہا جانے لگا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: موہن بھاگوت کے نیویارک پروگرام کی مخالفت، میئر ظہران ممدانی بھی میدان میں آگئے

میٹا کی جانب سے رواں سال کے اوائل میں دائر کیا گیا اور گزشتہ ہفتے منظور ہونے والا ایک نیا پیٹنٹ بظاہر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمپنی ان چشموں کی ویڈیو ریکارڈنگ کی صلاحیت کو محدود کرنے کے نئے طریقوں پر کام کر رہی ہے۔ اگرچہ یہ پیٹنٹ موجودہ تنازع اور شدید عوامی ردعمل میں اضافے سے پہلے دائر کیا گیا تھا، تاہم ممکن ہے کہ یہ ان مسلسل سوالات کے جواب میں تیار کیا گیا ہو جن میں اسمارٹ گلاسیز کو لوگوں کی نجی زندگی کیلئے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پیٹنٹ میں ’’اگمینٹڈ ریئلٹی ڈیوائسز سمیت صارفین کے آلات‘‘ کیلئے ایک فیچر کی وضاحت کی گئی ہے۔ اگرچہ اس میں میٹا کے اسمارٹ گلاسیز کا براہِ راست نام نہیں لیا گیا، تاہم اس میں شامل متعدد خاکے موجودہ مارکیٹ میں دستیاب ان چشموں سے خاصی مشابہت رکھتے ہیں۔ پیٹنٹ میں ایک ’’ہارڈویئر پرائیویسی میوٹ سرکٹ‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ کا دنیا بھر میں امیگرنٹ ویزا انٹرویوز عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ

واضح ہو کہ یہ نظام چشموں میں موجود ایک یا اس سے زیادہ سینسرز کو خود ہارڈویئر کی سطح پر بند کرنے کی اجازت دے گا۔ پیٹنٹ کے مطابق اس کے ذریعے ’’ایسے پرائیویسی کنٹرولز فراہم کئے جاسکیں گے جن سے چھیڑ چھاڑ کرنا مشکل ہوگا اور جنہیں سافٹ ویئر کے ذریعے کئے جانے والے حملوں سے ناکام نہیں بنایا جا سکے گا۔‘‘ ایسا نظام نافذ ہونے کی صورت میں چشمے جسمانی طور پر ریکارڈنگ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یعنی کسی ہیک یا سافٹ ویئر میں مداخلت کے ذریعے کیمرے کو دوبارہ فعال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ میٹا کے موجودہ اسمارٹ گلاسیز میں بھی ایسی خصوصیات شامل ہیں جن کا مقصد لوگوں کے علم یا اجازت کے بغیر تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔ ان میں چشموں کے سامنے موجود ایک لائٹ بھی شامل ہے جو کیمرہ فعال ہونے پر روشن ہوجاتی ہے۔ تاہم، آن لائن دستیاب مختلف گائیڈز میں اس لائٹ کو چھپانے کے کئی طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK