Inquilab Logo Happiest Places to Work

موہن بھاگوت کے نیویارک پروگرام کی مخالفت، میئر ظہران ممدانی بھی میدان میں آگئے

Updated: August 26, 2026, 4:01 PM IST | New York

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے ۲۹؍ اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہونے والے پروگرام کی مخالفت میں احتجاج اور سیاسی اعتراضات تیز ہوگئے ہیں۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بھی کہا ہے کہ وہ اس پروگرام کی حمایت نہیں کرتے، تاہم نجی تقریب کو منسوخ کرانے کا اختیار شہر کے پاس نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا۔

Mohan Bhagwat and Zohran Mamdani. Picture: INN
موہن بھاگوت اور ظہران ممدانی۔ تصویر: آئی این این

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے نیویارک میں مجوزہ پروگرام کے خلاف مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بھی ۲۹؍ اگست کو میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہونے والی تقریب کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اس کی حمایت نہیں کرتے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی نجی تقریب کو روکنے یا منسوخ کرنے کا اختیار میئر کے پاس ہونا ضروری نہیں۔ بھاگوت آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں امریکہ، کنیڈا اور برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ نیویارک میں ان کا پروگرام ’’یونیورسل ون نیس‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں تقریباً ۵؍ ہزار ہند نژاد امریکیوں سے خطاب متوقع ہے۔ اس پروگرام کا اہتمام امریکن ہندوؤں برائے مشغولیت و مکالمہ نامی تنظیم کر رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد، پاکستان: اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، ۱۵؍ نومولود جاں بحق

ممدانی نے آر ایس ایس کے نظریے کو اپنی بیان کردہ کثیرالثقافتی اور تکثیری اقدار سے متصادم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے نظریے کی حمایت نہیں کرتے جس میں لوگوں کو مذہب، ذات یا نسل کی بنیاد پر الگ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق ایک ایسے ہندوستان سے ہے جہاں مختلف مذاہب اور برادریوں کے لوگ ساتھ رہتے ہیں۔ اس سے قبل مختلف ہندو، مسلم، بین المذاہب اور شہری حقوق کی تنظیموں نے نیویارک سٹی ہال کے باہر احتجاج کیا۔ ہندوؤں برائے انسانی حقوق، انڈین امریکن مسلم کونسل، انٹر فیتھ سینٹر آف نیویارک اور دیگر تنظیموں نے بھاگوت کی تقریب پر اعتراض کرتے ہوئے پروگرام منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
ہندو برائے انسانی حقوق کی ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سراویا تاڈی پلی نے کہا کہ ’’موہن بھاگوت تمام ہندوؤں کی نمائندگی نہیں کرتے۔‘‘ تنظیم نے آر ایس ایس پر مذہبی بالادستی اور اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ تنظیم کے الزامات ہیں، جنہیں آر ایس ایس مسترد کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب آر ایس ایس اپنے آپ کو ایک ثقافتی تنظیم قرار دیتا ہے اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ تنظیم کے مطابق بھاگوت کا بیرون ملک دورہ آر ایس ایس کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا جواب دینے اور بھارتی و ہندو نژاد برادریوں سے رابطہ مضبوط کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیلیفورنیا: مارک زکربرگ کی اہلیہ پریسلا چن کے ذریعے قائم کردہ اسکول بند کردیا گیا، فنڈنگ کی بندش وجہ

بھاگوت کے دورے پر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی جانب سے بھی اعتراض سامنے آیا ہے۔ کمیشن نے آر ایس ایس کے بعض عہدیداروں کے خلاف پابندیوں کی سفارش کی ہے اور تنظیم پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔ ہندوستانی حکومت ماضی میں اس کمیشن کی رپورٹوں کو جانبدار قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے۔ نیویارک میں ہونے والی تقریب اب سیاسی اور سماجی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ ایک طرف منتظمین اسے عالمی اتحاد اور بھارتی نژاد برادری سے رابطے کا پروگرام قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالف تنظیمیں اسے آر ایس ایس کے نظریے اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کے خلاف احتجاج کا موقع سمجھ رہی ہیں۔ میئر ممدانی کی مخالفت نے اس تنازع کو مزید سیاسی اہمیت دے دی ہے، تاہم تقریب کو منسوخ کرنے کے لیے میئر کی جانب سے کسی انتظامی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK