Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ انتظامیہ کا دنیا بھر میں امیگرنٹ ویزا انٹرویوز عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ

Updated: August 26, 2026, 2:57 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں امیگرنٹ ویزا انٹرویوز عارضی طور پر روک یا مؤخر کردیئے ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق اس دوران قونصلر افسران کے لیے عالمی سطح پر نئی تربیت کا پروگرام جاری ہے، جس کا مقصد ویزا درخواستوں کی جانچ مزید سخت اور یکساں بنانا ہے۔ افسران کو خاص طور پر یہ جانچنے کی تربیت دی جارہی ہے کہ درخواست گزار مستقبل میں امریکی عوامی سہولتوں پر انحصار کرنے کا امکان تو نہیں رکھتا۔ محکمۂ خارجہ نے انٹرویوز دوبارہ شروع ہونے کی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔

Donald Trump. Picture: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں امیگرنٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر روک دیا ہے۔ مقررہ انٹرویوز منسوخ یا نئی تاریخوں کے لیے مؤخر کیے جارہے ہیں، جبکہ امریکی قونصلر افسران کو نئی عالمی تربیت دی جارہی ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق تربیت کا مقصد افسران کو درخواست گزاروں کی زیادہ جامع جانچ کے لیے تیار کرنا اور مختلف ممالک میں ویزا درخواستوں کی جانچ کا طریقہ کار یکساں بنانا ہے۔ اس میں یہ جائزہ بھی شامل ہے کہ کوئی درخواست گزار امریکہ پہنچنے کے بعد عوامی مالی معاونت یا سرکاری سہولتوں پر انحصار کرنے کا امکان تو نہیں رکھتا۔ یہ اقدام امریکی امیگریشن پالیسی میں ’پبلک چارج‘ کے تصور پر بڑھتی توجہ کے درمیان سامنے آیا ہے۔ محکمۂ خارجہ نے رواں ماہ بعض امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کے لیے ’Public Charge Bond‘ کا پائلٹ طریقہ بھی شروع کیا ہے، جس کے تحت مخصوص حالات میں قونصلر افسر درخواست گزار کو بانڈ کے لیے درخواست دینے کا کہہ سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:کانگریس نے مردم شماری کے طریقۂ کار کو مسترد کر دیا

موجودہ تعطل کا تعلق امیگرنٹ ویزا سے ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی فروری کی ہدایات کے مطابق بعض ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا اجرا پر پہلے ہی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، تاہم ان ممالک کے شہری درخواست جمع کرا کر انٹرویو دے سکتے تھے۔ سیاحتی ویزا اس مخصوص پابندی میں شامل نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق محکمۂ خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ عالمی تربیتی پروگرام کب مکمل ہوگا اور معمول کے مطابق امیگرنٹ ویزا انٹرویوز کب دوبارہ شروع ہوں گے۔ جن درخواست گزاروں کے انٹرویوز متاثر ہوئے ہیں، انہیں نئی تاریخ یا طریقۂ کار سے متعلق اطلاع دی جائے گی۔ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر امیگریشن پالیسی کا ایک اور قدم ہے، جس میں ویزا اور گرین کارڈ درخواستوں کی زیادہ سخت جانچ، ویزا منسوخی اور ملک بدری کے اقدامات شامل ہیں۔ انتظامیہ نے ویزا درخواست گزاروں کی جانچ میں سیاسی سرگرمیوں اور دیگر عوامل کو بھی زیادہ اہمیت دی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹی ایم سی کے باغی اراکین کو سپریم کورٹ کا نوٹس

اسی دوران امریکی امیگریشن پالیسی کو عدالتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ایک وفاقی جج نے حال ہی میں ۷۵؍ ممالک کے شہریوں کے امیگریشن ویزا پروسیسنگ کو معطل کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی ختم کردی اور قرار دیا کہ اس طرح کی پابندی عائد کرنے کا اختیار انتظامیہ کے پاس نہیں تھا۔ تازہ عالمی انٹرویو تعطل سے ایسے درخواست گزار متاثر ہوں گے جو مستقل طور پر امریکہ منتقل ہونے کے لیے امیگرنٹ ویزا حاصل کرنے کے عمل میں ہیں۔ تاہم امریکی محکمۂ خارجہ نے اب تک بحالی کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں دی ہے، اس لیے متاثرہ درخواست گزاروں کے لیے اگلی کارروائی کا انحصار متعلقہ سفارت خانے یا قونصل خانے کی نئی ہدایات پر ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK