Updated: August 13, 2026, 10:13 PM IST
| Washington
السید کی مہم کی توجہ سستے معیارِ زندگی، ’میڈیکیئر فار آل‘ (Medicare for All) اور سیاست میں پیسے کے اثر کو کم کرنے پر مرکوز رہی ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل کو دی جانے والی غیر مشروط امریکی فوجی امداد کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے السید کو ”یہودیوں اور اسرائیل سے نفرت کرنے والا ریڈیکل لیفٹ سوشلسٹ“ قرار دیا ہے۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم ’سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ‘ (Center for the Study of Organized Hate) کے ایک حالیہ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ ۴ اگست کو ڈیموکریٹک پرائمری میں فتح حاصل کرنے کے بعد مشی گن سینیٹ کے امیدوار عبدل السید کو نشانہ بنانے والی مسلم مخالف نفرت انگیز گفتگو میں ۲۰ گنا اضافہ ہوا ہے۔
یکم جون سے ۳ اگست کے درمیان السید کے نام اور مسلم مخالف تعصب سے متعلق ۱۵۵ پوسٹس روزانہ شیئر کئے گئے لیکن ۴ اگست اور ۱۰ اگست کے درمیان ان کی تعداد میں ۱۸۹۵ فیصد کا زبردست اضافہ ہوا اور ان کی تعداد بڑھ کر ۳۰۹۹ روزانہ تک پہنچ گئی۔ یکم جنوری سے ٹریک کی گئی، السید کو نشانہ بنانے والے تمام ۳۸۲۸۰ اسلامو فوبک پوسٹس میں سے ۷ء۵۶ فیصد پوسٹس ان سات دنوں میں کئے گئے، جو ۵ اگست کو ایک ہی دن میں ۶۹۲۳ پوسٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ الگ سے، سینٹر نے یکم جون سے ۱۰ اگست کے درمیان ایکس پر مسلم مخالف تعصب کو فروغ دینے والی ۴ لاکھ ۹ ہزار ۶۴۰ پوسٹس کو ٹریک کیا۔ یہاں بھی ۵ اگست کو ۱۱۸۸۳ اسلاموفوبک پوسٹس سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھئے: اردگان کا فلسطین کے قیام کیلئے ’پُرعزم‘ حمایت جاری رکھنے کا اعلان
زیادہ تر پوسٹس میں غلط طریقے سے السید کو حماس، حزب اللہ اور اخوان المسلمون سے منسلک ”اسلامی جہادی“ کے طور پر بیان کیا گیا تھا، ساتھ ہی ان کے ”اسلامی قانون“ کے نفاذ کے ارادے کے دعوے اور ”دوبارہ ہجرت کروانے“ کے مطالبات شامل تھے۔ سینٹر نے بتایا کہ یہ پیٹرن گزشتہ سال نیویارک میں ظہران ممدانی کی میئر کی دوڑ کے دوران ریکارڈ کردہ بیانیے سے گہری مشابہت رکھتا ہے۔ جب امریکی انتخابات میں مسلم امیدواروں کو برتری حاصل ہوتی ہے تب ان کے خلاف ایسے ہی الزامات اور استعارے سامنے آتے ہیں۔
واضح رہے کہ ترقی پسند لیڈر اور سابق پبلک ہیلتھ آفیشل السید نے اپنی حریف ہیلی اسٹیونز کو معمولی فرق سے شکست دی جنہوں نے آئی پیک (AIPAC) کی حمایت یافتہ امیدوار کے طور پر ۳۰ ملین ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کئے تھے۔ وہ ریٹائر ہونے والے سینیٹر گیری پیٹرز کے ذریعے خالی کی جانے والی نشست کیلئے نومبر میں ریپبلکن مائیک آرمر (Mike Rogers) کا سامنا کریں گے۔ اس مقابلے کو ڈیموکریٹس کی سینیٹ کی امیدوں کیلئے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: الہان عمر نے مینیسوٹا کے پانچویں انتخابی حلقے میں ڈیموکریٹک پارٹی کا پرائمری انتخاب جیت لیا
السید کی مہم کی توجہ سستے معیارِ زندگی، ’میڈیکیئر فار آل‘ (Medicare for All) اور سیاست میں پیسے کے اثر کو کم کرنے پر مرکوز رہی ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل کو دی جانے والی غیر مشروط امریکی فوجی امداد کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے السید کو ”یہودیوں اور اسرائیل سے نفرت کرنے والا ریڈیکل لیفٹ سوشلسٹ“ قرار دیا ہے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاق کے طور پر انہیں ”صدر عبدالالسید“ کہا۔ پہلے مسلم امریکی سینیٹر بننے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر السید نے کہا کہ وہ ”پہلا“ بننے پر توجہ نہیں دیتے بلکہ ایک ایسے امریکہ کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں جو ”بڑا“ اور ”کھلے دل والا“ ہو۔