Updated: October 02, 2026, 10:04 PM IST
| Geneva
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے سے عالمی سطح پر غذائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے تجزیے کے مطابق اس بحران سے مزید۲؍ کروڑ۲۰؍ لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتے ہیں، جن میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد۵۳؍ فیصد ہوگی۔
یو این ویمن نے خوراک اور نقد امداد کے ساتھ غذائیت، تحفظ، روزگار کے ذرائع اور زرعی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تصویر: آئی این این
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن کی جانب سے جمعہ کو جاری کئے گئے ایک تجزیے کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث رواں سال کے اختتام تک مزید ۲؍ کروڑ ۲۰؍لاکھ افراد کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہوسکتا ہے، جن میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد۵۳؍ فیصد ہے۔ تجزیے کے مطابق، ۲۸؍ممالک میں مزید ایک کروڑ۱۷؍ لاکھ خواتین اور لڑکیاں غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتی ہیں۔ یہ تعداد ان اندازاً۲۰؍ کروڑ۸۰؍ لاکھ خواتین اور لڑکیوں کے علاوہ ہے جو پہلے ہی غذائی عدم تحفظ یا غذائی قلت کا شکار ہیں۔
یو این ویمن کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیارادزائی گمبونزوانڈا نے کہا، ’’جب خوراک کم پڑ جاتی ہے تو خواتین کم کھاتی ہیں اور سب سے آخر میں کھاتی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ خواتین اکثر دوسروں کو ترجیح دینے کیلئے کم غذائیت والی خوراک اختیار کرلیتی ہیں یا کھانا چھوڑ دیتی ہیں۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث توانائی، کھاد اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ تجزیے کے مطابق جنوبی سوڈان، سوڈان، ہیٹی، یمن اور فلسطین جیسے ممالک کو نسبتاً زیادہ اور مرتکز خطرات کا سامنا ہے، کیونکہ وہاں کمزوری کے کئی عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مادورو کی گرفتاری سے قبل ٹرمپ نے اے آئی چیٹ بوٹ ’گروک‘ سے مشورہ لیا: رپورٹ
سوڈان کی خواتین کو سب سے زیادہ خطرہ
جنوبی سوڈان میں مزید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہونے والی خواتین اور لڑکیوں کی تعداد ملک کی خواتین کی آبادی کا تقریباً ۱۴؍فیصد، یعنی ہر سات میں سے ایک کے برابر ہوسکتی ہے۔ ۲۸؍ ممالک کے تجزیے میں یہ سب سے زیادہ تناسب ہے۔ لبنان دوسرے نمبر پر ہے، جہاں خواتین کی تقریباً۴؍ فیصد آبادی کو اضافی غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ کئی ممالک میں ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے افراد میں خواتین اور لڑکیوں کا تناسب بھی خاصا زیادہ رہنے کا امکان ہے، جن میں افغانستان میں ۶۰؍ فیصد، یمن میں ۵۷؍ فیصد سے زیادہ اور سوڈان میں تقریباً۵۶؍ فیصد شامل ہیں۔ تجزیے میں روزگار اور مالی عدم مساوات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جو خواتین کی بڑھتی ہوئی غذائی قیمتوں اور آمدنی میں کمی کے اثرات برداشت کرنے کی صلاحیت کو محدود کرسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، مشرق وسطیٰ میں ۹؍ ہزار امریکی فوجی بھیجے
مصر، عراق، فلسطین، سوڈان اور شام میں تقریباً۸۰؍ فیصد خواتین لیبر فورس سے باہر ہیں، جبکہ افغانستان اور یمن میں یہ شرح تقریباً ۹۵؍ فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ ملازمت کرنے والی خواتین میں افغانستان، برکینا فاسو، ایتھوپیا، ہیٹی، مالی اور جنوبی سوڈان میں ۸۰؍ فیصد سے زیادہ خواتین غیر محفوظ یا غیر مستحکم روزگار سے وابستہ ہیں۔ تجزیے کے مطابق مالی خدمات تک رسائی بھی محدود ہے۔ عراق، لبنان، پاکستان اور یمن میں پانچ میں سے ایک سے بھی کم خواتین کے پاس بینک اکاؤنٹ یا موبائل منی اکاؤنٹ ہے۔ یو این ویمن نے خوراک اور نقد امداد کے ساتھ ساتھ غذائیت، تحفظ، روزگار کے ذرائع اور زرعی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے نے یہ بھی زور دیا کہ وسائل ان علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں جہاں خواتین اور لڑکیوں کو متعدد اور ایک دوسرے سے جڑے خطرات کا سامنا ہے، اور یہ امداد بروقت پہنچائی جائے، خصوصاً زرعی موسم شروع ہونے سے پہلے۔