Inquilab Logo Happiest Places to Work

میلان، اٹلی: فلسطینی بچوں کی یاد میں مارچ، ہزاروں ناموں والا ۹۹؍ فٹ کفن اٹھایا

Updated: June 06, 2026, 9:04 PM IST | Milan

اٹلی کے شہر میلان میں سیکڑوں افراد نے غزہ میں ہلاک ہونے والے فلسطینی بچوں کی یاد میں ایک منفرد اور علامتی احتجاجی مظاہرہ کیا۔ شرکاء نے ۲۷؍ میٹر (۹۹؍ فٹ) طویل ایک کفن اٹھایا جس پر ہزاروں فلسطینی بچوں کے نام درج تھے۔ یہ مظاہرہ میلان کے مرکزی چوک میں واقع ڈوومو دی میلانو کے سامنے منعقد ہوا، جہاں مظاہرین نے خاموشی اختیار کرکے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں شرکاء نے کفن کے ساتھ ایک خاموش مارچ کیا اور غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اٹلی کے شہر میلان میں جمعہ کو سیکڑوں افراد غزہ میں ہلاک ہونے والے فلسطینی بچوں کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک خاموش احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئے۔ مظاہرین نے شہر کے تاریخی مرکز میں ایک علامتی کفن اٹھایا جس پر ہزاروں فلسطینی بچوں کے نام درج تھے، اور اسے غزہ میں انسانی جانوں کے ضیاع کی علامت قرار دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق احتجاج کا آغاز Duomo di Milano کے سامنے ہوا، جہاں شرکاء نے ۲۷؍ میٹر (۹۹؍ فٹ) طویل کفن آویزاں کیا۔ منتظمین کے مطابق اس کفن پر ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے ۳۱؍ جولائی ۲۰۲۵ء کے درمیان غزہ میں شہید ہونے والے ۱۸؍ ہزار ۴۵۷؍ فلسطینی بچوں کے نام تحریر کیے گئے تھے۔ کفن کی نقاب کشائی سے قبل مظاہرین نے مکمل خاموشی اختیار کی اور متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مظاہرے کے دوران فلسطینی پرچم اور روایتی کیفیہ بڑی تعداد میں دکھائی دیے، جبکہ شرکاء نے کسی نعرے بازی کے بجائے خاموش احتجاج کو ترجیح دی۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ اس علامتی کفن کا مقصد ان بچوں کی یاد کو زندہ رکھنا ہے جو غزہ میں جاری تنازع کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس مظاہرے کے منتظمین نے بتایا کہ یہ اقدام پہلی بار اکتوبر ۲۰۲۴ء میں اٹلی اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے فٹ بال میچ کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ علامتی کفن اٹلی بھر کے ۳۰؍ سے زائد عوامی مقامات اور چوک میں نمائش کے لیے پیش کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حبرون کے قریب اسرائیلی فائرنگ میں۷؍ ماہ کا فلسطینی شیرخوار بچہ ہلاک، والدین زخمی

مظاہرے کے اگلے مرحلے میں شرکاء نے کفن کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور ایک خاموش مارچ کی صورت میں Castello Sforzesco کی جانب روانہ ہوئے۔ اس مارچ کا مقصد مہلوکین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ میں جاری جنگی کارروائیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا تھا۔ منتظمین کے مطابق احتجاج میں شریک افراد نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بچوں کی ہلاکتیں کسی بھی تنازعے کا سب سے المناک پہلو ہوتی ہیں اور عالمی ضمیر کو اس صورتحال پر توجہ دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر گوشت کی فراہمی میں ۱۹۶۱ء کے بعد سے چار گنا اضافہ: رپورٹ

واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ فلسطینی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران تقریباً ۷۳؍ ہزار فلسطینی شہید اور ۱۷۳؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود تشدد کے واقعات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی مختلف حملوں میں ۹۴۷؍  فلسطینی جاں بحق اور ۲۹۳۵؍سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ میلان میں ہونے والا یہ مظاہرہ یورپ میں غزہ کے حوالے سے جاری عوامی سرگرمیوں کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف ممالک میں شہری تنظیمیں اور انسانی حقوق کے کارکن فلسطینی شہریوں، خصوصاً بچوں، کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK